اگر ایک پائی کی کرپشن ثابت ہو جائے …
اگر ایک پیسے، پائی کی کرپشن بھی ثابت ہو جائے تو استعفیٰ دے دوں گا یا دنیا تیاگ دوں گا
barq@email.com
اگر ایک پیسے، پائی کی کرپشن بھی ثابت ہو جائے تو استعفیٰ دے دوں گا یا دنیا تیاگ دوں گا یا جو ''لیڈر'' کی سزا وہ میری ... یہ یا اس سے ملتے جلتے فقرے تو سیاست میں ہمیشہ گائے جاتے رہے ہیں لیکن تازہ ترین دہرائی اس فقرے کی ایک اہم سیاستدان نے کی ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ کسی ''منفی تنقیدیے'' نے یقیناً کچھ ایسا ویسا کہا ہو گا یعنی ''پیڑے پیڑے'' شک کیے ہوں گے، اسی لیے تو موصوف کو یہ فقرہ دہرانے کی ضرورت پیش آئی۔
ان صاحب کو ہم جانتے بھی ہیں، پہچانتے بھی ہیں اور مانتے بھی ہیں ، اسی لیے کسی اور کے بارے میں تو نہیں لیکن ان کے بارے میں ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں اور کہہ رہے ہیں اور کہتے رہیں گے کہ انھوں نے سچ کہا ہو گا اور سچ کے سوا کچھ بھی نہیں کہا ہو گا، یقیناً انھوں نے ایک پائی (انھوں نے پائی ہی کہا ہے پیسہ روپیہ آنہ دو آنہ یا ڈالر ریال نہیں کہا ہے) کی بھی کرپشن نہیں کی ہو گی بلکہ ہو گی کیا ... نہیں کی ہے، آخر پائی کیا اور اس کی دھار کیا، لوگ تو یونہی بات کا بتنگڑ اور بتنگڑ کا بینگن بناتے رہتے ہیں، اصل چیز ''ثابت'' کرنے کی ہے اور ثابت کرنا کوئی خالہ پھوپھی نانا نانی کا گھر نہیں ہے، وہ ایک امریکی پر ''منفی تنقیدیے'' رشتہ داروں نے خواہ مخواہ منفی تنقید کرتے ہوئے ''کرپشن'' کے الزامات لگانا شروع کیے۔
منفی تنقیدیوں نے امریکا کے باس کو یہ بات بتائی تو وہ خفا ہو گیا، آخر ایک غیر رسمی اے پی سی بلوائی گئی اور کافی بحث و تمحیص کے بعد قرار پایا کہ امریکا کے پیچھے ایک جاسوس لگا دیا جائے جو منفی تنقید کے بجائے ''ثبوت'' حاصل کرے اور ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرے، ہفتے بعد مقررہ وقت پر اے پی سی منعقد ہوئی جس میں جاسوس کی پیش کردہ رپورٹ پر غور و حوض ہونا تھا، پہلے رپورٹ پڑھی گئی، جاسوس نے لکھا تھا کہ فلاں تاریخ کو محترم فلاں ہوٹل گیا' وہاں ایک دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک شخص نے دروازہ کھول کر اسے اندر بلایا اور تین گھنٹے بعد اس کمرے سے برآمد ہوا۔
دوسرے دن ایک اور ہوٹل میں بھی ایسی ہی سرگرمی کی رپورٹ تھی، یوں پورے ہفتے کی رپورٹوں سے پتہ چلا کہ موصوف کئی ہوٹلوں میں جاتا ہے اور وہاں کسی کے ساتھ کمرے میں چلا جاتا ہے اور دروازہ اندر سے بند ہو جاتا ہے، رپورٹ سننے کے بعد اے پی سی یا تو سناٹے میں رہ گئی تھی اور یا غور کے حوض میں غوطہ زن ہوئی کہ اتنے کرپٹ امریکی کے باس کی فاتحانہ آواز سنائی دی کہ ثبوت تو نہیں ملانا... کہ دروازہ بند ہونے کے بعد وہ ساتھ قابل اعتراض سرگرمیوں میں مصروف ہو گئی یا دونوں موسمی یا ملکی حالات پر تبادلہ خیالات کرنے لگے تھے یا دونوں عبادت اور ذکر و اذکار میں مصروف ہو گئے
