مستقبل کے سمندروں میں آکسیجن کی کمی سے ’مچھلیاں‘ دم گھٹ کر مرسکتی ہیں
ایک تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی سمندروں میں آکسیجن کم ہورہی ہے جو آبی حیات کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
اگلے 15 سے 30 برس میں عالمی سمندرروں میں آکسیجن کی شدید کمی واقع ہوسکتی ہے۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
آکسیجن ہرجاندار کے لئے انتہائی ضروری ہے اور اب دنیا کے سمندروں میں آکسیجن کی مقدار کم ہونے سے آبی حیات خصوصاً مچھلیوں کی موت واقع ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق سمندری مخلوقات، مچھلیوں ، کیکڑے اور شیل فش وغیرہ کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ لیکن اگلے 15 برس میں یہ صورتحال مزید خطرناک ہوجائے گی۔ اگرچہ اب بھی سمندروں میں آکسیجن کی کمی واقع ہورہی ہے لیکن 2030 اور 2040 تک یہ شرح بلند ہوجائے گی۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہوا اور لہروں کے ذریعے پانی میں آکسیجن گھلتی رہتی ہے اور سمندری گھاس اور الجی سے بھی پیدا ہوتی رہتی ہے، اگر پانی گرم ہوگا تو اس میں آکسیجن کم ملے گا اور یوں نیچے موجود قدرے ٹھنڈے پانی تک آکسیجن نفوذ نہیں کرتا، اسی وجہ سے گہرے پانی میں رہنے والے جانور شدید متاثر ہوسکتے ہیں۔
امریکہ میں نیشنل سینٹر فار ایٹماسفیرک ریسرچ کے سائنسدان میتھیو لانگ اور ان کے ساتھیوں نے کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور گرمی کی وجہ سے سمندروں میں آکسیجن کا نفوذ کم ہورہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ درجہ حرارت بڑھنے سے آکسیجن کم ہورہا ہے۔ بحرِ ہند کے جنوب، بحرالکاہل اور اوقیانوس اس سے شدید متاثر ہوں گے جس کی شرح 15 سے 30 سال تک اپنے عروج پر پہنچ جائے گی۔
آکسیجن ہرجاندار کے لئے انتہائی ضروری ہے اور اب دنیا کے سمندروں میں آکسیجن کی مقدار کم ہونے سے آبی حیات خصوصاً مچھلیوں کی موت واقع ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق سمندری مخلوقات، مچھلیوں ، کیکڑے اور شیل فش وغیرہ کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ لیکن اگلے 15 برس میں یہ صورتحال مزید خطرناک ہوجائے گی۔ اگرچہ اب بھی سمندروں میں آکسیجن کی کمی واقع ہورہی ہے لیکن 2030 اور 2040 تک یہ شرح بلند ہوجائے گی۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہوا اور لہروں کے ذریعے پانی میں آکسیجن گھلتی رہتی ہے اور سمندری گھاس اور الجی سے بھی پیدا ہوتی رہتی ہے، اگر پانی گرم ہوگا تو اس میں آکسیجن کم ملے گا اور یوں نیچے موجود قدرے ٹھنڈے پانی تک آکسیجن نفوذ نہیں کرتا، اسی وجہ سے گہرے پانی میں رہنے والے جانور شدید متاثر ہوسکتے ہیں۔
امریکہ میں نیشنل سینٹر فار ایٹماسفیرک ریسرچ کے سائنسدان میتھیو لانگ اور ان کے ساتھیوں نے کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور گرمی کی وجہ سے سمندروں میں آکسیجن کا نفوذ کم ہورہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ درجہ حرارت بڑھنے سے آکسیجن کم ہورہا ہے۔ بحرِ ہند کے جنوب، بحرالکاہل اور اوقیانوس اس سے شدید متاثر ہوں گے جس کی شرح 15 سے 30 سال تک اپنے عروج پر پہنچ جائے گی۔