دو محسن مُنشی اور صرّاف

اس کے ساتھ ہی پرانی داستانیں بھی موجود ہیں۔ سب منشی نولکشور کے مطبع کی چھپی ہوئی

zahedahina@gmail.com

وہ شخص جو اب سے 180 برس پہلے پیدا ہوا اور 69برس کی زندگی گزار کر راہی ملک عدم ہوا، اس کے ہندوستانی مسلمانوں پر کیسے احسانات ہیں، اس بارے میں آج کی نسل کم کم جانتی ہے۔1857ء کے ہنگامہ داروگیر میں مغل سلطنت خون کے دریا میں بتاشے کی طرح گھل گئی اور مشرقی علوم و فنون کا کوئی والی وارث نظر نہیں آتا تھا۔ ایسے میں ایک نوجوان نے معجزہ کر دکھایا۔کہنے کو وہ تجارت کررہا تھا لیکن اس تجارت کے وسیلے سے وہ علم و ادب کی خدمت پر جس طرح کمربستہ ہوا، اس کا کسی کے ذہن میں تصور بھی نہ تھا۔ اس بارے میں سید میر حسن نورانی نے بلاکم و کاست لکھا ہے کہ:

''منشی نولکشور نے یہ کام اس وقت شروع کیا جب 1857ء کے انقلاب پر صرف ایک سال گزرا تھا اور اس کے تباہ کن اثرات نے علمی مراکز اور بڑے بڑے کتب خانوں کو برباد کردیا تھا۔ علمی محفلیں ویران ہوگئی تھیں اور ماہرین علوم و فنون شدید معاشی بحران کا شکار تھے۔ اہل علم و ادب میں انتشار پیدا ہوگیا تھا۔ اس وقت منشی نول کشور نے ایک طرف علوم و فنون کے احیاء کی کوشش ایک تجارتی ادارے کی آڑ لے کر شروع کی اور دوسری طرف علماء و فضلا اور عام فنکاروں کو سہارا دے کر ایک مرکز پر جمع کیا اور ان کی خدمات مطبع کے لیے حاصل کیں اور ان کے لیے ذریعہ معاش پیدا کیا تاکہ وہ اطمینان سے علمی ذخیرے میں اضافہ کریں اور ملک میں تعلیم کی توسیع ہو''۔

بہت کم عمری سے میں اس نوجوان کے سحر میں اسیر رہی اور کیوں نہ ہوتی کہ اس کی نگرانی میں سیکڑوں قرآن اور دوسری مذہبی کتابوں کے علاوہ اردو کی شاندار اور جادو اثر داستانوں نے مسلمان گھروں تک رسائی پائی۔ الف لیلہ، طلسم ہوشربا کی متفرق جلدیں، بوستان خیال ، فسانہ آزاد اور کئی دوسری کتابیں جو امّی کی تھیں، وہ سب کی سب مطیع نول کشور کی چھاپی ہوئی تھیں۔

یہ داستانیں اور سیکڑوں دوسری کتابیں جو ساٹھ ستر برس سے مفقود الخبر تھیں، ان کا کھوج دو برس پہلے ریختہ ڈاٹ کام سے ملا۔ کیا نئے، کیا پرانے سب ہی شعراء اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی پرانی داستانیں بھی موجود ہیں۔ سب منشی نولکشور کے مطبع کی چھپی ہوئی۔ ان نایاب کتابوں کو تلاش کیا گیا اور پھر انھیں اسکین کرکے ریختہ ڈاٹ کام کے سپرد کردیا گیا۔ مجلس ترقی ادب لاہور کا دیوان شیفتہ، امیر خسرو کا ہندوی کلام 'فنون کا غزل نمبر' مولانا محمد حسین آزاد کی آب حیات، کلیات قائم چاند پوری، نیّر مسعود کے افسانے، کرشن چندر کا 'سمندر دور ہے' 'ای بکس' کی فہرست دیکھیے تو عقل حیران رہ جائے۔

17082 کتابیں، 18030غزلیں اور 13111 شعر ریختہ ڈاٹ کام میں سانس لے رہے ہیں۔ ایک طرف کافکا کے افسانے ہیں اور ساتھ ہی مارکس اینگلس کا کمیونسٹ مینی فیسٹو، اپنے ایک مجموعے کی جھلک بھی نظر آئی۔ یا مظہرالعجائب بے اختیار منہ سے نکلا اور پھر اس بات کی تلاش ہوئی کہ آخر یہ کارنامہ کس نے انجام دیا ہے۔

