جمہوریت کا دودھ عوام کی مکھی

ہماری سیاست 68 سال سے جمہوریت اور آمریت کے جس محور پر گردش کر رہی ہے،

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

ہماری سیاست 68 سال سے جمہوریت اور آمریت کے جس محور پر گردش کر رہی ہے، اس کا پہلا اور آخری مقصد ذاتی اور جماعتی مفادات کے سوا کچھ نہیں۔ جمہوریت کا مرکزی کردار عوام ہوتے ہیں، جو صرف 5 سال بعد ایک بار پولنگ اسٹیشنوں پر لمبی لمبی لائنوں میں کھڑے نظر آتے ہیں، اس کے بعد ان بے چاروں کو دودھ کی مکھی کی طرح اپنے ارد گرد سے نکال کر اس قدر دور پھینک دیا جاتا ہے کہ ان کی آواز اقتدار کے ان ایوانوں تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔

اس حوالے سے سرمایہ دارانہ، جاگیردارانہ جمہوریت کا سب سے بڑا فراڈ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو عوام کی حکومت کہتی ہے۔ترقی یافتہ ملکوں میں تو کسی حد تک عوام کا عمل دخل ہوتا ہے لیکن غریب ملکوں میں کچھ نہیں ہوتا۔ہماری رائج الوقت جمہوریت کے تحفظ کے لیے اس جمہوریت کے عالی مرتبت حکام بالا اصلاحات اور ترقی کا ڈھنڈورا اتنی تیز آواز میں پیٹتے ہیں کہ ترقی اس بے ڈھنگے اور پرفریب شور میں گم ہوکر رہ جاتی ہے۔ مثلاً عشروں پہلے ''موٹروے'' کا ڈھول اتنی شدت سے پیٹا گیا کہ ہر سادہ لوح بندہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگیا کہ موٹروے عوامی مفاد کا کوئی ایسا بڑا کام ہے۔

جس پر عوام کی محنت کی کمائی کے اربوں روپے خرچ کردیے گئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کی 95 فیصد آبادی اب تک ترقی کے اس مینار کے دیدار تک سے محروم ہے اور سچی بات یہ ہے کہ ہم مسمی ظہیر اختر بیدری اب تک ترقی کے اس نادر شاہکار کے دیدار سے اس لیے محروم ہیں کہ ہمارا سفر شہر کے اندر منی بسوں، بسوں، رکشاؤں تک محدود ہے۔ موٹروے پر چلنے والی گاڑیوں اور ان میں سفر کرنے والی قسم سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ کیا جمہوریت کا کوئی دانشور موٹروے کی عوامی افادیت پر روشنی ڈال سکتا ہے۔

آج کا اخبار میرے سامنے ہے، میں نے اس اخبار سے کچھ خبروں کا انتخاب کیا ہے، جن میں سیاستدانوں کے حکومت اور اپنے ''ہم پیشہ'' سیاستدانوں کے خلاف بیانات اور الزامات شامل ہیں ۔ ایک خبر کے مطابق سندھ کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے فرمایا ہے کہ ''وزیر اعظم ہمیں اتنا تنگ کریں جتنا وہ برداشت کرسکتے ہیں۔'' اس شاعرانہ بیان کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم اقتدار میں آئیں گے تو ہم آپ پر جتنا عرصہ حیات تنگ کریں گے وہ آپ کی برداشت کے اندر ہو۔ اس کا دوسرا مطلب سلیس سیاست میں یہ ہے کہ آپ اپنے مظالم کو حدود کے اندر رکھیں، ورنہ جوابی مظالم آپ کی برداشت سے باہر ہوں گے۔


