مریخ کی ابتدائی سیاہ سطح گریفائٹ سے بنی تھی سائنسدان
آتش فشاں کے پھٹنے سے ابتدائی سطح کے ایک بڑے حصے کا رنگ بدل گیا لیکن اب بھی ایک حصہ کالے رنگ کا ہے۔
آتش فشاں کے پھٹنے سے ابتدائی سطح کے ایک بڑے حصے کا رنگ بدل گیا لیکن اب بھی ایک حصہ کالے رنگ کا ہے۔ فوٹو؛ فائل
مریخ اپنی انتہائی گرمائش کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے اور دیگر سیاروں کی طرح یہ بھی سائنس دانوں کی تحقیق کا مرکز ہے اور اس کے بارے میں نت نئی معلومات سامنے آرہی ہیں لیکن اب ایک نئی دریافت میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مریخ کی ابتدائی سیاہ سطح پینسل کے سکے کے عنصر یعنی گریفائٹ سے بنی ہوئی تھی جسے بعد میں آتش فشاؤں نے تبدیل کردیا۔
ناسا کے مریخ مسینجر پر کام کرنے والی سائنس دانوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ میسنجر سے ملنے والے ڈیٹا کے مطابق مریخ کی سطح عام طورپر سیاہ ہے اور اس کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ گریفائٹ کا بڑی تعداد میں وہاں جمع ہونا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق مریخ کی کالی سطح ایک عرصے سے سائنس دانوں کے لیے پراسرار تھی اور طویل عرصے سے کوشش کی جارہی تھی کہ اس راز سے پردہ اٹھایا جائے جب کہ اب اس نئی معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کے سیارہ رنگ کی وجہ کاربن ہے جو گریفائٹ کی شکل میں وہاں موجود ہے جو اس سیارے کے ابتدا میں تھی لیکن بعد میں آتش فشاں کے پھٹنے سے ایک بڑے حصے کا رنگ بدل گیا لیکن اب بھی ایک حصہ کالے رنگ کا ہے۔
اس راز سے پردہ اٹھانے والی ٹیم کے مطابق مریخ کے تخلیق کے ابتدائی دور میں پگھلے ہوئے سمندر موجود تھے جو انتہائی گرم تھے لیکن جب گرم سمندر ٹھنڈے ہوئے تو اس میں موجود معدینیات قملیں بن گئیں تو وہ اس سمندر میں ڈوب گئیں تاہم گریفائٹ سطح پر تیرتی رہے اور انہوں نے مریخ کی اوپری سطح کی شکل اختیار کرلی جو انتہائی سیاہ رنگ کی تھی لیکن بعد میں آتش فشانی کی وجہ سے اس کی سطح کا یہ رنگ غائب ہوگیا۔ سائنس دانوں کے مطابق کاربن سے بھر پور یہ میٹریل وہاں موجود چٹانوں میں مکس ہوگیا جس نے اس کی پوری سطح کو سرمئی رنگ میں بدل دیا۔
ناسا کے مریخ مسینجر پر کام کرنے والی سائنس دانوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ میسنجر سے ملنے والے ڈیٹا کے مطابق مریخ کی سطح عام طورپر سیاہ ہے اور اس کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ گریفائٹ کا بڑی تعداد میں وہاں جمع ہونا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق مریخ کی کالی سطح ایک عرصے سے سائنس دانوں کے لیے پراسرار تھی اور طویل عرصے سے کوشش کی جارہی تھی کہ اس راز سے پردہ اٹھایا جائے جب کہ اب اس نئی معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کے سیارہ رنگ کی وجہ کاربن ہے جو گریفائٹ کی شکل میں وہاں موجود ہے جو اس سیارے کے ابتدا میں تھی لیکن بعد میں آتش فشاں کے پھٹنے سے ایک بڑے حصے کا رنگ بدل گیا لیکن اب بھی ایک حصہ کالے رنگ کا ہے۔
اس راز سے پردہ اٹھانے والی ٹیم کے مطابق مریخ کے تخلیق کے ابتدائی دور میں پگھلے ہوئے سمندر موجود تھے جو انتہائی گرم تھے لیکن جب گرم سمندر ٹھنڈے ہوئے تو اس میں موجود معدینیات قملیں بن گئیں تو وہ اس سمندر میں ڈوب گئیں تاہم گریفائٹ سطح پر تیرتی رہے اور انہوں نے مریخ کی اوپری سطح کی شکل اختیار کرلی جو انتہائی سیاہ رنگ کی تھی لیکن بعد میں آتش فشانی کی وجہ سے اس کی سطح کا یہ رنگ غائب ہوگیا۔ سائنس دانوں کے مطابق کاربن سے بھر پور یہ میٹریل وہاں موجود چٹانوں میں مکس ہوگیا جس نے اس کی پوری سطح کو سرمئی رنگ میں بدل دیا۔