دل نے اک اینٹ پہ تعمیر کیا تاج محل
تم نے اک بات کہی لاکھ فسانے نکلے
یہی سلسلہ ہمارے ہاں بھی ثبوت کے سلسلے میں پایا جاتا ہے۔ لوگ یونہی لوگوں کی دولتوں، جائیدادوں، کارخانوں اور بینک بیلنس وغیرہ کی بنیاد پر شکوک کا اظہار کرنے لگتے ہیں یا رشتہ داروں کی ترقی اور بڑھوتی پر انگلی اٹھانے لگتے ہیں جو قطعی غلط بے بنیاد اور بے ثبوت بات ہے، ہو سکتا ہے۔
موصوف کو گھر کے لان میں باغبانی کرتے ہوئے قارون کا خزانہ مل گیا ہو گا، ممکن ہے موصوف کی بغیر ٹکٹ خریدے لاٹری نکل آئی ہو، عین ممکن ہے کہیں سے ان کی چھپڑ پھاڑی گئی ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ زیادہ عبادتوں اور زہد و تقویٰ کے باعث موصوف کے تکیے کے نیچے ہر رات نوٹوں کی برسات ہونے لگی، قرین قیاس یہ بھی ہے کہ موصوف کی یاری کسی جن پری سے ہو گئی ہو اور اس نے کوہ قاف کے سرچشمے ان کی طرف موڑ دیے ہوں ہاں وہ انجینئر کا پھول سفید سانپ کی کینچلی اور گیدڑ سنگی ہاتھ لگنے کا سلسلہ بھی ہو سکتا ہے، مطلب یہ کہ
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدہ دل وا کرے کوئی
دیدہ دل یا دیدہ ثبوت ایک ہی بات ہے، لیکن یہ خواہ مخواہ الزام تراشی اور منفی تنقید نہیں کرنی چاہیے، پہلے ''کرپشن'' کا ثبوت مہیا کیا جائے تب زبان کھولی جائے، یہ کیا کہ یونہی جو دیکھا اسے آگے جڑ دیا لیکن ہمیں معلوم ہے کہ یہ ''منفی تنقیدیے'' لوگ ایسا نہیں کر سکیں گے کیوں کہ ''ثبوت'' ڈھونڈنا اور پیش کرنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہے کہ اس میں لگتی ہے محنت زیادہ ... ثبوت کی کمیابی بلکہ نایابی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ گذشتہ ستر سال سے ستر لاکھ ستر ہزار ستر سو ستر ادارے بنے اور بگڑے، بڑے بڑے طرم خان آئے لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسا ''شہزادہ'' پیدا نہیں ہوا جو ثبوت کا ''گل بکاؤلی'' یا ''کالا گلاب'' لا سکے، اگر فہرست بنائی جائے تو ان شہزادوں اور ہم جوؤں کی فہرست اسلام آباد سے پھر اسلام آباد تک لمبی ہو گی، جو ثبوت کا گل بکاولی اور شہادت کا کالا گلاب لانے گئے تھے لیکن واپس لوٹ کر ہی نہ جائے، نہ جانے طلسمات کی کس وادی میں ''پیچھے'' دیکھنے پر پتھر کے ہو گئے، مملکت اینٹی کرپشن سلطنت احتساب ریاست ایف بی آئی کے ''شہزادے'' تو ایسے گئے کہ
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
کہتے ہیں کہ ثبوت اور شہادت کے گل بکاولی اور کالا گلاب کسی ایسی وادی میں رہتے ہیں کہ اول تو کسی کو اس کا پتہ معلوم نہیں اور جنہوں نے کسی بزرگ سے یہ راستہ معلوم کر کے قصد سفر کیا وہ واپس لوٹ کر ہی نہیں آئے، واقفان اسرار لوگوں کا کہنا ہے کہ کرپشن کا ثبوت یا گل بکاؤلی اور غبن کی شہادت عرف کالا گلاب جہاں رہتے ہیں اس کے راستے میں بہت ساری دشوار گزار اور پراسرار وادیاں اور گھاٹیاں حائل ہیں، کسی وادی میں پیچھے دیکھنے پر آدمی پتھر کا ہو جاتا ہے تو کسی میں آگے دیکھنے پر اسی طرح دائیں بائیں اور اوپر نیچے دیکھنے پر بھی کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے۔
