آج 27 مارچ ہے
بمبئی نمبر 3 کی شائع کردہ سیرت محمد علی جناح صفحہ 202 پر جناح صاحب کا یہ خطبہ صدارت موجود ہے۔
zahedahina@gmail.com
آج 27 مارچ ہے، 4 دن پہلے 23 مارچ گزری تھی اور اب سے بہت پہلے 23 مارچ 1940ء گزری تھی جس روز اسلامیانِ ہند کے لیے ایک وطن کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ اس قرارداد میں لفظ 'پاکستان' کہیں استعمال نہیں ہوا تھا۔ اس سے پہلے 1938ء میں اپریل کی 17 اور 18 تاریخ کو کلکتے میں جناح صاحب کی زیر صدارت ایک اجلاس ہوا تھا۔
مکتبہ لیگ، بھنڈی بازار، بمبئی نمبر 3 کی شائع کردہ سیرت محمد علی جناح صفحہ 202 پر جناح صاحب کا یہ خطبہ صدارت موجود ہے۔ اس میں انھوں نے کہا '' ہم نے نام نہاد مولاناؤں کے اقتدار کا خاتمہ ایک حد تک کر دیا ہے جو دوسروں کی انگیخت پر قوم کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ ہمیں پورے انہماک اور جوش نے سے اپنی جدوجہد کو جاری رکھنا چاہیے۔ اس جنگ آزادی میں ہمیں اپنی عورتوں کو بھی ساتھ رکھنا چاہیے۔''
1358ھ کی عیدالفطر کے موقعہ پر جناح صاحب نے مسلمانان ہند کے نام ایک پیغام براڈ کاسٹ کیا جو لیگی اخباروں نے اہتمام کے ساتھ شائع کیا۔ ایک مذہبی جماعت کے رکن نے جناح صاحب کے اس پیغام کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا:
''جینا اس میں کہتا ہے کہ قرآن پاک میں انسان کو خلیفتہ اللہ کہا گیا ہے۔ اگر انسان کے متعلق اس بیان کی کوئی اہمیت ہے تو اس بناء پر ہمارے اوپر قرآن پاک کی پیروی کا فرض عائد ہوتا ہے کہ دوسرے کے ساتھ وہ سلوک کریں جو اللہ تعالیٰ نے نوع انسان کے ساتھ کیا ہے۔ وسیع ترین مفہوم کے لحاظ سے یہ محبت اور رواداری کا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ وہ چاہے جس ملت سے تعلق رکھتے ہوں محبت اور رواداری پر ہمارا عقیدہ ہے تو ہمیں اپنے روزمرہ کے سیدھے سادھے فرائض اور خاموش تقویٰ کے سلسلے میں اس پر کاربند ہونا چاہیے۔''
جناح صاحب کے اس پیغام کو نقل کرنے کے بعد کہا گیا کہ: ''اس کفریٰ عبارت میں مسٹر جینا نے ہر کافر و مسلم، ہر مذہب و بے دین کے ساتھ محبت رکھنا مسلمانوں پر قرآنی فرض بتا دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر بھی افترا کہ اس کو بھی ہر مذہب و ملت کے انسان کے ساتھ محبت ہے۔'' عید الفطر کے اس پیغام کو نشانہ بناتے ہوئے قائداعظم پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا۔ اس فتوے کی عبارت نقل کرنا محض فساد کو دعوت دینا ہے اس لیے اس سے گریز کرنے میں ہی عافیت ہے۔
یہاں یہ باتیں اس لیے یاد آ رہی ہیں کہ تحریک پاکستان چلاتے ہوئے جناح صاحب اور ان کے ساتھیوں نے مسلمان عورتوں اور لڑکیوں کو یقین دلایا تھا کہ وہ تحریک آزادی میں برابر کی شریک ہیں۔17 برس کی نوجوان اور آل انڈیا ریڈیو کی سیلے بریٹی صداکار سحاب قزلباش، برابر کی شراکت داری پر اسی یقین کے ساتھ دلی کے بارونق اور ایلیٹ علاقے کناٹ پیلس میں اپنی درجنوں سہیلیوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے پاکستانی جھنڈے بیچتی تھیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ :
