بحرالکاہل میں سطح سمندر بلند ہونے سے 5 جزیرے ڈوب گئے

آب وہوا میں تبدیلی اورسمندروں کی سطح بلند ہونے کے بعد بحرالکاہل کے ساحلوں پر اس کے خوفناک اثرات کے یہ اولین ثبوت ہیں۔

آب وہوا میں تبدیلی اورسمندروں کی سطح بلند ہونے کے بعد بحرالکاہل کے ساحلوں پر اس کے خوفناک اثرات کے یہ اولین ثبوت ہیں۔ فوٹو؛ فائل

KARACHI:
آسٹریلوی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ بحرالکاہل میں سولومن جزائر سلسلے کے 5 چھوٹے جزیرے ڈوب چکے ہیں اور اس کی وجہ سطح سمندر کا بلند ہونا ہے۔

ماہرین کے مطابق ان پانچوں جزائر پر کوئی انسان آباد نہ تھا لیکن مزید 6 جزائرایسے ملے ہیں جہاں بڑی تیزی سے پانی چڑھ رہا ہے اور وہاں موجود گاؤں تباہ و برباد ہوچکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آب وہوا میں تبدیلی ( کلائمٹ چینج) اور سمندروں کی سطح بلند ہونے کے بعد بحرالکاہل کے ساحلوں پر اس کے خوفناک اثرات کے یہ اولین ثبوت بھی ہیں۔




یہ تحقیق ''اینوائرنمینٹل ریسرچ لیٹرز'' میں شائع ہوئی ہے جس میں 1947 سے 2014 تک بحرالکاہل (پیسفک) میں واقع 33 جزائر کی زمینی اور فضائی تصاویر لی گئی ہیں اور ساتھ میں تاریخی اور مقامی افراد کے حوالے بھی پیش کیے گئے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہاں سطح سمندر ہرسال 10 ملی میٹر تک بلند ہوئی اور یہ سلسلہ گزشتہ 20 سال سے جاری ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ تحقیق سولومن جزائر اور ملحقہ سمندر کی 70 سالہ کیفیت بیان کرتی ہے جن میں سے 5 جزیرے مرجانی سبزے ( ریف) پر مشتل تھے اور 12 ایکڑ تک وسیع تھے ان جزیروں پر کبھی کبھی ماہی گیر رک جاتے تھے لیکن یہاں کسی نے رہائش اختیار نہیں کی تھی۔



ماہرین کے مطابق اس کےعلاوہ 6 میں سے ایک نوٹمبو جزیرہ بری طرح متاثر ہوا ہے جس کی زمین کٹ اور گھل کر پانی میں مل چکی ہے جب کہ 2011 سے اب تک یہاں 11 مکانات تباہ ہوئے ہیں جہاں 25 خاندان بھی آباد تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی تحقیق ہے جو ساحلی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے براہِ راست اثرات کو ثابت کرتی ہے۔
Load Next Story