ذمے داروں کی غیر ذمے داریاں

دہرےمعیارمیں لپٹادوسراجوہری لطیفہ مشرقِ وسطیٰ میں پایاجاتاہےاسرائیل گذشتہ پچاس برس سےغیراعلانیہ ایٹمی طاقت ہے


Wasat Ullah Khan May 17, 2016

انیس سو پینتالیس میں اس کرہِ ارض پے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد دو تھی اور دونوں امریکا نے جاپان پر استعمال کر ڈالے۔چنانچہ ایٹمی ہتھیاروں سے بچنے کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانے کی دوڑ شروع ہوگئی۔اگلے اکیاون برس میں یہ ایٹمی ہتھیار دو سے بڑھ کے چونسٹھ ہزار چار سو انچاس ہو گئے مگر اربوں ڈالر کے صرفے اور سائنس کے بہترین دماغوں کو خوب سے خوب تر کی جوہری تلاش میں کھپا کر گودام کے گودام بھرنے کے باوجود احساسِ عدم تحفظ کا مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

زمین کے سینے پر پہلا تجرباتی ایٹم بم پھوڑنے والے امریکی سائنسدانوں کے مین ہیٹن گروپ کا خیال تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے ہوتے روایتی اسلحے کی ضرورت کم سے کم تر ہوتی چلی جائے گی کیونکہ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی ایسا توازنِ دہشت ِ قائم کردے گی کہ اقوام ان کے خوف سے روایتی جنگیں لڑنے سے بھی ہچکچائیں گی۔

لیکن سب اندازے ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے جھاگ کی طرح بیٹھتے چلے گئے۔ایٹمی ہتھیاروں سے لبریز دنیا میں روایتی ہتھیاروں کی کھپت ہر سال بڑھتی ہی چلی گئی۔پہلی اور دوسری عالمگیر جنگ میں مجموعی طور پر جتنے لوگ ہلاک ہوئے ( لگ بھگ پانچ کروڑ )۔ان سے کہیں زیادہ انیس سو پینتالیس کے بعد سے اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان ہلاکتوں میں ایٹمی ہتھیاروں کے سبب ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی۔سب کا سب خون خرابہ ایٹمی چھتری کے سائے تلے روایتی ہتھیاروں کے ذریعے ہوا اور ہو رہا ہے۔

سب جانتے تھے کہ جوہری ہتھیار بڑے پیمانے پر کبھی استعمال نہیں ہوں گے لیکن ان کی اہمیت و حیثیت اس خنجر کی ہو گی جسے دکھا کے کمزور حریف کو گلی کا بدمعاش چانٹے مار کے اپنی دہشت سستے میں بٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ دنیا میں قیامِ امن کی ذمے دار اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکن پانچوں بڑی طاقتیں یکے بعد دیگرے '' جوہریاتی '' چلی گئیں۔سب سے زیادہ فائدہ امریکا کے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کو ہوا جس نے سوویت یونین کو ایٹمی ہتھیاروں کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کے اس کی تیز رفتار معیشت کو پگلا دیا۔یوں سوویت سسٹم کو یک رخی مہنگی سرنگ میں دھکیل کر ایمپائر کے ٹکڑے ٹکڑے کروا دیے۔

یہ ہدف حاصل کرنے کے بعد مغربی ایٹمی طاقتوں نے ایٹمی ہتھیاروں کے کبھی نہ استعمال ہونے والے انباروں میں کمی کی وکالت شروع کردی۔چنانچہ '' زخمی و شکستہ سوویت یونین کا وارث '' روس بھی اس فضول دوڑ سے باہر آنے پر راضی ہوگیا۔یوں انیس سو پینتالیس میں دو ہتھیاروں سے شروع ہو کر جو کہانی انیس سو چھیاسی میں چونسٹھ ہزار چار سو انچاس ہتھیاروں کے ذخیرے تک پہنچی وہ دو ہزار چودہ میں کم ہو کر دس ہزار چار سو پچپن ہتھیاروں تک آ گئی۔

یعنی اس وقت امریکا کے پاس چار ہزار سات سو ساٹھ ، روس کے پاس تینتالیس سو ، فرانس کے پاس تین سو ، چین کے پاس ڈھائی سو ، برطانیہ کے پاس سوا دو سو ، پاکستان کے پاس ایک سو بیس ، بھارت کے پاس ایک سو دس ، اسرائیل کے پاس اسی اور شمالی کوریا کے پاس دس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

