بالی ووڈ سپر اسٹار عامر خان 51 برس کے ہوگئے
عامر خان نے فلمی کیرئیر میں رومانوی، ایکشن ہیرو سمیت ہر طرح کے کرداروں کو نبھا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
عامر خان نے فلمی کیرئیر میں رومانوی، ایکشن ہیرو سمیت ہر طرح کے کرداروں کو نبھا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ فوٹو:فائل
بالی ووڈ میں مسٹر پرفیکشنسٹ کے نام سے مشہور اداکار عامر خان نے زندگی کی 51 بہاریں دیکھ لیں۔
بالی ووڈ اسٹار عامر خان 14 مارچ 1965 کو ممبئی میں فلمساز اور ہدایت کار طاہر حسین کے گھر پیدا ہوئے جنہوں نے فلمی کیرئیر کا آغاز بطور چائلڈایکٹر فلم''یادوں کی بارات'' سے کیا لیکن ہیرو کے روپ میں پہلی بار 1988 میں ریلیز ہونے والی فلم ''قیامت سے قیامت تک'' میں نظر آئے جس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا اور کامیابیوں کا سفر شروع کیا جو آج تک جاری ہے جب کہ انہوں نے 90 کی دہائی میں اپنے فلمی کیرئیر میں متعدد بلاک بسٹر فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جس میں ''انداز اپنا اپنا''،''غلام''، ''راجہ ہندوستانی''،''سرفروش''اور''عشق'' شامل ہیں۔
بالی ووڈ اسٹار عامر خان نے 2000 کے بعد فلموں میں ایسا رنگ جمایا کہ وہ مسٹر پرفیکشنسٹ کے نام سے پہچانے جانے لگے جب کہ 2001 میں ریلیز ہونے والی فلم''لگان'' میں کرکٹر کا کردار نبھا کر بین الاقوامی شہرت حاصل کی یہی نہیں ان کی جاندار اداکاری کے باعث ان کی فلم کو ''آسکر'' ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا گیا جس کے بعد انہوں نے فلم''دل چاہتا ہے''،''منگل پانڈے''،''رنگ دے بسنتی''،''تارے زمین پر''،''گجنی''،''تھری ایڈیٹس'' اور ''پی کے'' جیسی بلاک بسٹر فلمیں دیں۔
اداکار عامر خان نے فلمی کیرئیر میں رومانوی، ایکشن ہیرو سمیت ہر طرح کے کرداروں کو نبھا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا یہی نہیں انہوں نے اپنی فلموں میں سماجی مسائل کو اجاگر کیا ہے جب کہ اپنے فلمی کیرئیر میں کئی قومی ، بین الاقوامی اور فلمی ایوارڈز اپنے نام کرچکے ہیں۔
مسٹر پرفیکشنسٹ فلمی دنیا کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ملکی صورتحال پر تبصرہ کرتے رہتے ہیں لیکن بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی پر حال ہی میں لب کشائی انہیں خاصی مہنگی پڑگئی تھی جس کے باعث ہندو انتہا پسندوں نے نہ صرف ان کے گھر پر حملہ کیا بلکہ انہیں پاکستانی ایجنٹ قرار دیتے ہوئے پاکستان جانے کا مطالبہ کیا جس کی وجہ سے انہیں عارضی طور پر بھارت چھوڑنا پڑا۔
بالی ووڈ اسٹار عامر خان اس وقت بھی اپنی نئی آنے والی فلم''دنگل'' کی شوٹنگ میں مصروف ہیں جس میں وہ ایک پہلوان کے روپ میں نظر آئیں گے جب کہ فلم رواں سال دسمبر میں ریلیز ہوگی جس کا مداحوں کو بڑی شدت سے انتظار ہے۔
بالی ووڈ اسٹار عامر خان 14 مارچ 1965 کو ممبئی میں فلمساز اور ہدایت کار طاہر حسین کے گھر پیدا ہوئے جنہوں نے فلمی کیرئیر کا آغاز بطور چائلڈایکٹر فلم''یادوں کی بارات'' سے کیا لیکن ہیرو کے روپ میں پہلی بار 1988 میں ریلیز ہونے والی فلم ''قیامت سے قیامت تک'' میں نظر آئے جس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا اور کامیابیوں کا سفر شروع کیا جو آج تک جاری ہے جب کہ انہوں نے 90 کی دہائی میں اپنے فلمی کیرئیر میں متعدد بلاک بسٹر فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جس میں ''انداز اپنا اپنا''،''غلام''، ''راجہ ہندوستانی''،''سرفروش''اور''عشق'' شامل ہیں۔
بالی ووڈ اسٹار عامر خان نے 2000 کے بعد فلموں میں ایسا رنگ جمایا کہ وہ مسٹر پرفیکشنسٹ کے نام سے پہچانے جانے لگے جب کہ 2001 میں ریلیز ہونے والی فلم''لگان'' میں کرکٹر کا کردار نبھا کر بین الاقوامی شہرت حاصل کی یہی نہیں ان کی جاندار اداکاری کے باعث ان کی فلم کو ''آسکر'' ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا گیا جس کے بعد انہوں نے فلم''دل چاہتا ہے''،''منگل پانڈے''،''رنگ دے بسنتی''،''تارے زمین پر''،''گجنی''،''تھری ایڈیٹس'' اور ''پی کے'' جیسی بلاک بسٹر فلمیں دیں۔
اداکار عامر خان نے فلمی کیرئیر میں رومانوی، ایکشن ہیرو سمیت ہر طرح کے کرداروں کو نبھا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا یہی نہیں انہوں نے اپنی فلموں میں سماجی مسائل کو اجاگر کیا ہے جب کہ اپنے فلمی کیرئیر میں کئی قومی ، بین الاقوامی اور فلمی ایوارڈز اپنے نام کرچکے ہیں۔
مسٹر پرفیکشنسٹ فلمی دنیا کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ملکی صورتحال پر تبصرہ کرتے رہتے ہیں لیکن بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی پر حال ہی میں لب کشائی انہیں خاصی مہنگی پڑگئی تھی جس کے باعث ہندو انتہا پسندوں نے نہ صرف ان کے گھر پر حملہ کیا بلکہ انہیں پاکستانی ایجنٹ قرار دیتے ہوئے پاکستان جانے کا مطالبہ کیا جس کی وجہ سے انہیں عارضی طور پر بھارت چھوڑنا پڑا۔
بالی ووڈ اسٹار عامر خان اس وقت بھی اپنی نئی آنے والی فلم''دنگل'' کی شوٹنگ میں مصروف ہیں جس میں وہ ایک پہلوان کے روپ میں نظر آئیں گے جب کہ فلم رواں سال دسمبر میں ریلیز ہوگی جس کا مداحوں کو بڑی شدت سے انتظار ہے۔