پاکستان میں کوئی صحافی یا اینکر پرسن کسی اہم اور بااثر شخصیت کی تعریف و تحسین کرے تو بد گمانی کی جاتی ہے یا کی جا سکتی ہے کہ تعریف و تحسین میں کوئی ادارہ جاتی یا نجی مفاد ہو سکتا ہے یا تحسین کرنے والے کو خوشامدی کہا جا سکتا ہے ۔ مگر جب کوئی معتبر اور معروف مغربی عالمی جریدہ یا اخبار تعریف کرے تو اِسے کیا نام دیا جائے ؟ اور جب کوئی بڑا اور اسلامی برادر ملک ہمارے فیلڈ مارشل کو اپنے ملک کے اعلیٰ ترین قومی اعزاز سے نوازے تو کیا اِسے بھی تحسین سے موسوم نہیں کیا جائے گا؟جیسا کہ22دسمبر2025 کو سعودی عرب نے وطنِ عزیز کے چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر کو کنگ عبدالعزیز میڈل (ایکسیلنٹ کلاس) عطا کیا۔
سعودیہ کا یہ سب سے بڑا قومی اعزاز سعودی عرب کے فرمانروا ، جناب شاہ سلمان بن عبدالعزیز، کے شاہی فرمان کے تحت پیش کیا گیا۔ اور یہ شاندار اور قابلِ فخر میڈل سعودی عرب کے وزیر دفاع، شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز، نے جنرل عاصم منیر کے زیبِ گلو کیا ۔یہ میڈل پورے پاکستان، پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان کا فخر اور اعزاز ہے ۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اِس اعزاز یافتگی پر ہمارے بعض سیاستدان اور کچھ سیاسی جماعتیں اپنے دل و دماغ میں کتنی ہی تنگی محسوس کریں ۔
بھارت کے خلاف جنگی فتح حاصل کرنے کے بعد ، بِلا مبالغہ افواج پاکستان کیلیے عالمی سطح پر تعریف و تحسین کا گراف بلند سے بلند تر ہوتا چلا گیا ہے ۔سعودی عرب کی جانب سے میڈل عطا کیے جانے سے قبل امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، کھلے بندوں جنرل عاصم منیر کی کھلے دل سے، بار بار، تحسین کر چکے ہیں ۔
دُنیا کے سب سے طاقتور مقتدر فرد کی جانب سے کی گئی یہ تحسین پھر ساری دُنیا میں سُنی گئی ۔ اگرچہ اِس تحسین سے ہمارے ازلی دشمن، بھارت، کو بے حد تکلیف پہنچی ہے ۔ اور اِس تکلیف کی بازگشت پاکستان مخالف بھارتی میڈیا کے کئی اینکر پرسنز ( مثلاً ارنب گوسوامی ) کی زبانی ہم تک بھی پہنچ رہی ہے ۔ اور پھر ساری دُنیا نے یہ منظر بھی دیکھا، سُنا اور پڑھا کہ امریکہ اور برطانیہ کے دو معروف کنزرویٹو اخبارات نے پاک فوج کی جنگی فتح اور عالمی سفارتی فتوحات کو تسلیم کرتے ہُوئے سربراہ پاک فوج ناقابلِ فراموش الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے ۔
مثال کے طور پر پہلے امریکی دارالحکومت سے شائع ہونے والے کنزرویٹو اخبار (واشنگٹن ٹائمز) نے اور پھر برطانیہ سے شائع ہونے والے عالمی شہرت یافتہ اخبار ( فنانشل ٹائمز) نے،یکے بعد دیگرے، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا بالتفصیل ذکر تحسینی و تعریفی الفاظ میں کیا ہے ۔ ’’ واشنگٹن ٹائمز‘‘ پچھلی نصف صدی سے شائع ہورہا ہے ۔ آج کل اِس کی روزانہ اشاعت 50ہزار سے زیادہ ہے ۔ 21دسمبر2025 کو اِسی اخبار میں ریٹائرڈ امریکی بریگیڈئر جنرل(Mark Kimmitt)کا ایک طویل نیوز آرٹیکل شائع ہُوا ۔ اِس آرٹیکل کے لکھاری چونکہ جنوبی ایشیا کے نائب وزیر دفاع بھی رہے ہیں، اس لیے بھی اِس آرٹیکل کی اہمیت اور حیثیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔
