امریکاوکینیڈا سے سرمایہ کاری معاہدے رواںسال ہونگے

ایکسپریس اردو  اتوار 22 جولائ 2012
 دسمبرتک دستخط کردیے جائینگے،معاہدوں سے برآمدات کوفروغ ملے گا،سلیم مانڈوی والا

دسمبرتک دستخط کردیے جائینگے،معاہدوں سے برآمدات کوفروغ ملے گا،سلیم مانڈوی والا

اسلام آباد:  پاکستان رواں سال امریکا اور کینیڈا کے ساتھ سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط کریگا جس سے پاکستان کی برآمدات کو فروغ ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار وزیرمملکت اور چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سلیم ایچ مانڈوی والا نے ایک انٹرویو میں کیا۔ انھوں نے کہاکہ کینیڈا اور امریکا کے ساتھ سرمایہ کاری معاہدے پر دستخط پاکستان کیلیے اہم پیشرفت ہوگی،

معاہدوں پر دستخط دسمبر تک ہوجائیںگے۔ چیئرمین بی او آئی نے کہاکہ سیاستدان، بیوروکریسی اور بزنس مافیا بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں مشکلات کھڑی کر رہے ہیں کیونکہ وہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری نہیں آنے دینا چاہتے، ہمیں پہلے اپنا گھر درست کرنا ہوگا اور اس مقصد کیلیے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری لانے کیلیے کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زون (ایس ای زیڈ) کاحال ہی میں منظور ہونے والا بل پاکستانی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے

جس سے پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری لانے اور مقامی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ یہ سرمایہ کاری کو قانونی تحفظ کو فراہم کرتا ہے، خصوصی اقتصادی زون کے قیام سے مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کو ترغیب ملے گی، جیسے ہی یہ اسکیم آپریشن ہوگی تو اس سے بعض سرمایہ کار ملک جیسے کوریا، چین اور جاپان کو فائدہ ہوگا۔ انھوں نے کہاکہ اصول وضوابط مرتب ہوتے ہی صوبائی حکومتوں کو اقدامات شروع کرنے کی درخواست کی جائیگی،

ایس ای زیڈ بیل سے ترغیبات کے ساتھ صنعتی کلسٹر کے قیام، انفرااسٹرکچر، سرمایہ کار سہولتی خدمات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی جس سے پیداواریت میں اضافہ ہوگا اور کاروباری لاگت میں کمی آئے گی جس سے اقتصادی ترقی اور انسدادغربت میں مدد ملے گی،

ایس ای زیڈبل میں ضمانت فراہم کی گئی ہے کہ ایک بار دی جانے والی مراعات کسی تنازع پر واپس نہیں لی جا سکیںگی، اب سرمایہ کاری بورڈ تیزی سے منصوبہ بندی کے ساتھ پیشرفت کرے گا اور ملک میں بیرونی اور مقامی سرمایہ کاروں کوسرمایہ کاری کی جانب راغب کرنے کیلیے متحرک کریگا، اس سے نہ صرف نئی ٹیکنالوجیز لانے میں مدد ملے گی بلکہ لوگوں کو ملازمتوں کی فراہمی اور برآمدات میں اضافے سے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