کیوں نہ چیخوں کہ درد ہوتا ہے

اس وقت حقیقت میں ایک نہیں بلکہ دو پاکستان منصہ شہود پر موجود ہیں

barq@email.com

پتہ نہیں دوسرے کالم نگاروں کے ساتھ بھی ایسا ہے یا نہیں لیکن ہمارے پاس تو قیامت کے جو نامے آتے ہیں اگر ان کو ہم شایع کرنے لگیں تو ہمارا کالم تو کیا پورا ایکسپریس بھی کم پڑ جائے اور یہ کچھ ایسے خطوں کی بات ہم نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ خطوط خط کم اور ایک ''چیخ'' زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ فی زمانہ ہمارے معاشرے کی جو چیخیں نکل رہی ہیں بلکہ جو چیخیں حکومتیں عوام کی نکال رہی ہیں اگر ان کو فل والیوم کے ساتھ کھول دیا جائے تو شاید پاکستان میں کوئی دوسری آواز ہی سنائی نہ دے بلکہ شاید یہ چیخیں آسمان کو بے چین کر دیں۔

اس وقت حقیقت میں ایک نہیں بلکہ دو پاکستان منصہ شہود پر موجود ہیں ایک وہ جو اخباروں میں، چینلوں میں، تقریروں میں، بیانوں میں، اعلانوں میں، دعوتوں میں، تقریبات میں، میٹنگوں میں اور ہواؤں میں چل رہا ہے جہاں راوی چین ہی چین لکھتا ہے ۔ ہر حاکم اور منتخب نمایندہ، ہر محکمہ اور ہر ادارہ، ہر افسر اور ہر دفتر دن رات اپنے ''فرائض'' سرانجام دے رہا ہے اور عوام کو ان کے تمام حقوق دہلیز پر نہیں دہلیز تو بہت پرانی اصطلاح ہے عوام کے ''تکیے'' تلے پہنچا رہے ہیں پورا ملک جیسے

بہشت آں جا کہ آزارے نہ باشد
کسے را با کسے کارے نہ باشد

جب کہ دوسرا پاکستان جو برسر زمین ہے سڑکوں پر ہے اور عوام کے نصیب میں پکا پکا لکھا ہوا ہے جہاں کوئی کل سیدھی نہیں، کوئی قانون نہیں، کوئی آئین نہیں صرف ایک مریل بھینس ہے اور اس کے اردگرد لاٹھی برداروں کا ہجوم ہے، یہاں دفاتر بھی ہیں محکمے بھی ہیں اہل کار بھی ہیں منتخب نمایندے بھی، اسپتال، اسکول کالج سب کچھ ہے لیکن یہ سب کھ مہیب بلاؤں اور خون آشام عفریتوں کی طرح ہیں جن کے آکٹوپس جیسی شاخیں چپے چپے گھر گھر اور فرد فرد کی رگ رگ اور نس نس میں پیوست ہیں اور ایسا کوئی بہت کم ہی ہو گا جس کی چیخیں نہ نکل رہی ہوں ، کوئی بھی تبدیلی آئے چہرے بدلیں نام بدلیں کرسیاں بدلیں کرسی نشین بدلیں لیکن ان کی تقدیر نہیں بدلتی۔ نئی حکومتوں نئے لوگوں نئے موسموں میں بھی ان کا کچھ نہیں بدلتا بلکہ اور زیادہ بگڑتا ہے

فصل گل آئی پھر اک بار اسیران وفا
اپنے ہی خون کے دریا میں نہانے نکلے


اس سلسلے میں ویسے تو ھمہ خانہ آفتاب است لیکن علاج معالجہ کے ضمن میں تو ایسا لگتا ہے جیسے ہر جسم پھوڑا ہے ہر دل میں ایک گھاؤ ہے، ہمارے پاس جن کسمپرس مریضوں کے درد ناک خطوط آتے ہیں ان کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ اتنے اسپتال اتنے ڈاکٹر اتنے بجٹ کہاں جاتے ہیں اور کیا کرتے ہیں، صحت کارڈ ہیں، بیت المال ہے، للسائل والمحروم ہے، جھولیاں بھر بھر کر انکم سپورٹ انصاف کارڈ اور نہ جانے کیا کیا ہے ۔