''ہم نور الصباح بیگم اور بیگم شریف کے دیے ہوئے ٹین کے بڑے بڑے ڈبے اٹھائے ہوئے ہوتے۔ ایک خاص معینہ وقت پر بیگم شریف اپنی کار بھیجتیں اور ہم اپنے اپنے گھر پہنچا دیے جاتے۔ بیگم شریف جو بہت اہم حیثیت رکھتی تھیں، وہ ہمیشہ اسٹیج پر بھی کالا برقعہ اور کالی عینک لگائے نظر آتیں۔ سب ورکرز کو کھانا کھلانا اور گاڑیاں مہیا کرنا ان کے ذمے تھا۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان اس وقت ساڑی پہنے اسٹیج پر نظر آتیں۔ دلی کے لال قلعے کے زیرِ سایہ ''پردہ باغ'' جو لیڈی ہارون کلب کہلاتا تھا، اس میں ہر بدھ کو عورتوں کا جلسہ ہوتا اور اس میں کھانے پینے کی چیزوں اور چوڑیوں کے اسٹال عورتوں کے لیے لگا کرتے۔''
وہ ان نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو یاد کرتی ہیں جن میں حبیبہ آپا، مسرت تیموری، بیگم شائستہ اکرام اللہ، بیگم شریف، بیگم رعنا لیاقت، قریشی سسٹرز، صفیہ درانی، بیگم رحیم اور دوسری بہت سی خواتین تقریریں کرتیں اور مسلمان عورتوں کو اس کا یقین دلاتیں کہ پاکستان صرف مسلمان مردوں کا ہی نہیں، مسلمان عورتوں کا بھی ملک ہو گا۔ لیڈی ہارون، بیگم شاہنواز، بیگم تصدق رسول، بیگم خلیق الزماں، بیگم سروری عرفان اللہ اور محترمہ فاطمہ جناح سب ہی اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھیں۔
پاکستان بن گیا اور دونوں طرف کے جنونیوں نے خون کے دریا بہا دیے تو یہ لیڈی ہارون، بیگم نواب صدیق علی خاں، بیگم تزئین آفریدی اور دوسری متعدد خواتین تھیں جنھوں نے کراچی میں اور لاہور کے پناہ گزیں کیمپوں میں کس جاں فشانی سے کام کیا۔ مغویہ عورتوں کی بازیابی کے لیے فاطمہ بیگم کی اور مردولا سارا بھائی کی خدمات کیسے بھلائی جا سکتی ہیں۔ آج یہ تمام نام یاد فراموشی کے گھنے جنگلوں میں دھکیل دیے گئے ہیں اور جبہ و دستار میں ملبوس وہ حضرات سامنے آ گئے ہیں جن میں سے اکثر کی جماعتوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی۔
پنجاب کی صوبائی اسمبلی نے تحفظ حقوق نسواں کا بل منظور کیا تو ایک مخصوص حلقے کی جانب سے کہرام برپا کر دیا گیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دین کی بنیادیں ہل گئی ہیں۔ ان دنوں ٹیلی وژن پر جو مباحثے ہوئے ہیں، ان میں شریک ہونے والی خواتین کے ساتھ جتنی توہین آمیز زبان استعمال کی ہے، اسے سن کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عورت وہ پہلا اور آخری قلعہ ہے جسے فتح کر کے ہی اسلام سر بلند ہو سکتا ہے۔
حقوق نسواں بل کے مخالف ان بے آسرا اور مجبور عورتوں کے حق میں آواز بلند نہیں کرتے جو دیہاتوں میں بے حرمت کی جاتی ہیں، جن کی فریاد نہ پٹواری سنتا ہے، نہ پولیس۔ جنھیں بازار میں برہنہ پھرایا جائے تو اس پر کوئی اغراض نہیں کیا جاتا۔ کوئی عورت اپنی بے حرمتی کی فریاد لے کر تھانے جائے تو حدود قوانین کے تحت جبری بے حرمتی کے جرم کو ثابت کرنا تقریباً نا ممکن بنا دیا گیا ہے۔ غرض مظلوم عورت کا اپنے ساتھ ہونے والے جرم کی گواہی دینا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