خاصی تگ و دو کے بعد معلوم ہوا کہ ایک صاحب ہیں نام جن کا سنجیو صراف ہے۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر اور ایک بہت کامیاب صنعت کار۔ اب سے دس برس پہلے تک انھوں نے گھر کی شعری نشستوںمیں غزلیں سنی تھیں۔ بیگم اختر، جگجیت، اقبال بانو، مہدی حسن اور دوسرے بہت سے، پھر وہ مرزا غالب کے سحر میں گرفتار ہوئے اور آج تک اس سے آزاد نہ ہوسکے۔

ناگ پور میں اب سے ستاون برس پہلے پیدا ہوئے۔ والد کے کاروبار کو سنبھالا آگے بڑھایا اور جب کاروبار بہت ترقی کرچکا تو اسے ان لوگوں کے سپرد کیا جو ان کے خیال میں کاروبار کو بہت اچھی طرح آگے کی طرف لے جاسکتے تھے اور خود کو اردو ادب کے فروغ کی خاطر وقف کردیا۔ ان سے ٹائمز آف انڈیا کی نمایندہ کلپنا شرما نے جب یہ پوچھا کہ پہلے ریختہ فاؤنڈیشن اور پھر جشن ریختہ کا خیال انھیں کیسے آیا تو ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں اردو، خیالات و جذبات کو بیان کرنے میں بے مثال ہے۔

اس میں آپ گہرائی سے جذبات کا اظہار کرسکتے ہیں۔ یہ لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے، انھیں آپس میں جوڑتی ہے۔ صرف دو مصرعوں میں ہر نوعیت کے جذبات اور خیالات کو بیان کردینا، کمال کی بات ہے۔ یہ ہر عمر، علاقے، مذہب اور سرحدوں کے لحاظ کے بغیر لوگوں کو جوڑتی ہے۔ یہ محض ایک زبان نہیں، تہذیب ہے۔


ان کا کہنا ہے کہ وہ اس زبان کے حسن کو لوگوں تک پہنچانا چاہتے ہیں اور کچھ لوگوں کے اس تاثر کو ختم کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ایک محدود زبان ہے۔ میں لوگوں پر یہ بات عیاں کرنے کی خواہش رکھتا ہوں کہ یہ زبان ہماری سرزمین پر پیدا ہوئی اور یہیں پلی بڑھی۔ یہ ہماری ہے۔ ریختہ فاؤنڈیشن بنانے سے پہلے وہ اردو رسم الخط نہیں جانتے تھے لیکن پھر انھوں نے اردو سیکھی اور اب روانی سے اردو پڑھتے ہیں۔

مُنشی نولکشور اور سنجیو صراف کا اردو سے عشق تو ایک جیسا ہے لیکن اس میں بنیادی فرق یہ ہے کہ منشی جی نے اردو فارسی اور عربی میں جو کتابیں ہندوستان کے علاوہ ایران، افغانستان اور ترکی میں پھیلائیں، وہ ان کے کاروبار کی توسیع تھی جب کہ سنجیو اپنی کمائی ہوئی دولت اس کے فروغ پر صرف کررہے ہیں۔ 2013 سے ہی سنجیو صراف کی خدمات کا اعتراف کیا جانے لگا تھا اور انھیں 'نئی دنیا' اور دہلی اردو اکیڈمی کے ایوارڈ دیے گئے۔

2015ء سے انھوں نے جشن ریختہ کا آغاز کیا اور فروری 2016ء میں دوسرے جشن ریختہ کا اہتمام کیا جس میں ہندوستان ، پاکستان اور دوسرے ملکوں سے آنے والے ادیب، شاعر اور فنکار شریک ہوئے۔ اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس کی وسعت میں اسٹیج لان اور آڈیٹوریم میں ہونے والے پروگراموں کے علاوہ کتابوں کے اسٹال، کھانے پینے کی چیزوں کا اہتمام اور دست کاری کی اشیاء بھی فروخت ہورہی تھیں۔ متعدد مشہور شاعر اور ادیب ایک دوسرے سے گھلتے ملتے نظر آرہے تھے۔

