سیاسی شعور کے تقاضے
ظلم اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک ظالم مظلوموں کی نظروں سے بچا رہتا ہے
KARACHI:
ظلم اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک ظالم مظلوموں کی نظروں سے بچا رہتا ہے، جب مظلوم ظالم کو پہچاننے لگتا ہے تو ظلم کی الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے۔ ہمارا اجتماعی المیہ یہ ہے کہ ملک کے بیس کروڑ عوام ظلم سے تو واقف ہیں لیکن ظالم سے لاعلم ہیں۔ 20 کروڑ عوام کی مظلومیت کو ایک لفظ میں بیان کریں تو وہ لفظ ہو گا ''غربت''۔ دوسرے سارے عذاب اسی ایک لفظ میں پنہاں ہیں۔ ظالم ہر دور میں اپنے آپ کو مختلف حوالوں سے مظلوموں کی نظروں سے دور رکھنے کی کوشش کرتا رہا۔ جب تک دنیا میں بادشاہتوں کا نظام رہا، رعایا کے کوئی حقوق سوائے حاکم کی اطاعت کے کچھ نہ تھے۔
رعایا کو صرف یہ معلوم تھا کہ بادشاہ کی اطاعت ہی ان کا فرض ہے۔ اس عوامی نفسیات کی وجہ سے کسی بادشاہ کے خلاف عوامی بغاوت کا تصور موجود نہ تھا، البتہ حکمران طبقات میں اقتدار کی جنگ جاری رہتی تھی۔ وقت کے دھارے میں جب بادشاہی نظام بہہ گیا تو انگریزوں نے شاہوں کے پروردہ جاگیردارانہ نظام کی پرورش شروع کر دی، کیوں کہ ہندوستان پر حکومت کرنے اور عوام کو قابو میں رکھنے کے لیے انھیں ایسے ایجنٹوں کی ضرورت تھی جو ان کے غلام بنے رہیں اور عوام کو غلام بنائے رکھیں۔
یہ کام جاگیرداروں نے بہت دل جمعی سے انجام دیا۔ بادشاہوں کے دور میں بادشاہ کی اطاعت کو عوام کا دین دھرم بنا دیا گیا تھا، انگریزوں کے دور میں انگریزوں سے وفاداری کو عوام کی ذمے داری ٹھہرایا گیا۔ چونکہ سلاطین سے لے کر انگریزوں کے دور تک عوام کی حیثیت رعایا کی تھی اور ان کے کوئی حقوق نہ تھے لہٰذا حکمرانوں کے خلاف عوام میں نہ بغاوت پیدا ہوئی نہ اشتعال۔ 1957ء میں غدر کے نام پر جو بغاوت پیدا ہوئی وہ علاقائی رہی۔ پورے ملک میں نہ پھیل سکی، جسے انگریزوں نے اپنے یاران وفادار کی مدد سے ختم کر دیا۔
1947ء میں تقسیم کے بعد پاکستان میں اشرافیائی جمہوریت کا آغاز ہوا، جسے محلاتی سازشوں کے ذریعے چلایا جاتا رہا۔ دور سلطانی میں جو لوگ غربت، بھوک، بیماری کو قسمت کا لکھا بتا کر حکمرانوں کو عوام کی نظروں سے بچائے رکھتے تھے وہ قبائلی اور جاگیردارانہ معاشروں میں فعال رہے۔ اشرافیائی حکمران عوام کی نظروں سے اوجھل رہے۔
1958ء میں جب ایوب خان نے نوکر شاہی کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تو اس کے دور میں صنعتی ترقی کا آغاز ہوا، یہ صدیوں بعد اسی علاقے میں ایک مصنوعی تبدیلی تھی۔ اگرچہ ملک میں ہونے والی صنعتی ترقی کی وجہ سے جاگیردارانہ کلچر کمزور ہوا اور زرعی اصلاحات کے نام پر ایوب خان نے زمینی اشرافیہ کو بلیک میل بھی کیا لیکن جب ایوب خان نے اپنی سیاسی ضرورتوں کے لیے زمینی اشرافیہ سے سمجھوتے کیے تو ایک بار پھر جاگیردار مضبوط ہوئے لیکن ایوب خان کے مظالم کے خلاف پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عوام میں مزاحمت کا جذبہ پیدا ہوا۔ یوں صدیوں تک اپنے حالات کو قسمت کا لکھا سمجھنے والے عوام نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور مظالم کو پہچاننے لگے۔