صرف دو دن پہلے 'ایکسپریس ٹریبیون' نے خیبر پختونخوا سے آنے والی خبروں کی تفصیل دی ہے جو 12 جنوری 2016ء سے مارچ 2016ء تک کی ہیں۔ یہ تمام خبریں عورتوں اور لڑکیوں پر تشدد کی ہیں۔ ان واقعات میں کہیں 11 برس کی بچی کی اجتماعی بے حرمتی ہوئی، کہیں 18 برس کی نئی نویلی دلہن کو ذبح کیا گیا، کسی لڑکی کو اس لیے گولیوں سے چھلنی کیا گیا کہ اس نے اپنے لیے آنے والے رشتے سے انکار کیا تھا۔ کہاں تک لکھا جائے کہ 3 مہینوں کے اندر 18 واقعات ہیں جن میں بچیاں اور عورتیں تشدد کا نشانہ بنیں اور جان سے گزریں۔ دوسرے صوبوں سے آنے والی خبریں بھی اسی طرح عورتوں کے لہو سے بھیگی ہوئی ہیں۔ ان میں سے بیشتر غیرت کے قتل کہلاتے ہیں اور ان کی داد فریاد کہاں ہے؟ کس دربار میں ہے؟ کس سرکار میں ہے؟
پڑھی لکھی، قوانین سے واقف اور شادی کی عمر کو ذہن میں رکھتے ہوئے طبی مسائل سے آشنا خواتین اگر ان مظلوم لڑکیوں اور عورتوں کا مقدمہ لڑتی ہیں تو انھیں بے راہ رو، بدکار اور اسلام کو نقصان پہنچانے والی یہود و ہنود کی سازش کا شریک کار کہا جاتا ہے۔ یاد نہیں پڑتا کہ اسلامی شریعت کونسل کے علماء نے یا کسی دوسری سیاسی اور مذہبی جماعت کے سربراہوں نے ان مظلوموں کے حق میں آواز بلند کی ہو، ان کی داد رسی کو پہنچے ہوں۔
آج 27 مارچ ہے۔
جبہ و دستار والوں نے آج کی ہی تاریخ کا حکومت کو الٹی میٹم دیا تھا۔ اس قانون میں ترمیم کی باتیں ہو رہی ہیں۔ خبر آئی ہے کہ 1100 علماء کو خطوط لکھ دیے گئے ہیں کہ اس قانون میں ترامیم کے لیے اپنی تجاویز ارسال فرمائیں۔
اس سلسلے میں سرکار اور جبہ و دستار کے درمیان کیا مذاکرات ہوتے ہیں اور بات کس نہج پر پہنچتی ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس وقت تک لیے ایک نظم آپ لوگوں کی نذر ہے۔ یہ کینیڈا میں رہنے والی پاکستانی شاعرہ نسیم سید نے اب سے 25 برس پہلے لکھی تھی، یہ خدا کے نام ایک خط ہے:
''عظیم منصف... ہماری قسمت کی ہر عدالت کا فیصلہ ہے... کہ ہم ... جب اپنے بدن کی... بے حرمتی کی... فریاد لے کے جائیں... تو اپنا کوئی گواہ لائیں... ''گواہ'' ایسی گھڑی کا... جب وحشتوں سے ... وحشت پناہ مانگے... ''گواہ''... ایسے گناہ کا... جس کے تذکرے سے... گناہ کانپے... ہمیں کوئی ایسا معجزہ دے ... کہ... گونگی، اندھی سیاہ شب کو... گواہیوں کا ہنر سکھائیں... بصیر ہے تو... خبیر ہے تو، تجھے خبر ہے... کہ آج تک... موت کے علاوہ... کوئی نہ اپنا گواہ پایا... ہمیں پہ ٹوٹیں قیامتیں بھی... ہمیں نے ذلت کا بار اٹھایا... کتاب انصاف کے مصنف... ترے صحیفے... زبور و انجیل ہوں کہ تورات... عورتیں سب کی ذی شرف ہیں... سب اپنی اپنی کتاب کی رو سے... اپنے بارے میں باخبر ہیں... فہیم ہیں... بالغ النظر ہیں... گواہیاں سب کی معتبر ہیں... تو پھر ہمارے ہی پشت پر ہاتھ کیوں بندھے ہیں... ہماری ہی سب گواہیوں پر... یہ بے یقینی کی مہر کیوں ہے... سبھی صحیفوں میں یہ لکھا ہے... ترے ترازو کا کوئی پلڑا جھکا نہیں ہے... تو کیا یہ سمجھیں...؟ ... ہمارا کوئی خدا نہیں ہے...؟