مذکورہ آرٹیکل کا عنوان ہے:Trump,s Surprising Policy Turn on Pakistan مذکورہ مضمون کے آغاز میں مصنف نے پاکستان اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی کوئی خاص تعریف نہیں کی ہے ، لیکن دھیرے دھیرے ماضی قریب کے پاک امریکہ تعلقات اور واقعات کا احوال بیان کرتے ہُوئے یوں اعترافی کلمات لکھے ہیں: ’’2025 پاک امریکہ تعلقات میں انقلابی اور جوہری تبدیلی کا سال رہا۔فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، کے اندرونی اور قریبی حلقوں کے اسٹار بن کر اُبھرے ہیں۔
امریکی پالیسی شفٹ کی اساس مئی کی پاک بھارت جنگ بنی(جس میں پاکستان نے صرف چار گھنٹوں میں بھارت کو خاک چٹوا دی)پاکستان بارے امریکہ کی پالیسی ری رائٹ کرنے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ہی اصل کردار ہے۔‘‘ اِس آرٹیکل کی اشاعت کے دوسرے روز مذکورہ امریکی اخبار ہی نے سعودی عرب کی جانب سے جنرل عاصم منیر کو دیئے گئے شاندار میڈل کو بھی میرٹ قرار دیتے ہُوئے لکھا کہ ’’یہ میڈل جنرل منیر کو اِس وجہ سے بھی ملا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور سعودیہ کے ولی عہد محمد بن سلمان نے ایک غیر معمولی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، اِس عہد اور وعدے کے ساتھ کہ سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا اور پاکستان پر حملہ سعودی عرب پر حملہ جانا جائے گا۔‘‘
پاکستان اورجنرل عاصم منیر کی تعریف و تحسین کیے جانے پر بھارت میں صفِ ماتم بچھی ہے ۔ انڈین ملٹری اسٹیبلشمنٹ انگاروں پر لوٹ رہی ہے ۔ بھارتی میڈیا اِس کی گواہی دے رہا ہے ۔ بھارتی میڈیا اور بھارتی حکومت کو ’’واشنگٹن ٹائمز‘‘ کا یہ جملہ بے حد چبھا ہے :’’ جنرل عاصم منیر کی سفارتی کامیابیوں نے بھارت کو امریکی قربتوں سے دُور پھینک دیا ہے (India,s First Era end) مگر پاکستان کے دیگر خفی و جَلی دشمنوں کو اُس وقت مزید زَک اور تکلیف پہنچی جب برطانیہ کے137 سالہ قدیم اور مشہور ترین اخبار ’’فنانشل ٹائمز‘‘ (روزانہ اشاعت ایک لاکھ سے زائد) نے 23دسمبر2025کو Asim Munir emerges as Key strategic leader amid shifting global order ( یعنی عاصم منیر بدلتے نظام میں مؤثر اسٹریٹجک رہنما بن کر اُبھرے ہیں)کے زیر عنوان ایک تفصیلی مضمون شائع کیا۔اِسے معروف برطانوی صحافیAlec Russellنے قلمبند کیا ۔
گلابی کاغذ پر شائع ہونے والے ’’فنانشل ٹائمز‘‘ کے موصوف صحافی نے لکھا:’’بدلتی عالمی سیاست نے مڈل پاورز کے لیے نیا مگر مشکل دَور کھول دیا ہے ۔مڈل پاورز کیلیے یہ پیشرفت خاصی پیچیدہ ثابت ہو رہی ہے۔ مگر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر درمیانی طاقتوں کے سب سے کامیاب ملٹی الائنرز میں شامل ہیں۔بھارت کیلیے درمیانی طاقت کا عالمی کھیل توقع سے زیادہ مشکل ثابت ہُوا ہے ، جب کہ امریکی صدر کے ساتھ سب سے بہتر ہم آہنگ ہونے کا اعزاز پاکستان کے عسکری سربراہ جنرل عاصم منیر کو جاتا ہے ۔‘‘ اِس تحسینی مضمون کو معمولی خیال نہیں کرنا چاہیے ۔ کھاری 59سالہ Alec Russell کئی معروف کتابوں کے مصنف، بزرگ و کہنہ مشق تجزیہ نگار اورآج کل ’’فنانشل ٹائمز‘‘ کے معتبر فارن ایڈیٹر ہیں ۔ اس لیے اُن کے قلم سے نکلے یہ الفاظ واقعی معنوں میں تاریخ رقم کر گئے ہیں۔