کچھ تو سنہری شہروں کے سنہرے محلات میں کھو کر رہ جاتے ہیں کہیں پر پرستان آباد ہیں جو عازم سفر کو ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیتے ہیں، کچھ وادیاں موت کی ہیں اور کچھ حبس دوام کی، مطلب یہ کہ ثبوت کا گل بکاؤلی اور شہادت کا کالا گلاب جیسا روز اول سے ناقابل حصول تھا ویسا آج بھی ہے۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ ہمیں یاد ہے بنوں میں ایک ایم پی اے نے کمال کر دکھایا تھا۔ ایوب خان کے بی ڈی نظام کا زمانہ تھا، ایم این اے اور ایم پی اے بی ڈی ممبروں کے ووٹ سے منتخب ہوتے تھے۔ اس ایم پی اے نے ایک بہت بڑے جلسے کا اہتمام کیا تھا جس میں بی ڈی کے سارے ممبران بھی بلوائے گئے تھے۔
یہاں وہاں کونے کھدروں میں کچھ عوام لوگ بھی تھے لیکن اکثریت بی ڈی ممبران کی تھی، مذکورہ ایم پی اے نے اپنی تقریر میں کہا کہ لوگ مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں نے ووٹ خریدے ہیں۔ آپ سب یہاں بیٹھے ہیں بتائیں کہ کس نے آپ کا ووٹ خریدا ہے، کسی ایک کا ووٹ بھی خریدا ہو تو وہ ہاتھ کھڑا کرے اور بتائیں کہ میں نے اس کا ووٹ خریدا ہے یا اس نے اپنا ووٹ میرے ہاتھ بیچا ہے، اور وہ سچا ثابت ہو گیا کیوں کہ کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ میں نے ووٹ بیچا ہے اور اس نے خریدا ہے، گویا ثبوت نہیں ملا، اسی لیے تو ہمارے دیانت دار ایماندار اور نیکو کار لیڈر کہتے ہیں کہ اگر ان کے خلاف کرپشن کا ثبوت ... یعنی گل بکاؤلی اور کالا گلاب۔
ان صاحب کو ہم جانتے بھی ہیں، پہچانتے بھی ہیں اور مانتے بھی ہیں ، اسی لیے کسی اور کے بارے میں تو نہیں لیکن ان کے بارے میں ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں اور کہہ رہے ہیں اور کہتے رہیں گے کہ انھوں نے سچ کہا ہو گا اور سچ کے سوا کچھ بھی نہیں کہا ہو گا، یقیناً انھوں نے ایک پائی (انھوں نے پائی ہی کہا ہے پیسہ روپیہ آنہ دو آنہ یا ڈالر ریال نہیں کہا ہے) کی بھی کرپشن نہیں کی ہو گی بلکہ ہو گی کیا ... نہیں کی ہے، آخر پائی کیا اور اس کی دھار کیا، لوگ تو یونہی بات کا بتنگڑ اور بتنگڑ کا بینگن بناتے رہتے ہیں، اصل چیز ''ثابت'' کرنے کی ہے اور ثابت کرنا کوئی خالہ پھوپھی نانا نانی کا گھر نہیں ہے، وہ ایک امریکی پر ''منفی تنقیدیے'' رشتہ داروں نے خواہ مخواہ منفی تنقید کرتے ہوئے ''کرپشن'' کے الزامات لگانا شروع کیے۔