مکتبہ لیگ، بھنڈی بازار، بمبئی نمبر 3 کی شائع کردہ سیرت محمد علی جناح صفحہ 202 پر جناح صاحب کا یہ خطبہ صدارت موجود ہے۔ اس میں انھوں نے کہا '' ہم نے نام نہاد مولاناؤں کے اقتدار کا خاتمہ ایک حد تک کر دیا ہے جو دوسروں کی انگیخت پر قوم کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ ہمیں پورے انہماک اور جوش نے سے اپنی جدوجہد کو جاری رکھنا چاہیے۔ اس جنگ آزادی میں ہمیں اپنی عورتوں کو بھی ساتھ رکھنا چاہیے۔''
1358ھ کی عیدالفطر کے موقعہ پر جناح صاحب نے مسلمانان ہند کے نام ایک پیغام براڈ کاسٹ کیا جو لیگی اخباروں نے اہتمام کے ساتھ شائع کیا۔ ایک مذہبی جماعت کے رکن نے جناح صاحب کے اس پیغام کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا:
''جینا اس میں کہتا ہے کہ قرآن پاک میں انسان کو خلیفتہ اللہ کہا گیا ہے۔ اگر انسان کے متعلق اس بیان کی کوئی اہمیت ہے تو اس بناء پر ہمارے اوپر قرآن پاک کی پیروی کا فرض عائد ہوتا ہے کہ دوسرے کے ساتھ وہ سلوک کریں جو اللہ تعالیٰ نے نوع انسان کے ساتھ کیا ہے۔ وسیع ترین مفہوم کے لحاظ سے یہ محبت اور رواداری کا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ وہ چاہے جس ملت سے تعلق رکھتے ہوں محبت اور رواداری پر ہمارا عقیدہ ہے تو ہمیں اپنے روزمرہ کے سیدھے سادھے فرائض اور خاموش تقویٰ کے سلسلے میں اس پر کاربند ہونا چاہیے۔''
جناح صاحب کے اس پیغام کو نقل کرنے کے بعد کہا گیا کہ: ''اس کفریٰ عبارت میں مسٹر جینا نے ہر کافر و مسلم، ہر مذہب و بے دین کے ساتھ محبت رکھنا مسلمانوں پر قرآنی فرض بتا دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر بھی افترا کہ اس کو بھی ہر مذہب و ملت کے انسان کے ساتھ محبت ہے۔'' عید الفطر کے اس پیغام کو نشانہ بناتے ہوئے قائداعظم پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا۔ اس فتوے کی عبارت نقل کرنا محض فساد کو دعوت دینا ہے اس لیے اس سے گریز کرنے میں ہی عافیت ہے۔
یہاں یہ باتیں اس لیے یاد آ رہی ہیں کہ تحریک پاکستان چلاتے ہوئے جناح صاحب اور ان کے ساتھیوں نے مسلمان عورتوں اور لڑکیوں کو یقین دلایا تھا کہ وہ تحریک آزادی میں برابر کی شریک ہیں۔17 برس کی نوجوان اور آل انڈیا ریڈیو کی سیلے بریٹی صداکار سحاب قزلباش، برابر کی شراکت داری پر اسی یقین کے ساتھ دلی کے بارونق اور ایلیٹ علاقے کناٹ پیلس میں اپنی درجنوں سہیلیوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے پاکستانی جھنڈے بیچتی تھیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ :
