چھونے کی حس سے محروم شخص کے ہاتھ پر بایونک انگلی نصب کردی گئی
ڈنمارک میں پہلی مرتبہ انگلی سے محروم شخص اب سخت اور نرم سطح کا احساس کرسکتا ہے۔
ڈنمارک میں پہلی مرتبہ انگلی سے محروم شخص اب سخت اور نرم سطح کا احساس کرسکتا ہے۔ فوٹو: بشکریہ ای پی ایف ایل
KARACHI:
ڈنمارک میں ہاتھوں سے محروم شخص میں بایونک انگلی کا سرا ( پور) لگایا گیا ہے جس سے اب وہ ریشمی کپڑے اور سیمنٹ کی سطح کے درمیان فرق محسوس کرسکتے ہیں۔
ڈنمارک کے رہائشی ڈینس آبو نامی شخص کا ایک بازو صرف کلائی تک ہے اور اب ان کو مصنوعی ہاتھ لگا کر اس کی انگلیوں کے نوک پر ایک حساس ترین سینسر لگا اس کا سرکٹ براہِ راست ان کے اعصاب سے جوڑا گیا ہے جس کے بعد وہ نارمل لوگوں کی طرح مختلف اشیا کی نرمی اور سختی محسوس کرسکتے ہیں۔
اس مصنوعی انگلی پر سوئزرلینڈ کے فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ای پی ایف ایل) اور اٹلی کے شہر پیسا میں واقع سانٹ آنا اسکول آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز ( ایس ایس ایس اے ) کے ماہرین نے مشترکہ طور پر کام کیا ہے۔
الیکٹرانک انگلی کے سرے سے برقی سگنل خارج ہوتے ہیں اور عین چھونے کا احساس فراہم کرتے ہیں۔ جب ہاتھ سے محروم شخص پر اس کی آزمائش کی گئی تو اس نے چھوکر 96 فیصد درستگی تک بتادیا کہ یہ پلاسٹک ہے یا کپڑا ۔ اس اہم تجربے کی تفصیلات ای لائف جرنل میں شائع ہوئی ہیں اور پہلے اسے عام اور غیرمعذور افراد پر بھی آزمایا گیا ہے جسے یکساں طور پر مؤثر دیکھا گیا ۔
ماہرین نے ایک ہاتھ سے محروم شخص کے اوپری بازو کی مرکزی رگوں میں ایک الیکٹروڈ نصب کیا جو الیکٹرانک انگلی کے سگنل وہاں تک لارہا تھا۔ اس طرح پہلی مرتبہ براہ راست مشینی کے احساس کو اصل رگوں اور اعصاب تک پہنچایا گیا۔ دماغی اسکین سے بھی ظاہر ہوا ہے کہ مصنوعی انگلی کا احساس ہوبہ ہو اصلی احساس جیسا ہی ہے جو ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔
ڈنمارک میں ہاتھوں سے محروم شخص میں بایونک انگلی کا سرا ( پور) لگایا گیا ہے جس سے اب وہ ریشمی کپڑے اور سیمنٹ کی سطح کے درمیان فرق محسوس کرسکتے ہیں۔
ڈنمارک کے رہائشی ڈینس آبو نامی شخص کا ایک بازو صرف کلائی تک ہے اور اب ان کو مصنوعی ہاتھ لگا کر اس کی انگلیوں کے نوک پر ایک حساس ترین سینسر لگا اس کا سرکٹ براہِ راست ان کے اعصاب سے جوڑا گیا ہے جس کے بعد وہ نارمل لوگوں کی طرح مختلف اشیا کی نرمی اور سختی محسوس کرسکتے ہیں۔
اس مصنوعی انگلی پر سوئزرلینڈ کے فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ای پی ایف ایل) اور اٹلی کے شہر پیسا میں واقع سانٹ آنا اسکول آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز ( ایس ایس ایس اے ) کے ماہرین نے مشترکہ طور پر کام کیا ہے۔
الیکٹرانک انگلی کے سرے سے برقی سگنل خارج ہوتے ہیں اور عین چھونے کا احساس فراہم کرتے ہیں۔ جب ہاتھ سے محروم شخص پر اس کی آزمائش کی گئی تو اس نے چھوکر 96 فیصد درستگی تک بتادیا کہ یہ پلاسٹک ہے یا کپڑا ۔ اس اہم تجربے کی تفصیلات ای لائف جرنل میں شائع ہوئی ہیں اور پہلے اسے عام اور غیرمعذور افراد پر بھی آزمایا گیا ہے جسے یکساں طور پر مؤثر دیکھا گیا ۔
ماہرین نے ایک ہاتھ سے محروم شخص کے اوپری بازو کی مرکزی رگوں میں ایک الیکٹروڈ نصب کیا جو الیکٹرانک انگلی کے سگنل وہاں تک لارہا تھا۔ اس طرح پہلی مرتبہ براہ راست مشینی کے احساس کو اصل رگوں اور اعصاب تک پہنچایا گیا۔ دماغی اسکین سے بھی ظاہر ہوا ہے کہ مصنوعی انگلی کا احساس ہوبہ ہو اصلی احساس جیسا ہی ہے جو ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