’’اگر‘‘ اور اگر بتیاں
ویسے تو اردو لغت میں ایسے بہت سارے الفاظ ہیں جن سے ہمیں خدا واسطے کا بیر ہے
barq@email.com
ویسے تو اردو لغت میں ایسے بہت سارے الفاظ ہیں جن سے ہمیں خدا واسطے کا بیر ہے لیکن دو الفاظ ان سارے ناپسندیدہ الفاظ کے سردار ہیں، ان میں ایک ہے ''اگر'' اور دوسرا کم بخت ہے ''مگر'' ۔ پھر ان دونوں کے ناجائز تعلق سے ایک اور لفظ ''کاش'' نے جنم لیا ہے۔
اس کی توہمیں شکل سے نفرت ہے بلکہ اس کے مال مسالے یعنی الف اور شین کے حروف بھی اتنے ناپسند ہیں جتنا عمران خان کو نواز شریف، مودی کو کیجریوال اور کیجریوال کو سونیا گاندھی ناپسند ہیں۔ ابھی کل پرسوں کی بات ہے ہمیں کچھ کام نہیں تھا اور اس لیے نہیں تھا کہ بجلی نہیں تھی اور بجلی جو سارے کاموں بلکہ ''غموں'' کی ماں ہے نہیں ہوتی تو راوی تو کیا جناب اور شلج بھی ''چین ہی چین'' لکھتے ہیں۔
بات ''ماں اور راوز، اولادوں'' کی آگئی ہے تو پہلے اسے ہی نپٹاتے چلیں، جس طرح قبض ''ام الامراض'' ہے۔ جس زمانے میں بجلی نہ تھی تو کوئی ''مرض'' بھی نہ تھا۔ نہ کوئی مشین تھی نہ صنعت تھی نہ فیکٹری تھی نہ بلب تھا نہ ٹیوب نہ تاریں نہ کھمبے اور نہ ہی سب سے بڑا مرض ''واپڈا'' ہوتا تھا۔ تازہ تازہ فریش دماغ ہوتا تھا نہ ڈیپریشن نہ دوا دوڑی اور نہ جھگڑے فساد ، لیکن اب جب یہ ''مردار'' ہماری زندگی میں آئی ہے تو وہ کون سی آفت ہے جو اس کی دم کے ساتھ بندھی ہوئی نہیں، چنانچہ
جب تیز ہوا چلتی ہے بستی میں سرشام
برساتی ہے اطراف سے پتھر تری ''بجلی''
وہ تو اچھا ہے کہ حکومت کے کچھ عالی دماغوں نے ''فالتو رقومات'' کو ادھر ادھر فنڈز اور ترقیاتی کاموں اور انکم ونکم سپورٹ کھاتوں میں ڈال لیا ورنہ اس پیسے سے اور بجلی گھر بنائے جاتے۔ بجلی کا یہ کم بخت ڈینگی مزید پھیلتا اور ہماری زندگی اجیرن کر ڈالتا پھر کچھ اور مرد مجاہد آئے تو انھوں نے اس کم بخت بدبخت تیرہ بخت بجلی کے اتیاچاروں سے بچنے بچانے کے لیے ''لوڈ شیڈنگ'' جیسا تیر بہدف اور رام بان علاج نکالا ، تب کہیں جا کر لوگوں کو آرام کی سانس لینے کا موقع ملا۔
تم جیسے مرے پاس ہو اور محو سخن ہو
محفل سی جما دیتی ہے، اکثر تری ''بجلی''
ادھر ادھر دیکھا تو اچانک اس ''اگر مگر اور کاش'' کے خاندان کا پاجامہ نظر آیا، سوچا بھلا اس سے بہتر شغل اور کیا ہو سکتا ہے۔
جگ میں آکر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
جان سے ہو گئے بدن خالی
جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
