او آئی سی کا مشترکہ اعلامیہ ایک افسانہ

49 مسلم ملکوں پر مشتمل او آئی سی کا پانچواں غیر معمولی اجلاس انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں منعقد ہوا،


Zaheer Akhter Bedari March 17, 2016
[email protected]

THOUSAND OAKS: 49 مسلم ملکوں پر مشتمل او آئی سی کا پانچواں غیر معمولی اجلاس انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں منعقد ہوا، اس دو روزہ اجلاس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔

جس میں او آئی سی نے فلسطینی ریاست کی حمایت کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں پر اسرائیلیوں کے مظالم کی شدید مذمت کی، اعلامیے میں مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے اسلامی ممالک اور او آئی سی کی کوششوں میں اضافے اور فلسطینیوں کے سماجی اور مذہبی حقوق کی حمایت پر زور دیا گیا۔ اعلامیے میں عالمی برادری سے کہا گیا کہ وہ مسئلہ فلسطین کی سنگین صورت حال کا احساس کرے اور مسئلہ فلسطین کے حل کی تلاش میں اپنا کردار ادا کرے۔

اس اجلاس میں 49 مسلم ملکوں کے 605 نمایندوں نے شرکت کی، اجلاس میں فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان بستیوں کی تعمیر روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل ایاد بن امین مدنی نے کہاکہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کررہاہے، انھوں نے کہاکہ حالیہ کچھ عرصے سے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم میں اضافہ ہورہا ہے، فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ ہم بدترین مسائل کا شکار ہیں، گزشتہ 5 دہائیوں سے اسرائیل کی تخریبی کارروائیاں جاری ہیں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے تاریخی مقامات کو تباہ کیا جارہا ہے، انھوں نے کہاکہ اسرائیلی بستیوں کی مقبوضہ علاقوں میں تعمیر کو روکا جانا چاہیے۔

لگ بھگ 30 سال سے فلسطین کا تنازعہ مشرق وسطیٰ کا ناسور بنا ہوا ہے، اس حوالے سے ابھی تک اقوام متحدہ نے کئی قراردادیں پاس کیں اور امریکا سمیت مغربی ملکوں نے اس مسئلے کا حل دو ریاستوں کا قیام تسلیم کیا۔ لیکن اسرائیل اب تک ان حوالوں سے ''میں نہ مانوں'' کی تصویر بنا ہوا ہے، مسئلہ فلسطین کے حل کے حوالے سے اگرچہ سیاسی سطح پر مستقل کوششیں جاری ہیں لیکن ان کوششوں میں کامیابی اس لیے ممکن نہیں ہورہی ہے کہ اس مسئلے کو مذہبی رنگ دے دیا گیا ہے، جب تک اس مسئلے کے حل کے لیے نظریاتی ترغیب فراہم نہیں کی جائے گی یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ فلسطین کے حوالے سے ادبی محاذ پر بھی مثبت کوششیں جاری ہیں اور فلسطین کے مسئلے پر لکھے گئے ایک افسانے ''دیوار گریہ'' سے اقتباسات پیش کیے جارہے ہیں، کیا ادبی محاذ پر بھی یہ لڑائی لڑی جانی چاہیے؟

عبداﷲ ایک مستری تھا، وہ سول انجینئر بننا چاہتا تھا لیکن دوسرے فلسطینیوں کی طرح عبداﷲ کے خاندان کو بھی بے وطنی کا سامنا تھا۔ مسلسل مہاجرت کی وجہ سے وہ سول انجینئر تو نہ بن سکا البتہ راج مستری بن گیا، اسے کام کی تلاش میں اکثر یہودی بستیوں میں جانا پڑتا تھا۔ ایک دن وہ اڈے پر کام کے انتظار میں بیٹھا تھا کہ ایک ادھیڑ عمر شخص آیا ۔

اس نے کہا میرا نام گورڈن ہے، میرا کچن ٹوٹ گیا ہے، کیا تم اسے بنادوگے۔کیوں نہیں، میں ایک اچھا راج مستری ہوں، یہ کام میں نے مصر میں سیکھا ہے۔ تو آؤ میرے ساتھ چلو اگر تم نے مہارت سے میرا کچن بنادیا تو میں تمہیں اپنا نیا گھر بنانے کا کام بھی دے دوںگا۔ عبداﷲ گورڈن کے ساتھ اس کے گھر پہنچا۔ ایبی! یہ راج مستری ہے، اس کا نام عبداﷲ ہے۔ یہ ہمارا کچن بنائے گا ، تم اس کا خیال رکھنا، گورڈن عبداﷲ کو میٹریل دے کر آفس چلا گیا۔