دوسری خبر کے مطابق سائیں سید قائم و دائم علی شاہ نے اپنے آبائی شہر خیرپور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ''وفاق آئین کے تحت سندھ کا حق دے ورنہ ہم خود لے لیں گے۔'' تیسری خبر کے مطابق تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے شاہ رکن عالم کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ ''بلاول بچے! آداب سیکھیں، مجالس پر تنقید نہ کریں۔'' ایک اور خبر کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی نے فرمایا ہے کہ ''حکمرانوں نے ملک کو ''فار سیل'' لگایا ہوا ہے، قومی ادارے فروخت کیے جا رہے ہیں، غلط پالیسیوں کی وجہ سے لگ رہا ہے 2016 الیکشن کا سال ہوگا۔''

ایک اور خبر کے مطابق عمران خان نے فرمایا ہے کہ ''(ن) لیگ ملک کو بادشاہی انداز میں چلا رہی ہے، میٹرو ٹرین اصل میں کمیشن کا منصوبہ ہے۔'' ایک اور خبر میں خورشید شاہ نے فرمایا ہے کہ ''حکومت جب پھنستی ہے تو اسے ایوان یعنی قومی اسمبلی یاد آتی ہے، وفاقی حکومت بڑے بڑے ایشوز پر پارلیمنٹ سے باہر فیصلے کرکے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ نہیں کسی اور کے تابع ہے''۔میں نے یہاں جمہوریت کے علماء کے چند فرمودات کا ذکر کیا ہے۔

ہماری حزب اختلاف کے خورشید شاہ آئے دن حکومت وقت کی کوتاہیوں کو طشت ازبام کرتے رہتے ہیں۔ محترم کے جس بیان کا حوالہ ہم نے اوپر دیا ہے، اس میں انھوں نے کہا ہے کہ حکومت جب پھنستی ہے تو اسے پارلیمنٹ یاد آتی ہے۔ شاہ صاحب نے یہ نہیں فرمایا کہ حکومت کی مائی باپ جمہوریت جب کہیں پھنستی ہے تو ساری سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ ہاؤس یاد ہی نہیں آتا بلکہ اس کے مکین اس معزز ہاؤس میں دھرنا لگا دیتے ہیں۔

میں نے کالم میں جن سیاستدانوں کے بیانات کا ذکر کیا ہے، ان میں کسی ایک کے بیان میں بھی اس بات کا ذکر نہیں کہ آٹا 50 روپے کلو کیوں ہورہا ہے۔ چینی 50 روپے سے چھلانگ لگا کر 70 روپے تک کیسے پہنچ گئی، کسی سیاستدان کے بیان میں یہ نہیں کہا گیا کہ تیل اور گھی جو فوجی آمروں کے دور میں 50-60 روپے کلو ملتے تھے اب 180-170 روپے کلو مل رہے ہیں، کسی سیاستدان کے بیان میں اس بات کا ذکر نہیں ملتا کہ پیاز 60 روپے، اروی 80 روپے، بھنڈی 70 روپے کلو کیوں فروخت ہو رہی ہیں؟

کسی سیاستدان کے بیان میں یہ سوال نہیں اٹھایا جاتا کہ بڑے کا گوشت 500 اور بکرے کا گوشت 700 روپے کلو عوام کس طرح خرید سکتے ہیں؟ کسی سیاستدان کے بیان میں اس بات پر تشویش کا اظہار نہیں ملتا کہ لیڈیز کا ایک معمولی سوٹ جو پہلے600-700 میں ملتا تھا اب دو اور تین ہزار میں کیوں مل رہا ہے۔ کسی سیاستدان کے بیان میں اس بات پر تشویش کا اظہار نہیں ملتا کہ دودھ 80 روپے لیٹر کیوں مل رہا ہے؟ کسی سیاستدان کے بیان میں اس بات کا ذکر نہیں ملتا کہ جوتوں کی قیمت 500 سے 5000 تک کیسے پہنچ گئی؟ کسی سیاسی اہلکار کے بیان میں اس بات پر تشویش کا اظہار نہیں ملتا کہ رشوت کے ریٹ میں 100 فیصد سے 200 فیصد تک اضافہ کیوں ہوگیا ہے؟
Load Next Story