اس ناشدنی ''اگر'' کی زنجیر اتنی لمبی ہے کہ آپ اس میں کہیں بھی کچھ بھی پرو سکتے ہیں ۔ مثلاً ''اگر'' قابیل کو قتل نہ کیاگیا ہوتا تو ... اگر ہابیل کی جگہ قابیل قتل ہو جاتا تو ... پھر وہ نمرود تھا ''اگر'' اس کی ناک میں مچھر نہ گھس جاتا تو ... اگرحضرت ابراہیم نمرود کی دشمنی سے تنگ آکر مصر نہ چلا گیا ہوتا تو ... اور اگر حضرت یعقوب کے بیٹے حضرت یوسف کو کنوئیں میں گرانے کے بجائے قتل کرتے ... اگر اس کنوئیں کے پاس قافلے والوں کو پیاس نہ لگتی تو ...اگر وہ حضرت یوسف کو نکال مصر میں بیج نہ ڈالتے تو ...یہاں سے ''اگر'' کا ایک اور سلسلہ چلاتے ہیں۔
اگر یوسف عزیز مصر کے ہاتھ نہ لگتے تو ...اور اگر وہ اتنے خوب صورت نہ ہوتے تو ... اگر ان کو زندان میں نہ ڈالتے تو اور اگر اس کے ساتھ میں قید خانے میں شاہی ساقی کی ملاقات نہ ہوتی، چلو ہو جاتی تو کیا ضروری تھا کہ ساقی اور مظب مطبح خواب دیکھتے اور وہ خواب یوسف کو سناتے اور پھر اگر ساقی کو بادشاہ کا خواب سن کر یوسف یاد نہ آتا ... اگر حضرت یوسف مصر میں سیاہ و سپید کے مالک نہ ہو جاتے ۔
اگر وہ قحط نہ پڑتی ... اگر بنی اسرائیل مصر میں نہ بس جاتے اگر اصلی مصریوں کی حکومت آکر اسرائیل پر ظلم نہ کرتی، اگر اینٹوں کے بھٹے پر حضرت موسیٰ کے ہاتھوں ایک قبطی نہ مارا جاتا، اس طرح تاریخ کی زنجیر پکڑ کر ''اگر'' کی کڑیاں گنتے چلیے جائیے ... تو آپ کو لگ پتہ جائے گا کہ دنیا میں سارا کیا دھرا اس کم بخت ''اگر'' کا یا پھر اس کے چھوٹے بھائی ''مگر'' اور یا پھر ان کے چچا ''کاش'' ہی کا ہے اور ہو گا، وہ پشتو میں ایک شعر ہے جو مشہور و معروف داستاں ''فتح خان رابعہ'' کا ہے
دا کرمے ڈم ہر گز د بدونہ آوڑی
چہ چرتہ بدوی د فتحے سرلہ بہ لے راوڑی
یعنی یہ ''کرم'' بدمعاش اپنی بدمعاشی سے ہر گز باز نہیں آتا ڈھونڈ کر مصیبتیں پیدا کرتا ہے اور پھر انھیں ''فتخ خان'' کے سر ڈالتا ہے ... اگر ہم صرف پاکستان کی ستر سالہ تاریخ (حالانکہ اسے تاریخ کے بجائے ''تاریک'' کہنا زیادہ مناسب ہے) میں اس ''اگر'' کا عمل دخل دیکھیں تو اگر پاکستان نہ بنتا تو ہندو ہم مسلمانوں کو اتنا خراب نہ کر پاتے جتنا خراب اس ناہنجار و نابکار خدائی خوار ''اگر'' نے کیا ہے، یعنی اگر قائداعظم نہرو کی طرح اٹھارہ سال اور جیتے، اگر لیاقت علی خان کو امریکا سے یوٹرن لینے سے پہلے ہی خاموش نہ کیا جاتا، اگر ایوب خان صرف فوج کی ملازمت کرتا اور بنیادی جمہوریت کا یہ زقوم کاشت نہ کرتا تو اس کی جڑوں سے ایک اور بڑا کیکٹس نہ پھوٹتا ... نہ ہی ضیاء الحق اسلامی دکان ڈالتے اور نہ ہی ہماری موجودہ سیاست کے سپر اسٹار جنم لیتے، یہ تو ہم نے یونہی مختصر طور پر بتایا ورنہ اس ''اگر'' نے وہ وہ ستم ڈھائے ہیں کہ اب وہ پارٹیوں کی صورت میں... ارے ہاں اگر عمران خان کرکٹ ہی پر اکتفا کرتے اور پورے ملک کو ٹونٹی ٹونٹی میچوں کی پچ میں نہ بدلتے ، اگر صرف شوکت خانم اسپتال تک محدود رہتے تو آج کتنے ''کیسز'' نہ ہوتے۔
چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے
کتنے غم تھے جو ترے غم کے بہانے نکلے
اس کی توہمیں شکل سے نفرت ہے بلکہ اس کے مال مسالے یعنی الف اور شین کے حروف بھی اتنے ناپسند ہیں جتنا عمران خان کو نواز شریف، مودی کو کیجریوال اور کیجریوال کو سونیا گاندھی ناپسند ہیں۔ ابھی کل پرسوں کی بات ہے ہمیں کچھ کام نہیں تھا اور اس لیے نہیں تھا کہ بجلی نہیں تھی اور بجلی جو سارے کاموں بلکہ ''غموں'' کی ماں ہے نہیں ہوتی تو راوی تو کیا جناب اور شلج بھی ''چین ہی چین'' لکھتے ہیں۔
بات ''ماں اور راوز، اولادوں'' کی آگئی ہے تو پہلے اسے ہی نپٹاتے چلیں، جس طرح قبض ''ام الامراض'' ہے۔ جس زمانے میں بجلی نہ تھی تو کوئی ''مرض'' بھی نہ تھا۔ نہ کوئی مشین تھی نہ صنعت تھی نہ فیکٹری تھی نہ بلب تھا نہ ٹیوب نہ تاریں نہ کھمبے اور نہ ہی سب سے بڑا مرض ''واپڈا'' ہوتا تھا۔ تازہ تازہ فریش دماغ ہوتا تھا نہ ڈیپریشن نہ دوا دوڑی اور نہ جھگڑے فساد ، لیکن اب جب یہ ''مردار'' ہماری زندگی میں آئی ہے تو وہ کون سی آفت ہے جو اس کی دم کے ساتھ بندھی ہوئی نہیں، چنانچہ
جب تیز ہوا چلتی ہے بستی میں سرشام
برساتی ہے اطراف سے پتھر تری ''بجلی''
وہ تو اچھا ہے کہ حکومت کے کچھ عالی دماغوں نے ''فالتو رقومات'' کو ادھر ادھر فنڈز اور ترقیاتی کاموں اور انکم ونکم سپورٹ کھاتوں میں ڈال لیا ورنہ اس پیسے سے اور بجلی گھر بنائے جاتے۔ بجلی کا یہ کم بخت ڈینگی مزید پھیلتا اور ہماری زندگی اجیرن کر ڈالتا پھر کچھ اور مرد مجاہد آئے تو انھوں نے اس کم بخت بدبخت تیرہ بخت بجلی کے اتیاچاروں سے بچنے بچانے کے لیے ''لوڈ شیڈنگ'' جیسا تیر بہدف اور رام بان علاج نکالا ، تب کہیں جا کر لوگوں کو آرام کی سانس لینے کا موقع ملا۔
تم جیسے مرے پاس ہو اور محو سخن ہو
محفل سی جما دیتی ہے، اکثر تری ''بجلی''
ادھر ادھر دیکھا تو اچانک اس ''اگر مگر اور کاش'' کے خاندان کا پاجامہ نظر آیا، سوچا بھلا اس سے بہتر شغل اور کیا ہو سکتا ہے۔
جگ میں آکر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
جان سے ہو گئے بدن خالی
جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
اس ناشدنی ''اگر'' کی زنجیر اتنی لمبی ہے کہ آپ اس میں کہیں بھی کچھ بھی پرو سکتے ہیں ۔ مثلاً ''اگر'' قابیل کو قتل نہ کیاگیا ہوتا تو ... اگر ہابیل کی جگہ قابیل قتل ہو جاتا تو ... پھر وہ نمرود تھا ''اگر'' اس کی ناک میں مچھر نہ گھس جاتا تو ... اگرحضرت ابراہیم نمرود کی دشمنی سے تنگ آکر مصر نہ چلا گیا ہوتا تو ... اور اگر حضرت یعقوب کے بیٹے حضرت یوسف کو کنوئیں میں گرانے کے بجائے قتل کرتے ... اگر اس کنوئیں کے پاس قافلے والوں کو پیاس نہ لگتی تو ...اگر وہ حضرت یوسف کو نکال مصر میں بیج نہ ڈالتے تو ...یہاں سے ''اگر'' کا ایک اور سلسلہ چلاتے ہیں۔