منفی تنقیدیوں نے امریکا کے باس کو یہ بات بتائی تو وہ خفا ہو گیا، آخر ایک غیر رسمی اے پی سی بلوائی گئی اور کافی بحث و تمحیص کے بعد قرار پایا کہ امریکا کے پیچھے ایک جاسوس لگا دیا جائے جو منفی تنقید کے بجائے ''ثبوت'' حاصل کرے اور ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرے، ہفتے بعد مقررہ وقت پر اے پی سی منعقد ہوئی جس میں جاسوس کی پیش کردہ رپورٹ پر غور و حوض ہونا تھا، پہلے رپورٹ پڑھی گئی، جاسوس نے لکھا تھا کہ فلاں تاریخ کو محترم فلاں ہوٹل گیا' وہاں ایک دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک شخص نے دروازہ کھول کر اسے اندر بلایا اور تین گھنٹے بعد اس کمرے سے برآمد ہوا۔
دوسرے دن ایک اور ہوٹل میں بھی ایسی ہی سرگرمی کی رپورٹ تھی، یوں پورے ہفتے کی رپورٹوں سے پتہ چلا کہ موصوف کئی ہوٹلوں میں جاتا ہے اور وہاں کسی کے ساتھ کمرے میں چلا جاتا ہے اور دروازہ اندر سے بند ہو جاتا ہے، رپورٹ سننے کے بعد اے پی سی یا تو سناٹے میں رہ گئی تھی اور یا غور کے حوض میں غوطہ زن ہوئی کہ اتنے کرپٹ امریکی کے باس کی فاتحانہ آواز سنائی دی کہ ثبوت تو نہیں ملانا... کہ دروازہ بند ہونے کے بعد وہ ساتھ قابل اعتراض سرگرمیوں میں مصروف ہو گئی یا دونوں موسمی یا ملکی حالات پر تبادلہ خیالات کرنے لگے تھے یا دونوں عبادت اور ذکر و اذکار میں مصروف ہو گئے
دل نے اک اینٹ پہ تعمیر کیا تاج محل
تم نے اک بات کہی لاکھ فسانے نکلے
یہی سلسلہ ہمارے ہاں بھی ثبوت کے سلسلے میں پایا جاتا ہے۔ لوگ یونہی لوگوں کی دولتوں، جائیدادوں، کارخانوں اور بینک بیلنس وغیرہ کی بنیاد پر شکوک کا اظہار کرنے لگتے ہیں یا رشتہ داروں کی ترقی اور بڑھوتی پر انگلی اٹھانے لگتے ہیں جو قطعی غلط بے بنیاد اور بے ثبوت بات ہے، ہو سکتا ہے۔
موصوف کو گھر کے لان میں باغبانی کرتے ہوئے قارون کا خزانہ مل گیا ہو گا، ممکن ہے موصوف کی بغیر ٹکٹ خریدے لاٹری نکل آئی ہو، عین ممکن ہے کہیں سے ان کی چھپڑ پھاڑی گئی ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ زیادہ عبادتوں اور زہد و تقویٰ کے باعث موصوف کے تکیے کے نیچے ہر رات نوٹوں کی برسات ہونے لگی، قرین قیاس یہ بھی ہے کہ موصوف کی یاری کسی جن پری سے ہو گئی ہو اور اس نے کوہ قاف کے سرچشمے ان کی طرف موڑ دیے ہوں ہاں وہ انجینئر کا پھول سفید سانپ کی کینچلی اور گیدڑ سنگی ہاتھ لگنے کا سلسلہ بھی ہو سکتا ہے، مطلب یہ کہ
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدہ دل وا کرے کوئی
دیدہ دل یا دیدہ ثبوت ایک ہی بات ہے، لیکن یہ خواہ مخواہ الزام تراشی اور منفی تنقید نہیں کرنی چاہیے، پہلے ''کرپشن'' کا ثبوت مہیا کیا جائے تب زبان کھولی جائے، یہ کیا کہ یونہی جو دیکھا اسے آگے جڑ دیا لیکن ہمیں معلوم ہے کہ یہ ''منفی تنقیدیے'' لوگ ایسا نہیں کر سکیں گے کیوں کہ ''ثبوت'' ڈھونڈنا اور پیش کرنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہے کہ اس میں لگتی ہے محنت زیادہ ... ثبوت کی کمیابی بلکہ نایابی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ گذشتہ ستر سال سے ستر لاکھ ستر ہزار ستر