''ہم نور الصباح بیگم اور بیگم شریف کے دیے ہوئے ٹین کے بڑے بڑے ڈبے اٹھائے ہوئے ہوتے۔ ایک خاص معینہ وقت پر بیگم شریف اپنی کار بھیجتیں اور ہم اپنے اپنے گھر پہنچا دیے جاتے۔ بیگم شریف جو بہت اہم حیثیت رکھتی تھیں، وہ ہمیشہ اسٹیج پر بھی کالا برقعہ اور کالی عینک لگائے نظر آتیں۔ سب ورکرز کو کھانا کھلانا اور گاڑیاں مہیا کرنا ان کے ذمے تھا۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان اس وقت ساڑی پہنے اسٹیج پر نظر آتیں۔ دلی کے لال قلعے کے زیرِ سایہ ''پردہ باغ'' جو لیڈی ہارون کلب کہلاتا تھا، اس میں ہر بدھ کو عورتوں کا جلسہ ہوتا اور اس میں کھانے پینے کی چیزوں اور چوڑیوں کے اسٹال عورتوں کے لیے لگا کرتے۔''
وہ ان نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو یاد کرتی ہیں جن میں حبیبہ آپا، مسرت تیموری، بیگم شائستہ اکرام اللہ، بیگم شریف، بیگم رعنا لیاقت، قریشی سسٹرز، صفیہ درانی، بیگم رحیم اور دوسری بہت سی خواتین تقریریں کرتیں اور مسلمان عورتوں کو اس کا یقین دلاتیں کہ پاکستان صرف مسلمان مردوں کا ہی نہیں، مسلمان عورتوں کا بھی ملک ہو گا۔ لیڈی ہارون، بیگم شاہنواز، بیگم تصدق رسول، بیگم خلیق الزماں، بیگم سروری عرفان اللہ اور محترمہ فاطمہ جناح سب ہی اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھیں۔
پاکستان بن گیا اور دونوں طرف کے جنونیوں نے خون کے دریا بہا دیے تو یہ لیڈی ہارون، بیگم نواب صدیق علی خاں، بیگم تزئین آفریدی اور دوسری متعدد خواتین تھیں جنھوں نے کراچی میں اور لاہور کے پناہ گزیں کیمپوں میں کس جاں فشانی سے کام کیا۔ مغویہ عورتوں کی بازیابی کے لیے فاطمہ بیگم کی اور مردولا سارا بھائی کی خدمات کیسے بھلائی جا سکتی ہیں۔ آج یہ تمام نام یاد فراموشی کے گھنے جنگلوں میں دھکیل دیے گئے ہیں اور جبہ و دستار میں ملبوس وہ حضرات سامنے آ گئے ہیں جن میں سے اکثر کی جماعتوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی۔
پنجاب کی صوبائی اسمبلی نے تحفظ حقوق نسواں کا بل منظور کیا تو ایک مخصوص حلقے کی جانب سے کہرام برپا کر دیا گیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دین کی بنیادیں ہل گئی ہیں۔ ان دنوں ٹیلی وژن پر جو مباحثے ہوئے ہیں، ان میں شریک ہونے والی خواتین کے ساتھ جتنی توہین آمیز زبان استعمال کی ہے، اسے سن کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عورت وہ پہلا اور آخری قلعہ ہے جسے فتح کر کے ہی اسلام سر بلند ہو سکتا ہے۔
حقوق نسواں بل کے مخالف ان بے آسرا اور مجبور عورتوں کے حق میں آواز بلند نہیں کرتے جو دیہاتوں میں بے حرمت کی جاتی ہیں، جن کی فریاد نہ پٹواری سنتا ہے، نہ پولیس۔ جنھیں بازار میں برہنہ پھرایا جائے تو اس پر کوئی اغراض نہیں کیا جاتا۔ کوئی عورت اپنی بے حرمتی کی فریاد لے کر تھانے جائے تو حدود قوانین کے تحت جبری بے حرمتی کے جرم کو ثابت کرنا تقریباً نا ممکن بنا دیا گیا ہے۔ غرض مظلوم عورت کا اپنے ساتھ ہونے والے جرم کی گواہی دینا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
