مصطفیٰ کمال کے پیچھے کوئی اوربھی ہے لیکن بڑی تبدیلی نہیں آنے والی خورشید شاہ

اگرالطاف حسین " را" کے ایجنٹ ہیں تو مصطفیٰ کمال ان کے اشاروں پرکیوں استعمال ہوتے رہے.اپوزیشن لیڈر

اگرالطاف حسین " را" کے ایجنٹ ہیں تو مصطفیٰ کمال ان کے اشاروں پرکیوں استعمال ہوتے رہے.اپوزیشن لیڈر۔ فوٹو؛فائل

RAWALPINDI:
قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ کمال کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا ان کے پیچھے کوئی اور بھی ہے لیکن ان کی پریس کانفرنس کے بعد کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔

سکھر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا ان کے پیچھے کوئی اوربھی ہے لیکن جلد گرد بیٹھ جائے گی، بہترین ڈھانچے کی جماعتوں میں توڑ پھوڑ ہونا معمول کی بات ہے اس سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین بھارتی خفیہ ایجنسی " را" کے ایجنٹ ہیں تو مصطفیٰ کمال ان کے اشاروں پر کیوں استعمال ہوتے رہے.

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ پیٹرلیم مصنوعات کی کمی کے باوجود اشیا خورو نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، آج کسان بدحالی کا شکار ہیں اور حکمران طاقت کے نشے میں مدہوش ہیں، جب حکمران اقتدار سے باہر ہوجاتے ہیں تو پھر انہیں عوام کی یاد آجاتی ہے جب کہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے وسائل کو فضولیات پر لگایا جارہاہے، ڈیم بنانے کے بجائے میٹرو اور اورنج لائن پر پیسے ضائع کئے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے آنے والے وقت سے خوف آرہا ہے کیوں کہ آئندہ 10 سال پاکستان کے لئے خطرناک ترین ہوں گے اور اس دوران پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن حکومت نے کٹھن حالات کا سامنا کرنے کی تیاری نہیں کی۔

رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت سے زیادہ آمریت نے حکمرانی کی اور آمریت ہی ترقی کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے، جمہوریت کی عمر کم رہی اس لئے مسائل کا شکار رہے ، پاکستان میں دہشت گردی کا پودا سابق جنرل ضیاالحق نے لگایا تھا جو آج تناور درخت بن چکا ہے اور آج ہم پر دہشت گردی کی چھاپ لگائی جارہی ہے جب کہ بیرونی طاقتیں بھی پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہی ہیں۔




دوسری جانب سکھر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ہم ملک اورقوم کے مفاد میں کام کررہے ہیں لیکن تاجربرادری ناراض ہے کہ ہم اُنکے لیے اسمبلی میں نہیں بولتے حالانکہ اسمبلی سے ہماری تقریربراہ راست نشرنہ ہونا بدقسمتی ہے، ہم تو اسمبلی میں بولتے ہیں مگرسب نہیں دکھایا جاتا جب کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کرکنٹینرکی مخالفت کی اوراسے شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ کیا کسی نے شیرسے خیرکی توقع رکھی ہے، شیرسب سے پہلے ووٹ دینے والوں کوہی مارتا ہے جب کہ نئے ٹیکسزلگا کر کوئی فائدہ ہو تو تاجربرادری کے سامنے ہاتھ جوڑنے کو تیار ہوں۔

خورشید شاہ نے حکومت ہمیں سڑکوں پرآنے پرمجبورنہ کریں اور ٹیکسوں کوبڑھانے کے بجائےختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایمنیسٹی اسکیم چوروں، ٹھگوں اورمنشیات فروشوں کی مدد کرے گی، ایمنیسٹی اسکیم پر بہت بولے مگرحکومت نے ہماری ایک نہ سنی جب کہ اسحاق ڈارسے بھی کہا کہ ایمنیسٹی اسکیم بلیک مارکیٹنگ کوسپورٹ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈھائی سال میں 4 ہزار500ارب کا قرضہ لیا ہے اور ہماری برآمدات میں 25 فیصد کمی آگئی ہے جب کہ ملک میں زراعت اورٹیکسٹائل کی صنعت تباہ ہوگئی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات پرٹیکسیز کی بھرمارہے۔

Load Next Story