چالاک آکٹوپس نیوزی لینڈ کے مچھلی گھر سے فرار
آکٹوپس نے فرار کے لیے ساحلی شہر ناپیر کے نیشنل ایکوئریم کے15 سینٹی میٹر نکاسی پائپ کا انتخاب کیا۔
کٹوپس نے فرار کے لیے ساحلی شہر ناپیر کے نیشنل ایکوئریم کے15 سینٹی میٹر نکاسی پائپ کا انتخاب کیا۔ فوٹو؛ فائل
آکٹوپس کا نام آتے ہی ایک عجیب و غریب جانور کا تصور ابھرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی فٹبال ورلڈ کپ میں اس کی پیش گوئیاں کانوں میں گونجنے لگتی ہیں لیکن اب آکٹوپس نے نیوزی لینڈ میں مچھلی گھر سے راہ فرار اختیار کرکے حیرت انگیز کارنامہ انجام دے دیا ہے جس کے بعد لوگ اس کارنامے پر تبصرہ کرتے نظر آرہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیوزی لینڈ کے مچھلی گھر میں کئی سالوں سے لوگوں کو اپنی دلچسپ حرکتوں سے محظوظ کرنے والا آکٹو پس اچانک فرار ہوگیا اور طویل سفر طے کرتا ہوا بحرالاکاہل میں پہنچ کر اپنی آزادی کی خوشیاں منا رہا ہے۔ ''انکی'' نامی آکٹوپس نے فرار کے لیے ساحلی شہر ناپیر کے نیشنل ایکوئریم کے ایک 15 سینٹی میٹر نکاسی پائپ کے تنگ سے سوراخ کا انتخاب کیا اور بڑی مہارت سے وہاں سے نکل کر فرش پر رینگتا ہوا سمندر کی طرف نکل پڑا۔ مچھلی گھر کے منتظم کا کہنا تھا کہ ٹینک کا ڈھکن اس وقت تھوڑا سا کھلا رہ گیا جب مرمت کا کام جاری تھا جس کے باعث آکٹوپس ایک پائپ کے ذریعے سمندر کی طرف نکل پڑا۔
آکٹوپس کے جانے کے کافی دیر کے بعد مچھلی گھر کے ملازموں کو انکی کے فرار ہونے کا راستہ بھی مل گیا اور انہوں نے سمدنر تک اسے کھوجنے کی کوشش کی لیکن وہ ان کی پہنچ سے کہیں دور سمندر کی گہرائیوں میں پہنچ گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آکٹوپس کا سائز تقریباً ایک رگبی بال جتنا ہے اور اس کا بدن خاصا نرم ہے جس کی وجہ سے وہ مشکل ترین اور تنگ جگہوں میں سے نکل سکتا ہے۔ 'کافی بڑے آکٹوپس بھی اپنے اپ کو سکیڑ کر اپنے منہ کے سائز کا بنا سکتے ہیں اور انکی نے بھی ایسا ہی کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مچھلی گھر میں انکی دو آکٹوپس میں سے ایک تھا اور صرف اسی نے ہی فرار ہونے کے موقع کا فائدہ اٹھایا جب کہ دوسرا ایسا نہ کرسکا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیوزی لینڈ کے مچھلی گھر میں کئی سالوں سے لوگوں کو اپنی دلچسپ حرکتوں سے محظوظ کرنے والا آکٹو پس اچانک فرار ہوگیا اور طویل سفر طے کرتا ہوا بحرالاکاہل میں پہنچ کر اپنی آزادی کی خوشیاں منا رہا ہے۔ ''انکی'' نامی آکٹوپس نے فرار کے لیے ساحلی شہر ناپیر کے نیشنل ایکوئریم کے ایک 15 سینٹی میٹر نکاسی پائپ کے تنگ سے سوراخ کا انتخاب کیا اور بڑی مہارت سے وہاں سے نکل کر فرش پر رینگتا ہوا سمندر کی طرف نکل پڑا۔ مچھلی گھر کے منتظم کا کہنا تھا کہ ٹینک کا ڈھکن اس وقت تھوڑا سا کھلا رہ گیا جب مرمت کا کام جاری تھا جس کے باعث آکٹوپس ایک پائپ کے ذریعے سمندر کی طرف نکل پڑا۔
آکٹوپس کے جانے کے کافی دیر کے بعد مچھلی گھر کے ملازموں کو انکی کے فرار ہونے کا راستہ بھی مل گیا اور انہوں نے سمدنر تک اسے کھوجنے کی کوشش کی لیکن وہ ان کی پہنچ سے کہیں دور سمندر کی گہرائیوں میں پہنچ گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آکٹوپس کا سائز تقریباً ایک رگبی بال جتنا ہے اور اس کا بدن خاصا نرم ہے جس کی وجہ سے وہ مشکل ترین اور تنگ جگہوں میں سے نکل سکتا ہے۔ 'کافی بڑے آکٹوپس بھی اپنے اپ کو سکیڑ کر اپنے منہ کے سائز کا بنا سکتے ہیں اور انکی نے بھی ایسا ہی کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مچھلی گھر میں انکی دو آکٹوپس میں سے ایک تھا اور صرف اسی نے ہی فرار ہونے کے موقع کا فائدہ اٹھایا جب کہ دوسرا ایسا نہ کرسکا۔