بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی 5 بار خلاف ورزی کی احمد مختار
ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس کے انڈیا کے ڈیزائنز معیار پورا نہیں کرتے،قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات.
ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس کے انڈیا کے ڈیزائنز معیار پورا نہیں کرتے،قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات. فوٹو: اے پی پی/ فائل
قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ بھارت نے اکتوبر 1999سے اب تک سندھ طاس معاہدے کی5مرتبہ خلاف ورزی کی ہے ۔
بدھ کو وقفہ سوالات کے دوران شیخ محمد طارق رشید کے سوال کے تحریری جواب میں وفاقی وزیر پانی و بجلی چوہدری احمد مختار نے ایوان کو بتایا کہ بھارت نے اکتوبر1999 سے اب تک سندھ طاس معاہدے کی جو خلاف ورزیاں کی ہیں ان میں دریائے چناب پر بگلیہارہائیڈروالیکٹرک پلانٹ کے ڈیزائن میں معیار کی خلاف ورزی ، 2006 میں سندھ کے معاون دریائے سرو پر44 میگا واٹ کے چھوٹک ہائیڈروالیکٹرک پلانٹ کی پاکستان کو مطلع کیے بغیر تعمیر کا آغاز، اگست 2008میں پاکستان کے ساتھ مشورہ کے بغیر بگلیہار ہائیڈروالیکٹرک پلانٹ کے ذخیرہ آب کی ابتدائی حد کی بھرائی کا آغاز کیا،کشن گنگا دریا کے آلودہ پانی کی جہلم بسن میں منتقلی ماحول اور آزاد جموں کشمیر میں لائن آف کنٹرول کی ڈائون اسٹریم کی ہائیڈرو الیکٹرک کے استعمال پر برے اثرات مرتب کرے گا جو معاہدے کی تصریحات پر غورو خوص کے بغیر کیا گیا۔
عام طور پر ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس کے انڈیا کے ڈیزائنز معاہدے کی تصریحات کو پورا نہیں کرتے، انھوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کے دوران بھارت کی خلاف ورزیوں پر حکومت پاکستان کی جانب سے متعدد اقدامات کیے گئے جن میں بگلیہارڈیم کے معاملے میں پاکستان نے غیر جانبدار ماہر کے ساتھ اس معاملہ کو اٹھایا جس نے تسلیم کیا کہ ڈیزائن پر پاکستان کے اعتراضات جائز ہیں ۔
بدھ کو وقفہ سوالات کے دوران شیخ محمد طارق رشید کے سوال کے تحریری جواب میں وفاقی وزیر پانی و بجلی چوہدری احمد مختار نے ایوان کو بتایا کہ بھارت نے اکتوبر1999 سے اب تک سندھ طاس معاہدے کی جو خلاف ورزیاں کی ہیں ان میں دریائے چناب پر بگلیہارہائیڈروالیکٹرک پلانٹ کے ڈیزائن میں معیار کی خلاف ورزی ، 2006 میں سندھ کے معاون دریائے سرو پر44 میگا واٹ کے چھوٹک ہائیڈروالیکٹرک پلانٹ کی پاکستان کو مطلع کیے بغیر تعمیر کا آغاز، اگست 2008میں پاکستان کے ساتھ مشورہ کے بغیر بگلیہار ہائیڈروالیکٹرک پلانٹ کے ذخیرہ آب کی ابتدائی حد کی بھرائی کا آغاز کیا،کشن گنگا دریا کے آلودہ پانی کی جہلم بسن میں منتقلی ماحول اور آزاد جموں کشمیر میں لائن آف کنٹرول کی ڈائون اسٹریم کی ہائیڈرو الیکٹرک کے استعمال پر برے اثرات مرتب کرے گا جو معاہدے کی تصریحات پر غورو خوص کے بغیر کیا گیا۔
عام طور پر ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس کے انڈیا کے ڈیزائنز معاہدے کی تصریحات کو پورا نہیں کرتے، انھوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کے دوران بھارت کی خلاف ورزیوں پر حکومت پاکستان کی جانب سے متعدد اقدامات کیے گئے جن میں بگلیہارڈیم کے معاملے میں پاکستان نے غیر جانبدار ماہر کے ساتھ اس معاملہ کو اٹھایا جس نے تسلیم کیا کہ ڈیزائن پر پاکستان کے اعتراضات جائز ہیں ۔