اسرائیل کا فلسطینی شہریوں کو غزہ خالی کرنے کا الٹی میٹم
سات روز سے جاری اسرائیلی بم باری سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 120 ہو گئی۔ فوٹو: رائٹرز
اسرائیلی فضائیہ کی بم باری سے آج مزید 20 فلسطینی شہید ہو گئے جس کے بعد گزشتہ 7 دنوں سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 120 ہو گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما نے غزہ میں جاری بربریت رکوانے اور خطے میں قیام امن کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے مصرکے صدر محمد مرسی سے رابطہ کیا اور دوسری جانب صدر اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم سے بھی غزہ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی مصر کا دورہ کیا اورعرب وزرائے خارجہ اور مصری حکام سے ملاقاتیں کیں ۔ جرمن کے وزیر خارجہ نے جنگ بندی کے لئے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات بھی کی جب کہ ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان نے غزہ میں بمباری کے دوران بچوں کی ہلاکت پراسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دیا ہے۔
دوسری جانب فلپائن میں اسرائیل کی غزہ پر بمباری کے خلاف اسرائیلی سفارت خانے کے باہر احتجاجی مظاہر کیے گئے جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ لوگوں نے اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی اور مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ رہائشی علاقوں پر بمباری کا کوئی جواز نہیں، اس موقع پر مظاہرین نےاسرائیلی اورامریکی پرچم بھی نذرآتش کئے۔
اسرائیلی ریڈیو کے مطابق اسرائیلی کابینہ مصر کی جانب سے پیش کئے جانے والے جنگ بندی کے منصوبے پر غور کررہی ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے عرب ممالک کی جانب سے سلامتی کونسل میں لائی جانے والی قرارداد پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں حماس کی جانب سے اسرائیل پر کئے جانے والے راکٹ حملوں کا ذکر نہیں ہے لہذا یہ قراداد حالات کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