سو ستر ادارے بنے اور بگڑے، بڑے بڑے طرم خان آئے لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسا ''شہزادہ'' پیدا نہیں ہوا جو ثبوت کا ''گل بکاؤلی'' یا ''کالا گلاب'' لا سکے، اگر فہرست بنائی جائے تو ان شہزادوں اور ہم جوؤں کی فہرست اسلام آباد سے پھر اسلام آباد تک لمبی ہو گی، جو ثبوت کا گل بکاولی اور شہادت کا کالا گلاب لانے گئے تھے لیکن واپس لوٹ کر ہی نہ جائے، نہ جانے طلسمات کی کس وادی میں ''پیچھے'' دیکھنے پر پتھر کے ہو گئے، مملکت اینٹی کرپشن سلطنت احتساب ریاست ایف بی آئی کے ''شہزادے'' تو ایسے گئے کہ
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
کہتے ہیں کہ ثبوت اور شہادت کے گل بکاولی اور کالا گلاب کسی ایسی وادی میں رہتے ہیں کہ اول تو کسی کو اس کا پتہ معلوم نہیں اور جنہوں نے کسی بزرگ سے یہ راستہ معلوم کر کے قصد سفر کیا وہ واپس لوٹ کر ہی نہیں آئے، واقفان اسرار لوگوں کا کہنا ہے کہ کرپشن کا ثبوت یا گل بکاؤلی اور غبن کی شہادت عرف کالا گلاب جہاں رہتے ہیں اس کے راستے میں بہت ساری دشوار گزار اور پراسرار وادیاں اور گھاٹیاں حائل ہیں، کسی وادی میں پیچھے دیکھنے پر آدمی پتھر کا ہو جاتا ہے تو کسی میں آگے دیکھنے پر اسی طرح دائیں بائیں اور اوپر نیچے دیکھنے پر بھی کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے۔
کچھ تو سنہری شہروں کے سنہرے محلات میں کھو کر رہ جاتے ہیں کہیں پر پرستان آباد ہیں جو عازم سفر کو ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیتے ہیں، کچھ وادیاں موت کی ہیں اور کچھ حبس دوام کی، مطلب یہ کہ ثبوت کا گل بکاؤلی اور شہادت کا کالا گلاب جیسا روز اول سے ناقابل حصول تھا ویسا آج بھی ہے۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ ہمیں یاد ہے بنوں میں ایک ایم پی اے نے کمال کر دکھایا تھا۔ ایوب خان کے بی ڈی نظام کا زمانہ تھا، ایم این اے اور ایم پی اے بی ڈی ممبروں کے ووٹ سے منتخب ہوتے تھے۔ اس ایم پی اے نے ایک بہت بڑے جلسے کا اہتمام کیا تھا جس میں بی ڈی کے سارے ممبران بھی بلوائے گئے تھے۔
یہاں وہاں کونے کھدروں میں کچھ عوام لوگ بھی تھے لیکن اکثریت بی ڈی ممبران کی تھی، مذکورہ ایم پی اے نے اپنی تقریر میں کہا کہ لوگ مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں نے ووٹ خریدے ہیں۔ آپ سب یہاں بیٹھے ہیں بتائیں کہ کس نے آپ کا ووٹ خریدا ہے، کسی ایک کا ووٹ بھی خریدا ہو تو وہ ہاتھ کھڑا کرے اور بتائیں کہ میں نے اس کا ووٹ خریدا ہے یا اس نے اپنا ووٹ میرے ہاتھ بیچا ہے، اور وہ سچا ثابت ہو گیا کیوں کہ کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ میں نے ووٹ بیچا ہے اور اس نے خریدا ہے، گویا ثبوت نہیں ملا، اسی لیے تو ہمارے دیانت دار ایماندار اور نیکو کار لیڈر کہتے ہیں کہ اگر ان کے خلاف کرپشن کا ثبوت ... یعنی گل بکاؤلی اور کالا گلاب۔