اسٹاک آپشن اسکیم کا نیا ڈیویڈنڈ میکنزم منظور کرلیا گیا
ملازمین کویکساں فائدہ دینے کیلیے اسکیم میں خامیاں دور کی جائیں، وفاقی وزیر خزانہ
نجکاری کمیٹی کااجلاس، ڈیویڈنڈ ادائیگی 10 لاکھ روپے فی ملازم تک محدود کردی گئی۔ فوٹو فائل
ISLAMABAD:
کابینہ کی نجکاری کمیٹی(سی سی او پی) نے بینظیر ایمپلائز اسٹاک آپشن اسکیم کا تمام ملازمین کو یکساں فائدہ پہنچانے کیلیے ڈیویڈنڈ کی تقسیم کے نئے میکنزم کی منظوری دیدی ہے۔
کابینہ کی نجکاری کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر خزانہ نے تمام ملازمین کو یکساں فائدہ پہنچانے کیلیے اسکیم میں خامیاں دور کرنے کی ہدایت کی۔ سیکریٹری نجکاری نے بے نظیر اسٹاک آپشن اسکیم کے مجوزہ میکنزم کے بارے میں سفارشات پر مبنی رپورٹ پیش کی جس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اسکیم کے فوائد 14 اگست 2009 کے بعد متعلقہ سرکاری ادارے میں تعینات ہونے والے ملازمین کو دیے جائیں گے اور ملازمین کو کلیمز کی ادائیگی کیلیے مجموعی ڈیویڈنڈ کا 50 فیصد کے بجائے 75 فیصد سینٹرل ریوالونگ فنڈ میں ٹرانسفر کیا جائیگا۔
جبکہ باقی ماندہ 25 فیصد ڈیویڈنڈ کی رقم متعلقہ ادارے کے تمام ملازمین میں تقسیم کی جائے گی، اس کے علاوہ کمیٹی نے ڈیویڈنڈ کی مد میں ملازمین کو رقوم کی ادائیگی کو 10 لاکھ روپے فی ملازم تک محدود کردیا ہے جس کے تحت آئندہ وہ تمام سرکاری اداروں کے ملازمین جنہیں بینظیر ایمپلائز اسٹاک آپشن سکیم کے تحت سرکاری اداروں کے حصص ملے ہیں انہیں ڈیویڈنڈ کی مد میں زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے مل سکیں گے۔
کابینہ کی نجکاری کمیٹی(سی سی او پی) نے بینظیر ایمپلائز اسٹاک آپشن اسکیم کا تمام ملازمین کو یکساں فائدہ پہنچانے کیلیے ڈیویڈنڈ کی تقسیم کے نئے میکنزم کی منظوری دیدی ہے۔
کابینہ کی نجکاری کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر خزانہ نے تمام ملازمین کو یکساں فائدہ پہنچانے کیلیے اسکیم میں خامیاں دور کرنے کی ہدایت کی۔ سیکریٹری نجکاری نے بے نظیر اسٹاک آپشن اسکیم کے مجوزہ میکنزم کے بارے میں سفارشات پر مبنی رپورٹ پیش کی جس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اسکیم کے فوائد 14 اگست 2009 کے بعد متعلقہ سرکاری ادارے میں تعینات ہونے والے ملازمین کو دیے جائیں گے اور ملازمین کو کلیمز کی ادائیگی کیلیے مجموعی ڈیویڈنڈ کا 50 فیصد کے بجائے 75 فیصد سینٹرل ریوالونگ فنڈ میں ٹرانسفر کیا جائیگا۔
جبکہ باقی ماندہ 25 فیصد ڈیویڈنڈ کی رقم متعلقہ ادارے کے تمام ملازمین میں تقسیم کی جائے گی، اس کے علاوہ کمیٹی نے ڈیویڈنڈ کی مد میں ملازمین کو رقوم کی ادائیگی کو 10 لاکھ روپے فی ملازم تک محدود کردیا ہے جس کے تحت آئندہ وہ تمام سرکاری اداروں کے ملازمین جنہیں بینظیر ایمپلائز اسٹاک آپشن سکیم کے تحت سرکاری اداروں کے حصص ملے ہیں انہیں ڈیویڈنڈ کی مد میں زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے مل سکیں گے۔