یہاں جیلانی بانو اور انامیکا تھیں، کرشنا سوبتی تھیں جو ہندی کی شاید سب سے بڑی فکشن لکھنے والی ہیں، پچھلے دنوں ان کا ناول ''دل ودنیا'' شایع ہوا تو اس کا ار دو ترجمہ بھی فوراً ہی سامنے آگیا جس نے اردو والوں کا دل لوٹ لیا۔ مشہور نقاد گوپی چند نارنگ ، شمیم حنفی، شمس الرحمان فاروقی اپنے اپنے سیشن میں جلوہ افروز تھے۔ اسد محمد خان اپنی کہانی سنارہے تھے، ثانیہ سعید بھی اپنی پڑھت کا ہُنر دکھا رہی تھیں۔ آصف فرخی، شکیل عادل زادہ، حمید شاہد، شاہد رسام اور سرمد کھوسٹ نمایاں نظر آرہے تھے۔ دیو ناگری میں اردو شاعری اور افسانہ خریدنے والوں کی کمی نہ تھی۔

میں اپنے ہندی پبلشر وانی پر کاشن کے اسٹال پر کھڑی ہوئی تھی کہ کسی کی آواز آئی 'پروین شاکر کی خوشبو دے دو'۔ اسی وقت کسی نے کہا ' میرے لیے بھی ایک جلد نکال دو'۔ میرا جی شاد ہوا۔ پروین ہمارے درمیان سالہا سال سے موجود نہیں لیکن ان کی شاعری اردو رسم الخط کے علاوہ ہندی میں بھی خوب بکتی ہے۔ اسی طرح قرۃالعین حیدر، عصمت چغتائی، جیلانی بانو اور واجدہ تبسم کے ناول اور افسانوی مجموعے بھی زور و شور سے فروخت ہورہے تھے۔ میری ہندی کتابیں بھی خریدی جارہی تھیں۔ شاعروں کی کلیات اور انتخاب خریدنے والے بھی موجود تھے اور یہ تمام کتابیں دیوناگری میں تھیں۔

افتتاح کے فوراً بعد سب سے زیادہ ہجوم ایک داستانِ رومان، سننے والوں کا تھا شبانہ اعظمیٰ اور جاوید اختر نے اپنے والدین کی یہ رومانوی کہانی سنائی اور لوگوں سے داد سمیٹی۔ ہزاروں کا مجمع مکالموں کی داد دیتا رہا۔ ان ہزاروں میں اکثریت غیر مسلموں کی تھی اسی طرح دوسرے دن گلزار صاحب سے گفتگو سکریتا پال نے کی اور ہزاروں لوگ نہایت توجہ سے ان کی باتیں سنتے رہے۔

جگن ناتھ آزاد کی بیٹی مکتا مجھ سے خاص طور پر ملنے کے لیے آئیں، وہ اپنے والد اور اپنے داد تلوک چند محروم پر کام کررہی ہیں۔ بینا سرور نے انھیں بتایا کہ میں نے چند مضامین ان کے والد پر تحریر کیے ہیں۔

سب انٹرنیٹ کے کرشمے ہیں کہ ہزاروں میل دور بیٹھی ہوئی بینا سرور مکتا سے جڑی ہوئی ہیں۔ ایک شام ارون مہیشوری نے نیوی کلب میں رکھی۔گلزار صاحب اس محفل کے دلہا تھے۔ سکریتا پال معروف افسانہ نگار جوگندر پال کی بیٹی ہیں، ان سے میری برسوں پرانی دوستی ہے، سکریتا سے باتیں کرکے بہت لطف آیا۔ اسی طرح ہندی اردو کی ایک معروف فکشن رائٹر ناصرہ شرما نے اپنے پبلشر بہل جی کے اشتراک سے میرے ساتھ ایک گفتگو رکھی جس میں ہندی کی شاعرہ انامکا اور تاریخ کی پروفیسر اوما مکھرجی بھی شریک تھیں۔

یہ جشن جس اہتمام سے شروع ہوا تھا، اسی شان سے اختتام پذیر ہوا۔ پاکستانی ہائی کمشنر اور ان کی بیگم نے پاکستان سے آنے والے 'ریختہ' کے مہمانوں اور چند دوسرے معززین شہر کی دوپہر کے کھانے پر میزبانی کی۔ سنجیو صراف اور شمیم حنفی اس دعوت میں شریک تھے۔ اور سنجیو یہ کہہ رہے تھے کہ اردو ایک بہتا ہوا دریا ہے میں نے جس میں ابھی صرف اپنی انگلیاں ڈبوئی ہیں۔ ابھی تو بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ میں واپسی کے سفر میں سوچ رہی تھی کہ واقعی اس میں کوئی کلام نہیں کہ اردو کے اصل محسن وہ ہیں جن کی مادری زبان اردو نہیں ہے۔
Load Next Story