اگر یوسف عزیز مصر کے ہاتھ نہ لگتے تو ...اور اگر وہ اتنے خوب صورت نہ ہوتے تو ... اگر ان کو زندان میں نہ ڈالتے تو اور اگر اس کے ساتھ میں قید خانے میں شاہی ساقی کی ملاقات نہ ہوتی، چلو ہو جاتی تو کیا ضروری تھا کہ ساقی اور مظب مطبح خواب دیکھتے اور وہ خواب یوسف کو سناتے اور پھر اگر ساقی کو بادشاہ کا خواب سن کر یوسف یاد نہ آتا ... اگر حضرت یوسف مصر میں سیاہ و سپید کے مالک نہ ہو جاتے ۔
اگر وہ قحط نہ پڑتی ... اگر بنی اسرائیل مصر میں نہ بس جاتے اگر اصلی مصریوں کی حکومت آکر اسرائیل پر ظلم نہ کرتی، اگر اینٹوں کے بھٹے پر حضرت موسیٰ کے ہاتھوں ایک قبطی نہ مارا جاتا، اس طرح تاریخ کی زنجیر پکڑ کر ''اگر'' کی کڑیاں گنتے چلیے جائیے ... تو آپ کو لگ پتہ جائے گا کہ دنیا میں سارا کیا دھرا اس کم بخت ''اگر'' کا یا پھر اس کے چھوٹے بھائی ''مگر'' اور یا پھر ان کے چچا ''کاش'' ہی کا ہے اور ہو گا، وہ پشتو میں ایک شعر ہے جو مشہور و معروف داستاں ''فتح خان رابعہ'' کا ہے
دا کرمے ڈم ہر گز د بدونہ آوڑی
چہ چرتہ بدوی د فتحے سرلہ بہ لے راوڑی
یعنی یہ ''کرم'' بدمعاش اپنی بدمعاشی سے ہر گز باز نہیں آتا ڈھونڈ کر مصیبتیں پیدا کرتا ہے اور پھر انھیں ''فتخ خان'' کے سر ڈالتا ہے ... اگر ہم صرف پاکستان کی ستر سالہ تاریخ (حالانکہ اسے تاریخ کے بجائے ''تاریک'' کہنا زیادہ مناسب ہے) میں اس ''اگر'' کا عمل دخل دیکھیں تو اگر پاکستان نہ بنتا تو ہندو ہم مسلمانوں کو اتنا خراب نہ کر پاتے جتنا خراب اس ناہنجار و نابکار خدائی خوار ''اگر'' نے کیا ہے، یعنی اگر قائداعظم نہرو کی طرح اٹھارہ سال اور جیتے، اگر لیاقت علی خان کو امریکا سے یوٹرن لینے سے پہلے ہی خاموش نہ کیا جاتا، اگر ایوب خان صرف فوج کی ملازمت کرتا اور بنیادی جمہوریت کا یہ زقوم کاشت نہ کرتا تو اس کی جڑوں سے ایک اور بڑا کیکٹس نہ پھوٹتا ... نہ ہی ضیاء الحق اسلامی دکان ڈالتے اور نہ ہی ہماری موجودہ سیاست کے سپر اسٹار جنم لیتے، یہ تو ہم نے یونہی مختصر طور پر بتایا ورنہ اس ''اگر'' نے وہ وہ ستم ڈھائے ہیں کہ اب وہ پارٹیوں کی صورت میں... ارے ہاں اگر عمران خان کرکٹ ہی پر اکتفا کرتے اور پورے ملک کو ٹونٹی ٹونٹی میچوں کی پچ میں نہ بدلتے ، اگر صرف شوکت خانم اسپتال تک محدود رہتے تو آج کتنے ''کیسز'' نہ ہوتے۔
چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے
کتنے غم تھے جو ترے غم کے بہانے نکلے