2050 تک گلوبل وارمنگ سے 5 لاکھ افراد ہلاک ہوسکتے ہیں ماہرین

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے فصلیں تباہ ہوں گی اور امراض کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے فصلیں تباہ ہوں گی اور امراض کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ فوٹو: فائل

TANDO ALLAHYAR:
سال 2050 تک آب و ہوا میں تبدیلی (کلائمٹ چینج) سے 5 لاکھ افراد ہلاک ہوسکتے ہیں جو براہِ راست خوراک کی کمی اور مختلف امراض کے شکار ہوں گے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے خوراک کے مستقبل پر سائنسی جرنل میں ایک رپورٹ پیش کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہر شخص 3.2 فیصد خوراک کی کمی کا شکار ہوسکتا ہے جس میں چین، بھارت اور اوقیانوس کے بعض ممالک بہت شدید متاثر ہوسکتے ہیں، اس کے علاوہ پھلوں، سرخ گوشت اور سبزیوں کی پیداوار میں کمی ہوسکتی ہے۔ خوراک میں کمی سے فالج، امراضِ قلب اور دیگر بیماریوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے جس سے 2050 تک 5 لاکھ سے زائد اضافی اموات ہوسکتی ہیں، خوراک کی کمی سے حاملہ مائیں شدید متاثر ہوسکتی ہیں اور بچوں کی پیدائش میں پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔


2050 کے متعلق پیش گوئی:

ماہرین کے مطابق اگلے 35 برس میں پھل اور سبزیوں کی کھپت میں 4 فیصد کمی واقع ہوگی اور کھانے کے لیے سرخ گوشت بھی کم ملے گا۔ اس تجزیئے سے دیگر ماہرین بھی متفق نظر آتے ہیں، مثلاً گلوبل وارمنگ سے خوراک اور زرعی اجناس کی پیداوار شدید متاثر ہورہی ہیں جو اب بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ موسم میں شدت سے زرعی پیداوار تباہ ہورہی ہیں اس کی ایک مثال یہ ہے کہ گزشتہ برس پاکستان میں موسمیاتی شدت، مثلاً تیز بارشوں سے آم اور دیگر فصلیں شدید متاثر ہوئی ہیں جن میں آم کی پیداور کم ہوئی ہے۔
Load Next Story