افغانستان میں قیام امن… فریقین لچک کا مظاہرہ کریں

افغانستان کے بحران کا حل ابھی تک پیچیدہ صورت حال اختیار کیے ہوئے ہے

افغان مسئلے کا واحد حل یہی دکھائی دیتا ہے کہ تمام فریقین جلد از جلد مذاکرات کا عمل شروع کریں فوٹو: فائل

امریکی وزیر خارجہ جان کیری ہفتے کو غیر اعلانیہ دورے پر کابل پہنچے جہاں انھوں نے افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی جس میں طالبان سے امن مذاکرات، سیکیورٹی کی صورت حال اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، بظاہر ان کے اس دورے کا مقصد افغانستان کی قومی اتحادی حکومت کے لیے امریکا کی حمایت کا اعادہ کرنا تھا۔ افغان صدر سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ کابل اور واشنگٹن حکام طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔

افغانستان کے بحران کا حل ابھی تک پیچیدہ صورت حال اختیار کیے ہوئے ہے اور تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک اس بحران کے حل کی کوئی واضح صورت نظر نہیں آ رہی۔ امن مذاکرات کے حوالے سے افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے مگر باہمی اعتماد کے فقدان اور کسی متفقہ نکتے پر نہ پہنچنے کے باعث مذاکرات کا سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکا۔

افغان مذاکرات میں پاکستان، افغانستان، امریکا اور چین بھی شریک ہیں، ان چاروں ممالک کی کوشش ہے کہ طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے تاکہ افغان بحران کا کوئی مثبت حل برآمد ہو سکے۔ کچھ عرصہ قبل مری میں بھی افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں پاکستان نے سہولت کار کا بھرپور کردار ادا کیا۔ چند روز قبل پاکستان کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ پاکستان، افغانستان، امریکا اور چین کے نمایندے اس ماہ کے آخر میں افغانستان میں قیام امن کی تجاویز پر غور کے لیے ملاقات کریں گے۔

جہاں تک افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی کوششوں کا تعلق ہے تو سرتاج عزیز نے یہ واضح کر دیا تھا کہ پاکستان افغان طالبان کو مجبور نہیں کر سکتا تاہم قیام امن کی کوششوں کو جاری رکھا جائے تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔ ایک جانب امریکا اور افغان حکومت طالبان کو مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں تو دوسری جانب دونوں فریقین کے درمیان شدید لڑائی بھی جاری ہے، اخباری اطلاعات کے مطابق افغانستان کی سیکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری رکھا ہوا ہے، افغان وزارت دفاع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فوجی کارروائیوں میں 58 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا، یہ کارروائیاں نورستان، پکتیکا، غزنی اور ننگر ہار کے صوبوں میں کی گئی ہیں، مرنے والوں میں صوبہ نورستان کے لیے طالبان کے شیڈو گورنر بھی شامل ہیں۔


دوسری جانب افغان طالبان بھی بھرپور حملے کر رہے ہیں، انھوں نے صوبہ سمنگان میں حملہ کر کے تین پولیس اہلکاروں کو ہلاک اور دو کو زخمی کر دیا، اور کئی چیک پوسٹوں پر بھی حملے کیے۔ ایک طرف مذاکرات کی دعوت اور دوسری طرف ایک دوسرے پر بھرپور حملے چہ معنی دارد؟ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد اپنی طاقت کا اظہار اور ایک دوسرے کو دباؤ میں لانا ہے تاکہ جب مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو تو دوسرے فریق سے اپنی مرضی کی شرائط منوائی جا سکیں۔ امریکا، افغان حکومت اور طالبان نے مذاکرات کے لیے کیا کیا شرائط پیش کیے ہیں۔

اس کی تفصیل تو ابھی تک سامنے نہیں آ سکی مگر یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ چونکہ طالبان کے نزدیک امریکا اور اتحادی فوجیں غاصب ہیں اس لیے انھیں یہ علاقہ فوری طور پر خالی کر دینا چاہیے اس کے ساتھ ساتھ وہ یہاں پر شرعی قوانین بھی نافذ کرنے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں لہٰذا امریکا اور افغان حکومت کے نزدیک طالبان کی یہ شرائط ناقابل قبول ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا، افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات ابھی تک پٹڑی پر نہیں چڑھ رہے۔ ممکن ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی کا عمل جاری ہو لیکن ان کے لیے ایک دوسرے کی شرائط پر عمل کرنا ممکن نہ ہو۔

پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر زخیلوال نے بھی اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن بات چیت میں تاخیر اور رکاوٹ کی بڑی وجہ طالبان کا ایجنڈا ہے، وہ امن کے بجائے لڑائی پر یقین رکھتے ہیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہے کہ طالبان بدلے ہوئے موجودہ حالات کا درست ادراک نہیں کر رہے ، وہ ابھی تک اپنی پرانی ضد پر ہی ڈٹے ہوئے ہیں اور پیچھے ہٹنے کے لیے قطعی آمادہ نہیں ، اگر وہ افغان حکومت میں اپنی حیثیت اور طاقت سے بڑھ کر زیادہ شراکت کے طلب گار ہیں تو ایسا ممکن نہیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر امریکا افغانستان کو خالی کر دیتا ہے تو ایسا کرنا اس کے لیے شاید ممکن نہ ہو کیونکہ ایسی صورت میں عالمی سطح پر اس کی سبکی ہو گی ۔

اس کے اس عمل کو شکست سے تعبیر کیا جائے گا اور یہ سوال اٹھایا جائے گا کہ آخر افغانستان میں اتنی طویل جنگ لڑنے کا مقصد کیا تھا اور امریکا نے اس میں کیا حاصل کیا۔ لہٰذا اس صورتحال کے تناظر میں امریکا کسی بھی صورت افغانستان سے مکمل انخلا کے لیے رضا مند نہیں ہو گا۔ افغان مسئلے کا واحد حل یہی دکھائی دیتا ہے کہ تمام فریقین جلد از جلد مذاکرات کا عمل شروع کریں اور ہٹ دھرمی دکھانے کے بجائے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی نتیجے پر پہنچیں۔
Load Next Story