صرف دو دن پہلے 'ایکسپریس ٹریبیون' نے خیبر پختونخوا سے آنے والی خبروں کی تفصیل دی ہے جو 12 جنوری 2016ء سے مارچ 2016ء تک کی ہیں۔ یہ تمام خبریں عورتوں اور لڑکیوں پر تشدد کی ہیں۔ ان واقعات میں کہیں 11 برس کی بچی کی اجتماعی بے حرمتی ہوئی، کہیں 18 برس کی نئی نویلی دلہن کو ذبح کیا گیا، کسی لڑکی کو اس لیے گولیوں سے چھلنی کیا گیا کہ اس نے اپنے لیے آنے والے رشتے سے انکار کیا تھا۔ کہاں تک لکھا جائے کہ 3 مہینوں کے اندر 18 واقعات ہیں جن میں بچیاں اور عورتیں تشدد کا نشانہ بنیں اور جان سے گزریں۔ دوسرے صوبوں سے آنے والی خبریں بھی اسی طرح عورتوں کے لہو سے بھیگی ہوئی ہیں۔ ان میں سے بیشتر غیرت کے قتل کہلاتے ہیں اور ان کی داد فریاد کہاں ہے؟ کس دربار میں ہے؟ کس سرکار میں ہے؟
پڑھی لکھی، قوانین سے واقف اور شادی کی عمر کو ذہن میں رکھتے ہوئے طبی مسائل سے آشنا خواتین اگر ان مظلوم لڑکیوں اور عورتوں کا مقدمہ لڑتی ہیں تو انھیں بے راہ رو، بدکار اور اسلام کو نقصان پہنچانے والی یہود و ہنود کی سازش کا شریک کار کہا جاتا ہے۔ یاد نہیں پڑتا کہ اسلامی شریعت کونسل کے علماء نے یا کسی دوسری سیاسی اور مذہبی جماعت کے سربراہوں نے ان مظلوموں کے حق میں آواز بلند کی ہو، ان کی داد رسی کو پہنچے ہوں۔
آج 27 مارچ ہے۔
جبہ و دستار والوں نے آج کی ہی تاریخ کا حکومت کو الٹی میٹم دیا تھا۔ اس قانون میں ترمیم کی باتیں ہو رہی ہیں۔ خبر آئی ہے کہ 1100 علماء کو خطوط لکھ دیے گئے ہیں کہ اس قانون میں ترامیم کے لیے اپنی تجاویز ارسال فرمائیں۔
اس سلسلے میں سرکار اور جبہ و دستار کے درمیان کیا مذاکرات ہوتے ہیں اور بات کس نہج پر پہنچتی ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس وقت تک لیے ایک نظم آپ لوگوں کی نذر ہے۔ یہ کینیڈا میں رہنے والی پاکستانی شاعرہ نسیم سید نے اب سے 25 برس پہلے لکھی تھی، یہ خدا کے نام ایک خط ہے:
''عظیم منصف... ہماری قسمت کی ہر عدالت کا فیصلہ ہے... کہ ہم ... جب اپنے بدن کی... بے حرمتی کی... فریاد لے کے جائیں... تو اپنا کوئی گواہ لائیں... ''گواہ'' ایسی گھڑی کا... جب وحشتوں سے ... وحشت پناہ مانگے... ''گواہ''... ایسے گناہ کا... جس کے تذکرے سے... گناہ کانپے... ہمیں کوئی ایسا معجزہ دے ... کہ... گونگی، اندھی سیاہ شب کو... گواہیوں کا ہنر سکھائیں... بصیر ہے تو... خبیر ہے تو، تجھے خبر ہے... کہ آج تک... موت کے علاوہ... کوئی نہ اپنا گواہ پایا... ہمیں پہ ٹوٹیں قیامتیں بھی... ہمیں نے ذلت کا بار اٹھایا... کتاب انصاف کے مصنف... ترے صحیفے... زبور و انجیل ہوں کہ تورات... عورتیں سب کی ذی شرف ہیں... سب اپنی اپنی کتاب کی رو سے... اپنے بارے میں باخبر ہیں... فہیم ہیں... بالغ النظر ہیں... گواہیاں سب کی معتبر ہیں... تو پھر ہمارے ہی پشت پر ہاتھ کیوں بندھے ہیں... ہماری ہی سب گواہیوں پر... یہ بے یقینی کی مہر کیوں ہے... سبھی صحیفوں میں یہ لکھا ہے... ترے ترازو کا کوئی پلڑا جھکا نہیں ہے... تو کیا یہ سمجھیں...؟ ... ہمارا کوئی خدا نہیں ہے...؟