فہمیدہ مرزا اور میرا کمار جمہوریت کے دو تحفے

جمہوریت صرف ملک کی خوشحالی اور استحکام کی ہی ضمانت نہیں،خطے میں بھی پائیدار ترقی اور مستحکم تعلقات کی ضمانت بنتی ہے۔


Zahida Hina November 06, 2012
[email protected]

اسلام آباد کے انڈین ہائی کمیشن کے ایک ادب دوست افسر جناردھن سنگھ کا ایک ہفتہ پہلے فون آیا۔ کہنے لگے ہندوستانی لوک سبھاکی اسپیکر میرا کمار صاحبہ چھٹی سارک اسپیکرز کانفرنس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آرہی ہیں۔ ان سے آپ کی یاد اﷲ ہے۔ اگر آپ ملاقات کے لیے اسلام آباد آسکیں۔

اس دعوت کے لیے میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور انھیں بتایا کہ 'ہنس' رسالے کی کانفرنس کے اختتام پر 31 جولائی کو دلی میں میرے ساتھ جو چھوٹا سا حادثہ ہوا تھا اس کی وجہ سے میں ابھی تک اپنے کمرے میں قید ہوں۔ درد رفتہ رفتہ کم ہورہا ہے لیکن ابھی ڈاکٹروں نے سفر کی اجازت نہیں دی ہے۔ انھیں میرا سلام کہیے اور بتادیجیے کہ ان سے ملاقات ابھی ممکن نہیں ہوسکے گی۔ یہ پیغام بھیجنے کے بعد دل کو ملال رہا۔ میرا جی اس قدر شائستہ اور شیریں زبان ہیں کہ ان سے ملاقات یادگار رہتی ہے۔ وہ اردو کے شعر اور ہندی کے دوہے برمحل اور برجستہ سناتی ہیں۔

ان سے اپریل 2012 میں ایک ملاقات لوک سبھا کے اسپیکر چیمبرز میں ہوئی تھی۔ اس میں وہ اس بات پر خوش ہوتی رہیں کہ میرا تعلق بھی نہ صرف ان کی جنم بھومی سے ہے بلکہ ان کے والد جگ جیون رام جی کا حلقہ انتخاب وہ علاقہ ہے جہاں آج بھی میرا ننہیال آباد ہے۔ میرا جی نے جب 1985 میں عملی سیاست میں قدم رکھا تو سہسرام کے اسی حلقے سے انتخاب لڑا اور اب تک وہاں سے 5 مرتبہ منتخب ہوئی ہیں۔ وہ ہندوستان کی پہلی خاتون اسپیکر ہیں اور ان ہی کی طرح ہماری محترمہ فہمیدہ مرزا کو پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کی خاتون اسپیکر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ میرا جی پہلی مرتبہ اسی سال فروری میں سارک کانفرنس میں اسلام آباد آئیں تو 26 فروری کو میں نے ''ڈیڑھ ارب انسانوں کی دو نمایندہ خواتین'' کے عنوان سے کالم لکھا تھا۔

میرا جی نے اپریل کی ملاقات میں مجھے دعوت دی تھی کہ جب میں دلی آئوں تو ان کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر سندیپ کھنہ کو پہلے سے بتادوں تاکہ سہسرام کا سفر ہم ایک ساتھ کرسکیں۔ یہ ان کی دلداری کا ایک حسین رنگ تھا۔سارک ایک ایسی علاقائی تنظیم ہے جسے پاکستان اور ہندوستان دونوں نے اپنے تنازعات کے سبب وہ اہمیت نہیں دی جو اس تنظیم کو دی جانی چاہیے تھی حالانکہ یہ دونوں ملک اس علاقائی تنظیم کے سب سے اہم رکن ہیں اور خطے کی ترقی، خوشحالی اور بہتر تعلقات کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں ایسے سخت گیر اور پرانی روش پر قائم عناصر ہیں جنھیں دوستی اور دوست داری سے خوف آتا ہے۔ حالیہ چھٹی سارک پارلیمنٹرین کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے بجا طور پر یہ کہا کہ جمہوریت وہ بنیادی شرط ہے جو کسی ملک کی اقتصادی، سیاسی استحکام، امن اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