جن کا تذکرہ ''دوسرے پاکستان'' میں دن رات چل رہا ہے لیکن اس پاکستان اور اس اصل پاکستان کے درمیان وہ کون سا سمندر حائل ہے کون سا سلسلہ کوہ پھیلا ہوا ہے کون سا آگ کا دریا یا بحر ظلمات محیط ہے کہ ایک بوند تک ادھر نہیں آتی، خدا بخشے ہمارے ایک محترم عالم ہوتے تھے غلام جیلانی برق۔ انھی سے متاثر ہو کر ہم نے بھی اپنا تخلص برق رکھ لیا تھا بہت ہی عالم فاضل اور منفرد قسم کی سوچ رکھنے والے لکھاری تھے انھوں نے بہت ساری انقلابی کتابیں لکھی تھیں جن میں دو اسلام اور دو قرآن خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

ہمارا بھی جی چاہتا ہے کہ ایک ایسی کتاب ''دو پاکستان'' کے نام سے لکھ دیں اور انشاء اللہ بشرطیہ زندگی لکھیں گے بھی، کیونکہ حقیقت میں پاکستان ایک نہیں دو ہیں اور یہ دونوں پاکستان 14 اگست 1947ء کو وجود میں آ گئے تھے یا یوں کہئے کہ دونوں تشکیل پانے لگے تھے ایک وہ پاکستان جو مخلص اور جذباتی لوگ واقعی لاالہ کے لیے بنانا چاہتے تھے اور دوسرے وہ جن کو ہند کی وسیع و عریض شکار گاہ میں ہندوؤں سے الگ ایک چھوٹی شکار گاہ کی ضرورت تھی کیونکہ بڑی شکار گاہ میں وہ ہندوؤں سے بہت پیچھے تھے۔

پھر جب فرنگی نے ہٹلر کی ضرب سے مجبور ہو کر اس ملک کو آزادی دینا چاہی تو جاتے جاتے بھی اس نے اپنے ''وفا داروں'' کو لیگ میں گھسنے اور ہر اول میں پہنچنے کا اشارہ کیا اور جب سے لوگ جوق در جوق اسی نئی شکار گاہ یا کمیں گاہ میں گھسے تو اصلی اور مخلص مسلم لیگیوں کو جب تک پتہ چلتا یہ ہر اول میں مورچے سنبھال چکے تھے، اتنی مضبوطی سے کہ قائداعظم کو بھی محصور اور یرغمال کر چکے تھے اس کے بعد اس دوسرے پاکستان کی تشکیل عملی صورت میں شروع ہو گئی اور ابھی تک ہو رہی ہے، بڑے منظم طریقے سے کچھ نام کچھ شکلیں بدلتی رہتی ہیں لیکن سسٹم وہی ہے ایک خاص طبقے پر مبنی ایک الگ پاکستان جو پاکستان کے اندر ہوتے ہوئے بھی اس سے الگ اور ممتاز ہے۔

پندرہ فیصد برسر اقتدار یا برسر مراعات طبقہ ہے جو پچاسی فیصد اصل پاکستان کو جکڑے ہوئے ہے۔ ظاہر ہے جب پندرہ فیصد لوگ وسائل کا پچاسی فیصد ہڑپ کرتے ہیں تو پھر اس پچاسی فیصد اصل پاکستان کے لیے صرف پندرہ فیصد ہی بچتا ہے جو یہ وسائل پیدا کرتے ہیں لیکن اس پندرہ فیصد مصنوعی پاکستان کی گرفت اتنی کمال کی ہے کہ کچھ بھی ''نہ کر کے'' پچاسی فیصد ہڑپ لیتا ہے اور وہ پچاسی فیصد سب کچھ کر کے سب کچھ بنا کر کما کر اور پیدا کر کے بھی بمشکل پندرہ فیصد پاتا ہے ایسے حالات میں پچاسی فیصد اصل پاکستان چیخے نہیں تو اور کیا کرے گا نہ ان کو دو وقت کی روزی روٹی میسر ہے نہ علاج معالجہ اور نہ ہی کوئی تحفظ، چنانچہ اسپتال بھی ہیں اسکول بھی ہیں کالج بھی ہیں طرح طرح کے امدادی پروگرام بھی ہیں لیکن یہ سب کچھ اس مصنوعی اور پندرہ فیصد پاکستان کے لیے ہے باقی پچاسی فیصد کے لیے صرف بھوک اور بھیک ہی ہے

کیوں نہ چیخوں کہ ''درد ہوتا ہے''
میری آواز گر نہیں آتی
Load Next Story