بلوچستان کی ترقی کی باتیں دشمن کو بے قرار کرتی ہیں کمانڈر سدرن کمانڈ
کوئی لندن، کوئی جنیوا اور کوئی مذہب کےنام پراستعمال ہورہا ہےلیکن یہ وقت آپس میں لڑنے کا نہیں، جنرل عامر ریاض
بھٹکے ہوئے لوگوں کو پیغام دیتا ہوں کہ سدھر جائیں ورنہ سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، کمانڈر سدرن کمانڈ. فوٹو: فائل
کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا کہنا ہے کہ جب بھی بلوچستان کی ترقی کی بات آتی ہے تو دشمن بے قرار ہو جاتا ہے۔
کوئٹہ اسکاؤٹس میں یوم شہداء کے حوالے سے منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمانڈر سدرن کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا کہنا تھا کہ کئی بار کہہ چکا ہوں کہ جنگ اچھی چیز نہیں ہے، گزشتہ 10 سالوں میں 60 ہزار کے قریب لوگوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں لیکن یقین دلاتا ہوں کہ اس جنگ میں جیت پاکستان کی ہی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے تمام شہدا کی قربانیوں پر فخر ہے، اس ملک کی جڑوں میں ہی بہت سے شہدا کا لہو ہے اور ہمیں ہی اس ملک کا دفاع کرنا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے کہا کہ جب بھی بلوچستان میں ترقی کی بات آتی ہے تو دشمن بے قرار ہوجاتا ہے، یہ ظالم لوگ ہمارے ملک کے نظریے کے خلاف ہیں، بھٹکے ہوئے لوگوں کو پیغام دیتا ہوں کہ سدھر جائیں ورنہ سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ کوئی لندن، کوئی جنیوا اور کوئی مذہب کے نام پر استعمال ہورہا ہے لیکن یہ یہ وقت آپس میں لڑنے کا نہیں بلکہ مل کر آگے بڑھنے کا ہے، اندر کے لوگ ان کے بہکاوے میں نہ آئیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
کوئٹہ اسکاؤٹس میں یوم شہداء کے حوالے سے منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمانڈر سدرن کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا کہنا تھا کہ کئی بار کہہ چکا ہوں کہ جنگ اچھی چیز نہیں ہے، گزشتہ 10 سالوں میں 60 ہزار کے قریب لوگوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں لیکن یقین دلاتا ہوں کہ اس جنگ میں جیت پاکستان کی ہی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے تمام شہدا کی قربانیوں پر فخر ہے، اس ملک کی جڑوں میں ہی بہت سے شہدا کا لہو ہے اور ہمیں ہی اس ملک کا دفاع کرنا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے کہا کہ جب بھی بلوچستان میں ترقی کی بات آتی ہے تو دشمن بے قرار ہوجاتا ہے، یہ ظالم لوگ ہمارے ملک کے نظریے کے خلاف ہیں، بھٹکے ہوئے لوگوں کو پیغام دیتا ہوں کہ سدھر جائیں ورنہ سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ کوئی لندن، کوئی جنیوا اور کوئی مذہب کے نام پر استعمال ہورہا ہے لیکن یہ یہ وقت آپس میں لڑنے کا نہیں بلکہ مل کر آگے بڑھنے کا ہے، اندر کے لوگ ان کے بہکاوے میں نہ آئیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