لیکن نئے ہتھیاروں میں استعمال کے لیے تیار دو ہزار سترہ میٹرک ٹن افزودہ یورنئیم اور پانچ سو پچاس ٹن پلوٹونئیم اعلانیہ ایٹمی طاقتوں سمیت درجن بھر ممالک کی تحویل میں ہے اور اس کا تحفظ جوہری ہتھیاروں کے تحفظ سے بھی زیادہ کٹھن ہے۔مثلاً امریکا سب سے زیادہ شور مچاتا ہے کہ پاکستان یا روس جیسے ممالک کا افزودہ یورنیم اور پلوٹونیئم کسی بھی منظم دہشت گرد گروہ کے ہاتھ لگ سکتا ہے سب سے زیادہ بے اعتدالی خود امریکا کے جوہری ایندھن کے تحفظ میں دیکھنے میں آئی ہے۔

انیس سو پینتالیس سے جوہری معاملات پر نگاہ رکھنے والی امریکی تنظیم بلیٹن آف اٹامک سائنٹسٹس کے مطابق گذشتہ پانچ برس کے دوران امریکا میں جوہری ایندھن کی چوری کے ستائیس ، فرانس میں دو اور باقی دنیا میں چار وارداتیں ہوئیں۔جب کہ جوہری ایندھن کھو جانے کے سب سے زیادہ واقعات یعنی چودہ امریکا ، فرانس ، ارجنٹینا ، برازیل اور چلی میں دو دو اور دیگر ممالک میں تین ہوئے۔

اس کے باوجود ہارورڈ یونیورسٹی کے کینیڈی اسکول کی تازہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق بھارت کے ایٹمی سیکیورٹی کے انتظامات اگرچہ پاکستان کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہیں لیکن وہاں جوہری مواد تک خطرناک گروہوں کی پہنچ ہونے کا امکان کم ہے۔

اس کے برعکس پاکستان نے اگرچہ گذشتہ بیس برس میں اپنے جوہری اثاثوں تک رسائی کو مشکل بنانے کے لیے تسلی بخش انتظامات کر لیے ہیں اور اسٹرٹیجک پلاننگ ڈویژن کے تحت پچیس ہزار نفری پر مشتمل ایک پورا فوجی ڈویژن جوہری اثاثوں کے تحفظ کے لیے وقف ہے۔اس کے باوجود کینیڈی اسکول کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں باصلاحیت دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی ، شدت پسندی کے کاز سے پھیلتی ہمدردی ، اور کرپشن کے بے لگام خطرے کے سبب مغرب کو آج پہلے سے بڑھ کے فکر لاحق ہے کہ اگر مذکورہ وجوہات کے سبب کسی دن پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ بیٹھ گیا یا شدت پسندوں نے اقتدار پر قبضہ کرلیا یا کسی گروہ کے اندرونی تعاون و نیٹ ورک کے سبب جوہری مواد دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گیا تو کیا ہوگا ؟

گذشتہ برس تک امریکا جوہری اثاثوں کے تحفظ کے پاکستانی نظام پر اطمینان کا اظہار کرتا آیا ہے۔البتہ پچھلے چند ماہ کے دوران پاک امریکا تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے سبب امریکیوں کو دوبارہ وہم ہو چلا ہے کہ پاکستانی ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔یہ معاملہ ان چند دروں میں سے ایک ہے جو حسبِ ضرورت پاکستان کی پیٹھ لال کرنے کے کام آتے رہتے ہیں۔

حالانکہ جوہری تحفظ کے امریکی ریکارڈ کا پاکستان ریکارڈ سے موازنہ کیا جائے تو معلوم یہ ہوگا کہ امریکا کے برعکس پاکستان میں ایک بھی جوہری ہتھیار یا مواد کی کھیپ نہ چوری ہوئی نہ کسی کے ہاتھ لگی۔پھر بھی امریکا اپنے سے زیادہ پاکستان کے لیے فکرمند رہتا ہے۔اسے کہتے ہیں دوسرے کو نصیحت خود میاں فصیحت...

دہرے معیار میں لپٹا دوسرا جوہری لطیفہ مشرقِ وسطیٰ میں پایا جاتا ہے۔اسرائیل آج سے نہیں گذشتہ پچاس برس سے غیر اعلانیہ ایٹمی طاقت ہے اور ایٹمی ہتھیار سازی پر نگاہ رکھنے والے تمام سرکردہ بین الاقوامی تحقیقی ادارے اس حقیقت کو نہ صرف مانتے ہیں بلکہ اسرائیل کے جوہری اسلحہ خانے میں رکھے ہتھیاروں کی تعداد ( اسی ) تک جانتے ہیں۔لیکن اسرائیل اور بیشتر عرب ممالک کو آج بھی اگر تشویش ہے تو ایران کے جوہری پروگرام پر کہ جس کا کریا کرم ان تمام جوہری طاقتوں نے حال ہی میں مل کے کر دیا ہے کہ جن کے اپنے جوہری ہتھیار انتہائی '' ذمے دار ہاتھوں'' میں تصور کیے جاتے ہیں۔

ذمے دار ہاتھ کیسے ہوتے ہیں ؟ جاپان سے بہتر کون بتا سکتا ہے ؟

مقبول خبریں