انھوں نے سارک ملکوں سے آئے ہوئے اراکین پارلیمنٹ سے کہا کہ یہ ان کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو بڑھاوا دینے کی کوشش کریں تاکہ امن کا پودا سرسبز ہوسکے اور خطے میںترقی اور خوشحالی کو استحکام حاصل ہو۔

دنیا کا ہر شخص اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ اگر سرحدوں پر توپیں آگ اگل رہی ہوں تو یہ ممکن نہیں کہ تجارتی سامان ایک ملک سے دوسرے ملک کا رخ کرسکے اور یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ جنگ اور تنازعات کی صورت میں تجارت پر تالے پڑجاتے ہیں اور اندرونی خلفشار اور بدامنی کے نتیجے میں سرمایہ ملک سے فرار ہونے لگتا ہے۔

صدر مملکت نے سارک ممالک کے درمیان منشیات کی غیر قانونی تجارت کے علاوہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو سختی سے روکنے کی کوششوں پر اصرار کیا۔ انھوں نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے ملکوں کو یاد دلایا کہ سارک تنظیم کے رکن ملکوں میں سے یہ پاکستان ہے جس نے دہشت گردی کی سب سے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ اس کے 40 ہزار شہری جان سے گئے ہیں، اسے اقتصادی میدان میں 80 ارب روپوں کا نقصان ہوا ہے اور اس کے شہریوں سے ترقی سے ترقی کے بے شمار مواقعے چھن گئے ہیں۔ انھوں نے یہ بات بھی یاد دلائی کہ ہیروئن کا مہلک نشہ بین الاقوامی برادری کے بعض اراکین نے ایجاد کیا تھا جسے انھوں نے خطے میں نظریاتی مخالفین کے خلاف استعمال کیا۔ اس نظریاتی جنگ کے خاتمے کے بعد بھی یہ مہلک ہتھیار ختم نہیں ہوا ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اس ہتھیار کو نابود کرنے کے لیے اپنی تمام کوششیں اور وسائل استعمال کریں۔ انھوں نے خطے میں غذائی تحفظ کو ممکن بنانے پر بھی زور دیا۔

قصر صدر میں میر اکمار جی سے صدر مملکت نے ایک خصوصی ملاقات کی جس میں دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو زیادہ سے زیادہ بہتربنانے پر زور دیا اور ان تنازعات کے حل کی طرف پیش قدمی پر بھی اصرار کیا جو دونوں ملکوں کے درمیان موجود ہیں اور وقتاً فوقتاً ان کے درمیان تلخی کا سبب بنتے ہیں۔ میرا جی سے ملاقات میں زرداری صاحب دلی اور اجمیر شریف کے سفر کو یاد کرتے رہے جہاں ان کی گرم جوشی سے پذیرائی کی گئی تھی۔

بات دراصل یہ ہے کہ جمہوریت صرف ملک کی خوشحالی اور استحکام کی ہی ضمانت نہیں، یہ خطے میں بھی پائیدار ترقی اور مستحکم تعلقات کی ضمانت بنتی ہے۔ اس حوالے سے ہم میاں نواز شریف کی اس پیش قدمی کو فراموش نہیں کرسکتے جو انھوں نے اپنے دور اقتدار میں کی تھی۔ یہی سبب تھا کہ اس وقت کے ہندوستانی وزیراعظم اٹل بہاری باجپائی لاہور تشریف لائے تھے اور دو طرفہ تعلقات اور تجارت کے حوالے سے معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے۔ یہ دوستانہ معاہدے ہماری سول اور ملٹری بیورو کریسی کو جس قدر گراں گزرے تھے، اس کا نتیجہ کارگل ایڈونچر کی صورت میں سامنے آیا۔ جنرل پرویز مشرف جسے اپنا ایک عظیم کارنامہ سمجھ رہے تھے، وہ ہمارے لیے جس قدر ذلت اور بین الاقوامی سطح پر سبکی کا سبب بنا اس کو بار بار دہراتے ہوئے شرمندگی ہوتی ہے۔