عبداﷲ نے اپنی زندگی میں ایک سے بڑھ کر ایک خوب صورت لڑکی دیکھی تھی۔ لیکن ایبی اسے کوئی اور ہی دنیا کی مخلوق نظر آرہی تھی۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بار بار ایبی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ یہودی لڑکیاں بہت حسین ہوتی ہیں لیکن ایبی کی بات ہی کچھ اور تھی۔ ایبی بھی عبداﷲ کی مردم وجاہت سے متاثر نظر آرہی تھی۔ عبداﷲ نے گورڈن کا کچن بڑی مہارت سے بنایا۔ عبداﷲ کے کام سے خوش ہوکر گورڈن نے اپنے نئے مکان کی تعمیر کا کام بھی اسے دے دیا۔

شروع میں تو اسے احساس ہوا کہ اسے یہودیوں کی اس نئی بستی میں کام نہیں کرنا چاہیے لیکن یہ ایک لمبا کام تھا جو مشکل ہی سے ملتا تھا۔ پھر ایبی بھی اصرار کررہی تھی کہ عبداﷲ ان کے نئے گھر بنانے کی ذمے داری قبول کرلے۔ عبداﷲ انکار نہ کرسکا۔ عبداﷲ کے ذہن میں بار بار یہ خیال آرہا تھا کہ کیا اسے اپنے اس دشمن قوم کے ایک شخص کا مکان بنانا چاہیے۔ اس کے دو جوان بھائی یہودیوں کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے تھے لیکن ایبی کا ملکوتی چہرہ جب اس کے سامنے آتا تو اس کی نفرت کے انگاروں پر شبنم گرنے لگتی۔ اب اسے یہاں کام کرتے تین ماہ ہورہے تھے، ان تین مہینوں میں ایبی کے مکان کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ایک آشیانہ اور تعمیر ہورہا تھا وہ تھا ایبی اور عبداﷲ کی محبت کا آشیانہ۔

عبداﷲ ہر روز بڑی پابندی سے ایبی کے گھر کی تعمیر میں جٹا ہوا تھا ۔ ایک دن عبداﷲ کام پر نہ آیا۔ ایبی اس کا انتظار کرتی رہی، وہ پاگلوں کی طرح گھر کی صحن میں ٹہل رہی تھی جب دس بج گئے تو اس سے عبداﷲ کا انتظار برداشت نہ ہوسکا، وہ عبداﷲ کے گھر پہنچ گئی، عبداﷲ کی بہن نے اس کا استقبال کیا جب ایبی نے اپنا تعارف کرایا تو عبداﷲ بہن لیلیٰ نے اسے گلے لگالیا۔ ایبی نے عبداﷲ کے باپ سے عبداﷲ کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی اجازت طلب کی۔

تم کون ہوتی ہو عبداﷲ کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے والی۔ عبداﷲ کے باپ کی جھڑکی سے ایبی رونے لگی، عبداﷲ کی ماں کا دل پسج گیا ، اس نے عبداﷲ کے باپ کی طرف منت بھری نظروں سے دیکھا، لیلیٰ ساتھ چلی جائے گی، عبداﷲ کی ماں نے کہا۔

خاموش! کیا تم اپنے دو نوجوان بیٹوں کی لاشوں کو بھول گئیں؟ نہیں بھولی لیکن ایبی ایک معصوم لڑکی ہے، ایبی اس کی ذمے دار نہیں، تم کیا بک رہی ہو، یہ لڑکی ان ہی ظالموں کی اولاد ہے۔ لیکن یہ ظالم نہیں یہ تو ایک پاگل لڑکی ہے جو یہ بھی نہیں جانتی کہ وہ کیا کررہی ہے؟

حضریٰ! یہ جاسوس بھی ہوسکتی ہے۔ باپ نے بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا نہیں یہ جاسوس نہیں ہوسکتی، تم مرد ہو عورت کے دل کو نہیں جانتے۔

عبداﷲ کی ماں نے ایبی کو سمجھاکر واپس بھجوادیا۔

ایبی جب گھر پہنچی تو اس کا باپ غصے سے لال پیلا ہورہاتھا۔ ایبی کیا تم پاگل ہوگئی ہو کیا تم نے اپنے بھائیوں کو بھلادیا جنھیں فلسطینیوں نے مارا تھا۔ پاپا! انھیں عبداﷲ نے نہیں مارا، عبداﷲ کے دو بھائی بھی اس جنگ میں مارے گئے ہیں۔ پاپا سنو تم لوگ نسلوں سے ایک دوسرے سے نفرت کررہے ہو، تمہاری نسل نے ایک دوسرے کا خون بہارہے ہو جب تک یہ بستیاں جب تک یہودیوں کی بستیاں رہیںگے، خون بہتا رہے گا ان بستیوں کو ایبی اور عبداﷲ کی بستیاں بننے دو تم نے جو گناہ کیے ہیں ہمیں اس کا ازالہ کرنے دو ان بستیوں کو ایبی اور عبداﷲ کی بستیاں بننے دو۔

شٹ اپ گورڈن نے ایبی کی طرف غصے سے دیکھتے ہوئے کہا۔ کل سے نیا راج مستری آئے گا۔ عبداﷲ اب اس بستی میں نہیں آئے گا۔

مقبول خبریں