کلبھوشن ایشو ایران سے تعاون طلب

بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد بھارتی مداخلت کے ٹھوس ثبوت پاکستان کے ہاتھ آئے ہیں۔

بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد بھارتی مداخلت کے ٹھوس ثبوت پاکستان کے ہاتھ آئے ہیں۔

پاکستان نے ایران سے کلبھوشن یادیو کے ساتھی راکیش عرف رضوان اور بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے دوسرے ایجنٹس کو پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے' اس سلسلے میں پاکستان نے اس سے چھ نکات پر تعاون طلب کرتے ہوئے ایک ریفرنس ایران کو بھجوایا ہے جس کے مطابق (1) فوری طور پر راکیش عرف رضوان کو گرفتارکرکے پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ (2) کلبھوشن کے قیام، سرگرمیوں اور آمدورفت کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔ (3) کلبھوشن نے ایران کے کن کن شہروں میں سفرکیا اورمقاصد کیا تھے۔ (4) اس کے گروپ میں کتنے لوگ شامل ہیں ان کے بظاہر کیا کاروبار ہیں۔ (5) ایرانی سرزمین پر 'را' کا نیٹ ورک کیا ہے (6) اگر کوئی دوسری تفصیل ہے تو وہ بھی بتائی جائے۔

علاوہ ازیں دفتر خارجہ کے ترجمان محمد نفیس ذکریا نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گرفتار بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا گیا ہے' یورپی یونین' اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کو اس سلسلے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے اور انھیں بھارتی دہشت گرد کل بھوشن یادیو کی گرفتاری اور پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔

بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد بھارتی مداخلت کے ٹھوس ثبوت پاکستان کے ہاتھ آئے ہیں جس کے بعد اس نے اس معاملے پر نہ صرف بھارت سے احتجاج کیا بلکہ اسے عالمی سطح پر بھی اٹھایا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی یہ کہا ہے کہ کل بھوشن یادیو کے اعتراف سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ بھارت پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کے لیے فنڈز فراہم کرتا رہا ہے اور اب بھارت نے کل بھوشن یادیو تک قونصلر رسائی کی درخواست دی ہے جس پر غور کر رہے ہیں۔ بھارت ایک عرصے سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرا رہا ہے خاص طور پر وہ بلوچستان میں دہشت گرد قوتوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔


اس سے قبل بھی پاکستان بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت امریکا کے حوالے کر چکا ہے لیکن امریکا کی جانب سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہ آنے پر بھارت کو شہ ملی لیکن اب کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد حالات میں واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے جس پر عالمی قوتوں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ بھارت ایک عرصے سے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہا ہے لیکن اب ایران کی سرزمین کے استعمال ہونے کا انکشاف پاکستان کے لیے تشویشناک امر ہے کیونکہ یہ دونوں پاکستان کے ہمسایہ اور برادر اسلامی ممالک ہیں۔

بھارت ایرانی علاقے چاہ بہار میں بندر گاہ کی تعمیر کے سلسلے میں کام کر رہا ہے۔ اب تک ملنے والی معلومات کے مطابق کل بھوشن یادیو نے خاص مقاصد کے تحت چاہ بہار میں جیولری کا کاروبار شروع کیا اس کا ساتھی راکیش عرف رضوان اب بھی یہاں جیولری کا کاروبار کر رہا ہے' کل بھوشن یادیو نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ وہ چاہ بہار سے بلوچستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے۔ ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری ہونے والے پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے عناصر جو دونوں اسلامی ممالک پاکستان اور ایران کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر خوش نہیں وہ بے بنیاد خبریں پھیلا اور پروپیگنڈا کر رہے ہیں' بھارتی جاسوس کی گرفتاری سے متعلق ایسی باتیں پھیلائی گئی ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دراڑیں پیدا کی جا سکیں۔

وفاقی سیکریٹری داخلہ عارف احمد خان نے حکومت پاکستان کی جانب سے ایرانی وزارت داخلہ کو ریفرنس بھیجا ہے، پاکستان میں ایران کے سفیر مہدی ہنردوست کے ذریعے بھیجے گئے دو صفحات کے اس ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل اربوں ڈالر کی پاکستان چین اقتصادی راہداری کو ناکام بنانے کی کوشش میں تھا، ایران وہاں موجود ''را'' کے ایک اور ایجنٹ راکیش عرف رضوان کو پاکستان کے حوالے کرے۔ ایران ''را'' کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کو سنجیدہ طور پر دیکھے۔ پاکستان ایران سرحد کی خود مختاری کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں، توقع ہے کہ ایران پاکستان مخالف سرگرمیوں کا سخت نوٹس لے کر انھیں بند کرائے گا۔

ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ تعاون کی صورت میں نہ صرف دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ خطے میں دہشت گردی کے واقعات اور بد امنی میں بھی کمی آئے گی، پاکستان کے خلاف ایران کی سرزمین کے استعمال ہونے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایران برادر اسلامی ملک ہے جس سے یہ توقع نہیں کہ وہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والی کسی سرگرمی کی اجازت دے گا۔ اب ایران کو چاہیے کہ وہ چاہ بہار کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی موجود بھارتیوں پر کڑی نظر رکھے اور کل بھوشن یادیو کی پاکستان مخالف منفی سرگرمیوں کی انکوائری کرائے تاکہ بھارت کی جانب سے ریاستی سطح پر پاکستان کے خلاف کی جانے والی دہشت گردانہ کارروائیاں منظرعام پر آ سکیں۔
Load Next Story