اپریل میں 28 کمپنیوں کی درآمدات پر455 کروڑکاٹیکس چوری
609درآمدی کنسائمنٹس کاپوسٹ کلیئرنس آڈٹ،308میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی
بڑی سیلولر کمپنی نے بھی مس ڈیکلریشن سے 29کروڑ 30لاکھ کا نقصان پہنچایا، ذرائع فوٹو: فائل
NEW DEHLI:
پاکستان کسٹمز کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کراچی نے اپریل 2016 کے دوران 28 مختلف کمپنیوں کی درآمدات میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ریونیو کی مد میں قومی خزانے کو 45 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا نقصان پہنچانے کی تصدیق کردی ہے۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کسٹمزکراچی کی جانب 609سے زائد درآمدی کنسائمنٹس کے ڈیٹاکے آڈٹ کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا کہ اپریل 2016میں مجموعی طور پر 308 کنسائمنٹس پر 45کروڑ 53لاکھ 77ہزار 245روپے کی ٹیکس چوری کی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ نے مس ڈیکلریشن میں ملوث اور ایس آر او نمبر 659 کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کسٹمزکلیئرنس حاصل کرنے والی درآمدکنندہ کمپنیوں جن میں پرمیسرزطارق آٹو ٹریڈرز، میسرز زیان ٹریڈنگ کارپوریشن، میسرز عزیز سنز، میسرز ناصر کارپوریشن، میسرز ایم ایچ ٹریڈرز، میسرز جی ایم کیبل اینڈ پائپ، میسرز پریمئر کیبل، میسرزعطاء کیبل، میسرزکاپر ہاؤس، میسرز زیڈکے امپکس اورمیسرز پاپولر ماربل انڈسٹریز شامل ہیں پر13کروڑ2لاکھ 90ہزار 444 روپے مالیت کی کسٹمز ڈیوٹی وٹیکسوں کی چوری پر آڈٹ آبزرویشن کا اجرا کیاہے۔
جبکہ میسرزالائنس فارما سیوٹیکلز، میسرز فواد اینڈکمپنی، میسرز حلال فوڈز، میسرز پاکستان موبائل کمیونیکیشن، میسرز عزیز سنز، میسرز زیان ٹریڈنگ کارپوریشن، میسرز ناصرکاپوریشن، میسرز ایم ایچ ٹریڈرز، میسرز طارق آٹو ٹریڈر، میسرز ایریک سن پاکستان، میسرز زمان ٹریڈرز، میسرز رزاق انٹرپرائزز سمیت دیگر 3کمپنیوں کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے 32 کروڑ 50 لاکھ 86 ہزار 801 روپے مالیت کی کنٹراونشن رپورٹ مرتب کرکے متعلقہ کسٹمزایڈجیوڈیکشن کلکٹریٹس کو ارسال کردی ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کراچی نے ملک کی ایک سرفہرست سیلولرکمپنی کی جانب سے مس ڈیکلریشن کے ذریعے متعدد کنسائمنٹس کی کلیئرنس پر 29کروڑ 30لاکھ روپے کی کسٹمزڈیوٹی وٹیکسوں کی نشاندہی کی گئی ہے کیونکہ اس سیلولرکمپنی نے ویراجیل بیٹری، ری چارج ایبل بیٹری اورایس بی ایس ایون 190کے درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس غلط پی سی ٹی نمبر 8507.2010 ظاہر کرکے 10فیصدکسٹمزڈیوٹی پرکرائی حالانکہ مذکورہ اشیا کی کلیئرنس پی سی ٹی نمبر 8507.2090 کے تحت 20 فیصدکسٹمزڈیوٹی پرہوتی ہے۔
پاکستان کسٹمز کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کراچی نے اپریل 2016 کے دوران 28 مختلف کمپنیوں کی درآمدات میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ریونیو کی مد میں قومی خزانے کو 45 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا نقصان پہنچانے کی تصدیق کردی ہے۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کسٹمزکراچی کی جانب 609سے زائد درآمدی کنسائمنٹس کے ڈیٹاکے آڈٹ کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا کہ اپریل 2016میں مجموعی طور پر 308 کنسائمنٹس پر 45کروڑ 53لاکھ 77ہزار 245روپے کی ٹیکس چوری کی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ نے مس ڈیکلریشن میں ملوث اور ایس آر او نمبر 659 کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کسٹمزکلیئرنس حاصل کرنے والی درآمدکنندہ کمپنیوں جن میں پرمیسرزطارق آٹو ٹریڈرز، میسرز زیان ٹریڈنگ کارپوریشن، میسرز عزیز سنز، میسرز ناصر کارپوریشن، میسرز ایم ایچ ٹریڈرز، میسرز جی ایم کیبل اینڈ پائپ، میسرز پریمئر کیبل، میسرزعطاء کیبل، میسرزکاپر ہاؤس، میسرز زیڈکے امپکس اورمیسرز پاپولر ماربل انڈسٹریز شامل ہیں پر13کروڑ2لاکھ 90ہزار 444 روپے مالیت کی کسٹمز ڈیوٹی وٹیکسوں کی چوری پر آڈٹ آبزرویشن کا اجرا کیاہے۔
جبکہ میسرزالائنس فارما سیوٹیکلز، میسرز فواد اینڈکمپنی، میسرز حلال فوڈز، میسرز پاکستان موبائل کمیونیکیشن، میسرز عزیز سنز، میسرز زیان ٹریڈنگ کارپوریشن، میسرز ناصرکاپوریشن، میسرز ایم ایچ ٹریڈرز، میسرز طارق آٹو ٹریڈر، میسرز ایریک سن پاکستان، میسرز زمان ٹریڈرز، میسرز رزاق انٹرپرائزز سمیت دیگر 3کمپنیوں کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے 32 کروڑ 50 لاکھ 86 ہزار 801 روپے مالیت کی کنٹراونشن رپورٹ مرتب کرکے متعلقہ کسٹمزایڈجیوڈیکشن کلکٹریٹس کو ارسال کردی ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کراچی نے ملک کی ایک سرفہرست سیلولرکمپنی کی جانب سے مس ڈیکلریشن کے ذریعے متعدد کنسائمنٹس کی کلیئرنس پر 29کروڑ 30لاکھ روپے کی کسٹمزڈیوٹی وٹیکسوں کی نشاندہی کی گئی ہے کیونکہ اس سیلولرکمپنی نے ویراجیل بیٹری، ری چارج ایبل بیٹری اورایس بی ایس ایون 190کے درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس غلط پی سی ٹی نمبر 8507.2010 ظاہر کرکے 10فیصدکسٹمزڈیوٹی پرکرائی حالانکہ مذکورہ اشیا کی کلیئرنس پی سی ٹی نمبر 8507.2090 کے تحت 20 فیصدکسٹمزڈیوٹی پرہوتی ہے۔