جاپانی تعاون سے ریپڈ بس اورسرکلر ریلوے پر کام ہورہا ہے
کراچی میں جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی جو تکنیکی و فنی مدد فراہم کی ہے وہ پاک جاپان دوستی کی اعلیٰ مثال ہے۔
جائیکا کے تعاون سے 570 ملین روپے کی لاگت سے مہران ہائی وے کا فیز ون مکمل کرلیا گیا،حسین سید فوٹو: فائل
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر محمد حسین سید نے کہا ہے کہ کسی بھی شہر یا ملک میں سرمایہ کاری کیلیے خاص ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔
کراچی میں جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کی ٹیم نے ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل کے لیے جو تکنیکی و فنی مدد فراہم کی ہے وہ پاک جاپان دوستی کی اعلیٰ مثال ہے ، جائیکا کے تعاون سے ریپڈ بس سسٹم اور کراچی سرکلر ریلوے پر کام ہورہا ہے،ان خیالات کا اظہار انھوں نے جائیکا جاپان کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا،جائیکا جاپان کے وفد نے مہران ہائی وے کی تعمیر کے حوالے سے اسٹیڈی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جاپان اور جائیکا کراچی میں سرکلر ریلوے، ریپڈ بس سسٹم، انفرااسٹرکچر، بھاری مشینری، گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ اور مہران ہائی وے کی تعمیر سمیت کئی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے، محمد حسین سید نے کہا کہ جائیکا کے تعاون سے جو منصوبے زیر تعمیر ہیں ان میں حکومت جاپان نے بھر پور تعاون کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ سال پاک جاپان دوستی کا 60 واں سال ہے،جائیکا کے تعاون سے 570 ملین روپے کی لاگت سے مہران ہائی وے کا فیز ون مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ فیز ٹو پر کام کا آغاز کیا جارہا ہے،دریں اثنا پیڈسٹرین برج کے حوالے سے ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونی کیشن کے محکمہ جاتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر محمد حسین سید نے کہا ہے کہ بالائی گزر گاہوں (پیڈسٹرین برج) کے ذریعے سڑک عبور کرنے والوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے ایسے پیڈسٹرین برج بنائے جائیں جو سڑک عبور کرنے والوں کو احساس تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جاذب نظر ، جمالیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ اور شہر کی خوبصورتی کا بھی باعث بن سکیں۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی نے اجلاس کے دوران خاتون پاکستان کالج کے نزدیک اسٹیڈیم روڈ پر ماڈل بالائی گزر گاہ کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ اس بالائی گزرگاہ کی چھت فائبر گلاس سے بنائی جائے تاکہ اس کے ذریعے سڑک عبور کرنے والے افراددھوپ، بارش کے پانی اور موسمی اثرات سے محفوظ رہ سکیں جبکہ اس ماڈل بالائی گزرگاہ پر شمسی توانائی کے ذریعے روشنی فراہم کرنے کے انتظامات کیے جائیں تاکہ توانائی کی بچت ہوسکے۔
کراچی میں جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کی ٹیم نے ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل کے لیے جو تکنیکی و فنی مدد فراہم کی ہے وہ پاک جاپان دوستی کی اعلیٰ مثال ہے ، جائیکا کے تعاون سے ریپڈ بس سسٹم اور کراچی سرکلر ریلوے پر کام ہورہا ہے،ان خیالات کا اظہار انھوں نے جائیکا جاپان کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا،جائیکا جاپان کے وفد نے مہران ہائی وے کی تعمیر کے حوالے سے اسٹیڈی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جاپان اور جائیکا کراچی میں سرکلر ریلوے، ریپڈ بس سسٹم، انفرااسٹرکچر، بھاری مشینری، گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ اور مہران ہائی وے کی تعمیر سمیت کئی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے، محمد حسین سید نے کہا کہ جائیکا کے تعاون سے جو منصوبے زیر تعمیر ہیں ان میں حکومت جاپان نے بھر پور تعاون کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ سال پاک جاپان دوستی کا 60 واں سال ہے،جائیکا کے تعاون سے 570 ملین روپے کی لاگت سے مہران ہائی وے کا فیز ون مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ فیز ٹو پر کام کا آغاز کیا جارہا ہے،دریں اثنا پیڈسٹرین برج کے حوالے سے ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونی کیشن کے محکمہ جاتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر محمد حسین سید نے کہا ہے کہ بالائی گزر گاہوں (پیڈسٹرین برج) کے ذریعے سڑک عبور کرنے والوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے ایسے پیڈسٹرین برج بنائے جائیں جو سڑک عبور کرنے والوں کو احساس تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جاذب نظر ، جمالیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ اور شہر کی خوبصورتی کا بھی باعث بن سکیں۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی نے اجلاس کے دوران خاتون پاکستان کالج کے نزدیک اسٹیڈیم روڈ پر ماڈل بالائی گزر گاہ کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ اس بالائی گزرگاہ کی چھت فائبر گلاس سے بنائی جائے تاکہ اس کے ذریعے سڑک عبور کرنے والے افراددھوپ، بارش کے پانی اور موسمی اثرات سے محفوظ رہ سکیں جبکہ اس ماڈل بالائی گزرگاہ پر شمسی توانائی کے ذریعے روشنی فراہم کرنے کے انتظامات کیے جائیں تاکہ توانائی کی بچت ہوسکے۔