گزشتہ 5 برس سے پاکستان میں ایک منتخب جمہوری حکومت برسر اقتدار ہے اور وہ ممبئی حملے کا وار سہہ کر بھی دونوں ملکوں کے درمیان امن قائم کرنے اور دو طرفہ بہتر تعلقات کو فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف ہے جمہوریت پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کے شہریوں کے دکھوں کا مداوا کرتی ہے۔ اسی لیے تمام جھگڑوں کے باوجود پاکستان کی حزب اختلاف اور حزب اقتدار نے اپنے اختلافات کو ایک حد سے نہیں بڑھنے دیا۔ عدلیہ نے بھی جمہوریت کی گاڑی کو پٹری سے اتارنے کو ملک کے لیے زہر قاتل سمجھا اور اب یہ اُمید نظر آرہی ہے کہ اگلے انتخابات تک جمہوری دور قائم رہے گا اور اس کے بعد پُرامن طور پر اقتدار کی منتقلی ہوسکے گی۔

یہاں ہمیں ہندوستانی جمہوریت سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کے مسائل ہم سے کہیں زیادہ ہیں۔ وہاں مذاہب کی اور ثقافت کی ایک ایسی رنگا رنگی ہے جس میں تصادم کا ہونا اور تنازعات کا پیدا ہونا، حیرت کی بات نہیں۔ نسلی اور مذہبی کثرت کے ساتھ ہی ہندوستان ایک ایسا کثیر اللسانی ملک ہے جس کی تفصیل میں جائیں تو حیرت ہوتی ہے لیکن بابا صاحب امبیدکر نے جس جان فشانی اور وسیع القلبی سے ہندوستانی آئین تشکیل دیا یہ اسی کا ثمر ہے کہ یہ ملک دنیا کی عظیم جمہوریہ کہلاتا ہے۔

جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لیے بابا صاحب امبیدکر کے ساتھ ہی بابو جگ جیون رام کی خدمات بھی فراموش نہیں کی جاسکتیں جو اپنی شریک حیات اندرانی دیوی کے ساتھ جنگ آزادی میں مصروف رہے۔ جگ جیون رام جی 1908 میں میں بہار کے ضلع شاہ آباد میں پیدا ہوئے جو اب بھوج پور کہلاتا ہے۔ جگ جیون رام جی 6 برس کی عمر میں یتیم ہوئے ۔ ان کی ماں خود کسی اسکول اور کالج کی تعلیم یافتہ نہیں تھیں لیکن علم کی اہمیت سے بخوبی واقف تھیں۔ انھوں نے پران تیاگنے والے اپنے شوہر سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہر قیمت پر انھیں تعلیم دلائیں گی۔

ان کی تعلیمی کارکردگی اس قدر اعلیٰ تھی کہ امریکن مشن کی راہبائوں نے ان کی ماں سے کہا کہ وہ بیٹے کو ان کے سپرد کریں۔ وہ لکھنو میں ان کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد انھیں امریکا بھجوادیں گی۔ اس سے پہلے وہ بنارس ہندو یونیورسٹی کے طالب علم رہے اور اس کے بعد مختلف تعلیمی اداروں سے وابستہ ہوئے اور ہر جگہ کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ تحریک آزادی میں انھوں نے بڑھ چڑھ کر سرگرمی سے حصہ لیا۔ انھوں نے 1936 سے اپنا پارلیمانی سفر شروع کیا جو دنیا میں آج بھی ایک ریکارڈ ہے۔ وہ سہسرام سے لوک سبھا کے الیکشن لڑتے رہے اور دس مرتبہ اس میں کامیاب ہوئے۔

انھوں نے متعدد وزارتوں کو سنبھالا لیکن وزیر ہونا تو کوئی خاص بات نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ انھوں نے لوگوں کے دلوں میں گھر کیا اور آج بھی وہ بابو جی کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔ ہندوستانی جمہوریت کو ان کا سب سے بڑا تحفہ میرا کمار ہیں جنہوں نے ایم اے کرنے کے ساتھ ہی قانون کی تعلیم حاصل کی اور پانچ مرتبہ سہسرام سے ہی لوک سبھا کی رکن منتخب ہوئیں اور اب اس کی خاتون اسپیکر کے طور پر ہماری مہمان ہوئی ہیں۔ ہم انھیں اور سارک ممالک کے تمام پارلیمانی اراکین کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

مقبول خبریں