ایوب خان اور یحییٰ خان کی حکومتوں کے بعد جب جمہوریت کے نام پر بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو سیاست میں ایک مصنوعی تبدیلی آئی، پہلی بار عوام میں یہ احساس اجاگر ہوا کہ ان کا نام صرف حکمرانوں کی اطاعت نہیں بلکہ وہ حکمرانوں کی ناک میں نکیل ڈال سکتے ہیں۔ عوام میں اس احساس کے پیدا ہونے سے 1947ء سے رائج سیاست میں ایک بڑی تبدیلی آئی اور عوام آنکھیں مل مل کر ماضی کو دیکھنے لگے اور اس کے ساتھ ان کی نظر مستقبل پر بھی جانے لگی۔ بھٹو نے عوام میں جو سیاسی بیداری پیدا کی تھی غالباً ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ان کے سیاسی مخالفین اس عوامی بیداری کو خود ان کے خلاف استعمال کر جائیں گے۔
1977ء میں جو تحریک چلائی گئی اس میں عوامی شرکت کی ایک وجہ یہ تھی کہ بھٹو بہت جلد وڈیرہ شاہی کے ٹریپ میں آ کر مزدور، کسان راج کے نعروں اور وعدوں سے دستبردار ہو گئے تھے۔ بھٹو کے خلاف تحریک کے عوامل خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہوں اس تحریک نے یہ ثابت کر دیا کہ عوام کی اجتماعی طاقت کے سامنے ریاستی طاقت پانی کا بلبلا ہی ثابت ہوتی ہے۔بھٹو کے خلاف عوامی طاقت کے اظہار کے بعد اگرچہ دوبار فوجی بیورو کریسی اقتدار میں آئی لیکن عوام ٹس سے مس اس لیے نہیں ہوئے کہ انھوں نے 1977ء میں سیاست دانوں کو ضیا الحق کی حکومت کا حصہ بنتے اور 1999ء کے بعد جنرل مشرف کی حکومت میں بھی وہی کردار ادا کرتے دیکھا۔
سرمایہ دارانہ جمہوریت کو ہمارے سیاست دانوں نے مقدس گائے بنا دیا ہے حالانکہ اندر سے یہ جمہوریت ایلیٹ کی غلام بنی ہوئی ہے۔ عوام کو بیوقوف بنانے اور ان کے شعور کو کند کرنے کے لیے ہمارے سیاستدانوں نے اپنی ہی گھر کی لونڈی اشرافیائی جمہوریت میں پناہ لے رکھی ہے اور اسے متبرک بنانے کے لیے ہر پانچ سال بعد انتخابات کا ڈھونگ اس بھدے انداز میں رچایا جاتا ہے کہ خود اسی اشرافیہ کے بھائی بند اس کے خلاف شور مچانے لگ جاتے ہیں۔ ماضی میں عوام کو صرف قسمت کا جھانسہ دے کر اصل طبقاتی دشمنوں کی نظروں سے اوجھل کر دیا جاتا تھا اب قسمت کے ساتھ جمہوریت کو استعمال کر کے عوام کے اصل دشمنوں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ پرفریب سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک عوام جمہوریت کے پردے میں چھپے اپنے طبقاتی دشمنوں کو نہ پہچان لیں۔
بلاشبہ سیاسی ارتقا کی تاریخ میں جمہوریت ایک اہم منزل کی حیثیت رکھتی ہے لیکن مغرب نے جس جمہوریت کو متعارف کرایا تھا وہ بھی پسماندہ ملکوں میں ناپید ہے، اس کی جگہ جس جمہوریت کو روشناس کرایا جا رہا ہے وہ اپنی اصل میں خاندانی بادشاہت ہے، جس کے کردار ہماری سیاست کے مرکزی کردار بنے ہوئے ہیں اور عوام ان کرداروں کے فریب میں آ کر اپنی اجتماعی طاقت کو تقسیم کر کے اپنے آپ کو کمزور کر رہے ہیں۔ عوام کو اس حقیقت کا علم ہونا چاہیے کہ اشرافیائی جمہوریت میں ہیرو نظر آنے والے اندر سے ولن ہی ہوتے ہیں اور یہی وقت ہے کہ عوام سیاسی شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے دوستوں اور دشمنوں کو پہچانیں۔ دوست وہ ہیں جو 69 سالہ 'اسٹیٹس کو' کو توڑنے پر یقین رکھتے ہیں، دشمن وہ ہیں جو جمہوریت کی آڑ میں 'اسٹیٹس کو' کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