ایران کے ساتھ تعلقات کو شراکت داری میں تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے وزیراعظم

ایران اور پاكستان كو ایك جیسے چیلنجوں كا سامنا ہے، وزیراعظم کا بزنس فورم سے خطاب

ایران کے ساتھ تجارت کے حجم کو 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف ہے، وزیراعظم کا بزنس فورم سے خطاب، فوٹو؛ پی آئی ڈی

وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ معاشی اہداف كے حصول کے لیے دہشت گردی اور توانائی بحران سے جلد نمٹنا ہو گا جب کہ ایران کے ساتھ تعلقات کو شراکت داری میں تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد میں مشتركہ بزنس فورم سے خطا ب میں وزیراعظم نوازشریف نے ایرانی صدر كو پاكستان كے دورے پر خوش آمدید كہتے ہوئے كہا كہ دونوں ملكوں كے گہرے تعلقات باہمی احترام مذہب اور ثقافت پر مبنی ہیں ان برادرانہ تعلقات كو شراكت داری میں تبدیل كرنا وقت كی ضرورت ہے۔ انہوں نے كہا كہ تجارت كے فروغ کے لیے اقتصادی راہداری قائم كر رہے ہیں، معاشی اہداف كے حصول کے لیے دہشت گردی اور توانائی بحران سے جلد نمٹنا ہو گا، معاشی انقلاب سے ناصرف پاكستان بلكہ پورے خطے میں خوشحالی آئے گی۔


وزیراعظم نے كہا ہے كہ معاشی اہداف كے حصول کے لیے دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنا ہوگا اور موجودہ حكومت اس كے خاتمے كے لیے اقدامات كر رہی ہے۔ انہوں نے كہا كہ پاكستان اور ایران كے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات قائم ہیں، دونوں ممالك كے درمیان گہرے تعلقات باہمی احترام، مذہب اور ثقافت پر مبنی ہیں، ایران كے ساتھ برادرانہ تعلق كو شراكت داری میں بدلنا وقت كی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی بحران كی وجہ سے سالانہ شرح نمو میں 2 فیصد كمی كا سامنا ہے، توانائی كے اس بحران كو ختم كرنے کے لیے 2018 تك 12 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل كریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دونوں ممالك 5 سال میں تجارت سے بھرپور فائدہ اٹھا سكتے ہیں، ایران كے ساتھ تجارت كے حجم كو 5 ارب ڈالر تك پہنچانے كا ہدف ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی كے عفریت كے خاتمہ كے بغیر قائد كے پاكستان كا تصور ممكن نہیں ہے، ایران اور پاكستان كو ایك جیسے چیلنجوں كا سامنا ہے لہٰذا عالمی تجارت میں اسلامی ممالك كا حصہ بڑھانے كی ضرورت ہے۔

Load Next Story