چین نے شوگر کا علاج دریافت کر لیا

ایک طویل عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ شوگر کا کوئی علاج ممکن نہیں لیکن چین کے ڈاکٹراور سائنسدان شوگر کا مستقل علاج تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں


زمرد نقوی January 12, 2026
www.facebook.com/shah Naqvi

شوگر ایک ایسا دائمی مرض ہے جس میں انسان اگر ایک مرتبہ مبتلا ہو جائے تو اس سے نجات پانا ممکن نہیں ۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو خون میں شوگر کی صلاحیت کو کنٹرول کرنے کو متاثر کرتی ہے ۔ یہ مرض اس وقت پیدا ہوتا جب جسم انسولین کی مطلوبہ مقدار پیدا نہیں کرتا ۔ اگر لبلبہ مطلوبہ مقدار میں انسولین پیدا نہ کر رہا ہو تو خون میں شوگر کی سطح خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے ۔

عجیب بات یہ ہے کہ جسم کا مدافعتی نظام انسولین پیدا کرنے والے خلیوں بیٹا سیل پر حملہ کردیتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں انسولین کی پیداوار مکمل طور پر رک جاتی ہے ۔ اس صورت میں مریض کوروزانہ انسولین کے انجکشن لگانے پڑتے ہیں ۔ذیا بیطس کی بنیادی طور پر تین اقسام ہیں۔ پہلی قسم ذیا بیطس ون کہلاتی ہے ۔ شوگر کی دوسری قسم ٹائپ ٹو ہے ۔ اس میں جسم انسولین کی ضروری مقدار پیدا ہی نہیں کرتا یا پیدا ہونے والی انسولین کو صحیح معنوں میں استعمال ہی نہیں کرتا یہ وہ عام قسم ہے جس میں انسانوں کی بڑی تعداد مبتلا ہے۔ شوگر کی یہ قسم زیادہ ترغیر صحتمند طرز زندگی ، موٹاپے اور دوسرے جنیاتی عوامل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ شوگر کی ایک تیسری قسم بھی ہے یہ قسم دوران حمل ظاہر ہوتی ہے ۔

یہ قسم عموماً بچے کی پیدائش کے بعد ختم ہو جاتی ہے ۔ لیکن اس کی وجہ سے بعد میں ماں اور بچے کو ذیابیطس ٹو ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ شوگر کی علامات میں بار بار پیاس لگنا ، نظروں کا دھندلا پن ، بار بار پیشاب آنا اور زخموں کا دیر سے ٹھیک ہونا وغیرہ شامل ہیں ۔ یہ علامات ابتدائی طور پر تو معمولی ہوتی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتی جاتی ہیں ۔ اگر خاندان میں کسی کو شوگر ہو تو اولاد میں بھی یہ بیماری منتقل ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ۔ وجوہات غیر متحرک طرز زندگی ، ورزش سے گریز ، موٹاپا اور غیر متوازن غذا ، زیادہ شکر اور کاربوہائیڈریٹ والی غذا یعنی بیکری اشیاء ، شوارما، برگر پیزا ، باربی کیو وغیرہ شامل ہیں ۔ اگر اس پر کنٹرول نہ کیا جائے تو دل ، گردوں اور بینائی کے متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہوتا ہے ۔

ایک طویل عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ شوگر کا کوئی علاج ممکن نہیں لیکن چین کے ڈاکٹراور سائنسدان شوگر کا مستقل علاج تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل سیل ڈسکوری جرنل میں یہ ریسرچ شائع ہوئی اور یہ ریسرچ شنگھائی کے اسپتال میں کی گئی۔ درحقیقت چینی سائنسدان شوگر کے ایک 59سالہ مریض کو سیل تھراپی کے ذریعے شوگر سے نجات دلانے میں دائمی طور پر کامیاب ہو چکے ہیں ۔ ساؤتھ چائینہ مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس مریض کا علاج 2021 میں شروع ہوا اور 2022میں یہ مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو گیا۔ اس کے بعد آج تک اس مریض کو دواؤں کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑی ۔

یہ مریض گذشتہ 25سالوں سے شوگر کے مرض ذیابیطس 2میں مبتلا تھا ۔ اس مریض کے لبلبے کے خلیات کے افعال مکمل طور پر ختم ہو چکے تھے ۔ اس مریض کو روزانہ انسولین کے کئی انجکشن لگانے پڑتے تھے ۔ اس وجہ سے اس کو سنگین بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔ جولائی 2021میں اس مریض میں مصنوعی خلیات کو ٹرانسپلانٹ کیا گیا جس کے گیارہ ہفتوں بعد اسے انسولین کے انجکشن لگانے کی ضرورت نہیں رہی اس طرح مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو گیا ۔ بعد میں ٹیسٹوں کے ذریعے پتہ چلا کہ اس مریض کے لبلبے کے خلیات کے افعال مکمل طور پر بحال ہو چکے ہیں ۔

سیل تھراپی کے ذریعے شوگر کا مستقل علاج کرنا بہت بڑی کامیابی ہے ۔ سیل تھراپی کے ذریعے صحت مند خلیات کی مدد سے خراب خلیات کو ٹھیک کیا جاتا ہے یا اسے بدل دیا جاتا ہے ۔ یونیورسٹی آف برٹس کولمبیا کے پروفیسر ٹموتھی کیفر اس فیلڈ میں ماہر ہیں ۔ ان کا ماننا ہے کہ شوگر پر ہونے والی یہ نئی ریسرچ بہت بڑی کامیابی ہے ۔ چین میں دنیا بھر کے مقابلے میں سب سے زیادہ شوگر کے مریض پائے جاتے ہیں ۔ انٹرنیشنل ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق چین میں چودہ کروڑ ذیا بیطس کے مریض پائے جاتے ہیں ۔ان میں چار کروڑ افراد ایسے ہیں جنھیں زندگی بھر انسولین کا انجکشن لگانا پڑے گا۔ پاکستان میں بھی شوگر کے مریضوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے یعنی تین کروڑ ساٹھ لاکھ افراد اس موذی مرض میں مبتلا ہیں ۔

خاص طور پر خواتین میں شوگر کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ 1990ء میں یہ شرح 9فیصد تھی اور 2022میں یہ شرح بڑھ کر 30.9فیصد ہو گئی ہے۔اگر دنیا بھر کی بات کریں تو ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اس وقت شوگر کے مریضوں کی تعداد80 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس تعداد میں 1990کے بعد چار گنا اضافہ ہوا ہے ۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2050 تک ایک ارب تیس کروڑ افراد اس مرض کا شکار ہو چکے ہونگے ۔ لیکن اب اس نئے علاج کی دریافت سے صورت حال بہتر ہونے کا امکان ہے ۔

مقبول خبریں