اسٹیفن ہاکنگ اورمارک زکر برگ نے ایلین کی تلاش کے مشن کا آغاز کردیا
مشن میں انتہائی چھوٹے نینو کرافٹ روشنی کی شعاعوں سے الفا سینٹوری اسٹار سسٹم کی جانب روانہ کیے جائیں گے۔
مشن میں انتہائی چھوٹے نینو کرافٹ روشنی کی شعاعوں سے الفا سینٹوری اسٹار سسٹم کی جانب روانہ کیے جائیں گے۔ فوٹو؛ فائل
ISLAMABAD:
اب ایلین سانس دانوں کے لیے ایک حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں اور ناسا سمیت دنیا بھر کئی اہم سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ انسانوں کی طرح کوئی اور مخلوق بھی اس کائنات میں کہیں موجود ہے اور اس کی تلاش کے لیے اب عالمی شہرت یافتہ سائنس دان اور ماہر طبیعات اسٹیفن ہاکنگ نے فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کے ساتھ مل کا ایلین کی تلاش کے مشن کا باقاعدہ آغازکردیا ہے جس کی ابتدائی قیمت 10 کروڑ برطانوی پاؤنڈز لگائی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مشن کی فنڈنگ اسٹیفن ہاکنگ، مارک زکر برگ اور روسی ارب پتی یوری ملنر کریں گے اور دنیا کو بتائیں گے ایلین کا بسیرا کہاں ہے۔ اس مشن کو 'بریک تھرو اسٹارز شاٹ' کا نام دیا گیا ہے جس میں انتہائی چھوٹے نینو کرافٹ یونی نینو خلائی جہاز روشنی کی شعاعوں سے الفا سینٹوری اسٹار سسٹم کی جانب روانہ کیے جائیں گے جو کہ زمین سے 25 کھرب میل کے فاصلے پر موجود ہے اور اس کو اپنی منزل تک پہنچنے میں 20 سال لگ جائیں گے۔ یہ فاصلہ 4.37 شمسی سال کے برابر بنتا ہے جب کہ اس وقت موجود تیز ترین خلائی جہاز سے وہاں تک پہنچنے میں 30 ہزار سال لگ سکتے ہیں۔
اس مشن کے اہم رکن ملنر کا کہنا ہے کہ انسانی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوگا کہ انسان ستاروں سے آگے کی دنیا کو دیکھ سکے گا جب کہ اسٹیفن ہاکنگ کا کہنا ہے کہ 55 سال قبل یوری گیگیرن پہلا انسان تھا جس نے خلا میں قدم رکھا اور اب ہم اس سے بہت آگے کی جانب بڑھنے کے لیے تیار ہیں اور اس کائنات کے کئی حیرت انگیز راز افشا ہونے کو تیار ہیں۔
اب ایلین سانس دانوں کے لیے ایک حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں اور ناسا سمیت دنیا بھر کئی اہم سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ انسانوں کی طرح کوئی اور مخلوق بھی اس کائنات میں کہیں موجود ہے اور اس کی تلاش کے لیے اب عالمی شہرت یافتہ سائنس دان اور ماہر طبیعات اسٹیفن ہاکنگ نے فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کے ساتھ مل کا ایلین کی تلاش کے مشن کا باقاعدہ آغازکردیا ہے جس کی ابتدائی قیمت 10 کروڑ برطانوی پاؤنڈز لگائی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مشن کی فنڈنگ اسٹیفن ہاکنگ، مارک زکر برگ اور روسی ارب پتی یوری ملنر کریں گے اور دنیا کو بتائیں گے ایلین کا بسیرا کہاں ہے۔ اس مشن کو 'بریک تھرو اسٹارز شاٹ' کا نام دیا گیا ہے جس میں انتہائی چھوٹے نینو کرافٹ یونی نینو خلائی جہاز روشنی کی شعاعوں سے الفا سینٹوری اسٹار سسٹم کی جانب روانہ کیے جائیں گے جو کہ زمین سے 25 کھرب میل کے فاصلے پر موجود ہے اور اس کو اپنی منزل تک پہنچنے میں 20 سال لگ جائیں گے۔ یہ فاصلہ 4.37 شمسی سال کے برابر بنتا ہے جب کہ اس وقت موجود تیز ترین خلائی جہاز سے وہاں تک پہنچنے میں 30 ہزار سال لگ سکتے ہیں۔
اس مشن کے اہم رکن ملنر کا کہنا ہے کہ انسانی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوگا کہ انسان ستاروں سے آگے کی دنیا کو دیکھ سکے گا جب کہ اسٹیفن ہاکنگ کا کہنا ہے کہ 55 سال قبل یوری گیگیرن پہلا انسان تھا جس نے خلا میں قدم رکھا اور اب ہم اس سے بہت آگے کی جانب بڑھنے کے لیے تیار ہیں اور اس کائنات کے کئی حیرت انگیز راز افشا ہونے کو تیار ہیں۔