پانی کی قلت اور اندیشہ ہائے دور دراز
مستقبل کی آبی جنگ کو ٹالنے کی مشترکہ کوششوں کے لیے حکومت کوئی لمحہ ضایع نہ کرے
پانی کا بحران عالمی ہے تاہم اس کی وجہ بدترین واٹر مینجمنٹ ہے۔ فوٹو : فائل
حکومت کی غفلت کے باعث کراچی میں پانی کا بد ترین بحران شدید ہوگیا ہے جس کے باعث رمضان المبارک میں بھی شہریوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی عدم فراہمی کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہرے کیے گئے، ایسے مظاہرے ملک کے دیگر شہروں میں بھی جاری ہیں، بتایا جاتا ہے کہ کراچی واٹر بورڈ کے اعلیٰ حکام 5سال سے ڈملوٹی کنوؤںاور حب ڈیم کی مرکزی سطح سے پانی کی فراہمی کے لیے سندھ حکومت سے فنڈز طلب کررہے ہیں تاہم صوبائی حکومت نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔
المیہ صرف ملک کے سب سے بڑے شہر قائد تک محدود نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی ورلڈ واٹر کونسل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانی کا بحران عالمی ہے تاہم اس کی وجہ بدترین واٹر مینجمنٹ ہے جس سے 2025 ء تک18ارب انسان پانی کی شدید قلت سے دوچار ہوں گے اور اگر طبعی و معاشی قلت کا ادراک نہ کیا گیا تو2030ء تک نصف دنیا العطش العطش کے شور میں ڈوب جائے گی جب کہ دو تہائی عالمگیر آبادی پانی کی بنیادی ضروریات کو ترس رہی ہوگی۔ ملکی ماہرین کے مطابق سالانہ ایک ہزار مکعب فٹ فی کس پانی کی دستیابی کا جو عالمی معیار ہے پاکستان اس سے مسلسل نیچے کی طرف سر گرم سفر ہے اور ملک میں پانی کی کمی کے ہولناک خطرات و مضمرات سے حکمراں بے خبر ہیں۔
عالمی رپورٹوں کے مطابق کرہ ارض پر 97 فیصد پانی سمندری ہے جو پینے کے قابل نہیں جب کہ پینے کے پانی کی عالمی تقسیم بھی ممکن نہیں ہوسکی ہے اور نوع انسانی کو یومیہ ضرورت کے علاوہ کاشتکاری اور صنعتی مقاصد کے لیے جو پانی دستیاب ہے وہ بارشوں، قدرتی جھیلوں، گلیشیئر، آبی ذخائر،اور دریاؤں کے مرہون منت ہے جس پر زراعت، صنعت اور ماحولیات کا انحصار ہے جب کہ پانی کے استعمال میں بیداری اور ذمے داری کی کوئی مہم کامیابی سے چلائی نہیں گئی۔ ادھر پاکستان کا آبی گھیراؤ بھارت بھی کررہا ہے ۔
جس کے خلاف ریاستی اور حکومتی سطح پر عالمی قانونی چارہ جوئی جاری ہے تاہم اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ صوبائی حکومتیں وفاق کی رہنمائی میں مستقبل کی آبی منصوبہ بندی سے لے کر روزمرہ کی ضروریات کے لیے پینے کے پانی کی موثر انتظام کاری کی طرف ٹھوس پیش رفت کریں، ورنہ پانی سر سے اونچا ہونے کے بعد واویلا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
پانی زندگی کی بنیادی ضرورت اور نعمت خداوندی ہے ، کئی ممالک اس قلت آب کے پیش نظر ''No water no business کے فارمولا پر عمل کررہے ہیں، بعض ملکون کے آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی نے ثابت کیا ہے کہ پانی نیا تیل ہے۔ یعنی ماہرین اس خطرہ کی نشاندہی کررہے ہیں کہ آیندہ عشروں میں پانی کا بحران تیل کے بحران کی یاد دلائے گا، چنانچہ کئی ملکوں میں پانی کی ری سائیکلنگ کی صنعت عروج پر ہے اور وہاں کاشتکاری ، صنعتی مقاصد اور دیگر روز مرہ کاموں کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹس کام کررہے ہیں۔
امید کی جانی چاہیے کہ ارباب اختیار پانی کے بحران کو عارضی سمجھنے کی سطح سے بلند ہوکر اس کے اربوں انسانوں کی غذائی ضروریات اور زرعی، صنعتی معیشت اور تجارت کے پہیے کو رواں رکھنے کی ٹھوس منصوبہ بندی کریں گے۔ مستقبل کی آبی جنگ کو ٹالنے کی مشترکہ کوششوں کے لیے حکومت کوئی لمحہ ضایع نہ کرے۔
المیہ صرف ملک کے سب سے بڑے شہر قائد تک محدود نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی ورلڈ واٹر کونسل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانی کا بحران عالمی ہے تاہم اس کی وجہ بدترین واٹر مینجمنٹ ہے جس سے 2025 ء تک18ارب انسان پانی کی شدید قلت سے دوچار ہوں گے اور اگر طبعی و معاشی قلت کا ادراک نہ کیا گیا تو2030ء تک نصف دنیا العطش العطش کے شور میں ڈوب جائے گی جب کہ دو تہائی عالمگیر آبادی پانی کی بنیادی ضروریات کو ترس رہی ہوگی۔ ملکی ماہرین کے مطابق سالانہ ایک ہزار مکعب فٹ فی کس پانی کی دستیابی کا جو عالمی معیار ہے پاکستان اس سے مسلسل نیچے کی طرف سر گرم سفر ہے اور ملک میں پانی کی کمی کے ہولناک خطرات و مضمرات سے حکمراں بے خبر ہیں۔
عالمی رپورٹوں کے مطابق کرہ ارض پر 97 فیصد پانی سمندری ہے جو پینے کے قابل نہیں جب کہ پینے کے پانی کی عالمی تقسیم بھی ممکن نہیں ہوسکی ہے اور نوع انسانی کو یومیہ ضرورت کے علاوہ کاشتکاری اور صنعتی مقاصد کے لیے جو پانی دستیاب ہے وہ بارشوں، قدرتی جھیلوں، گلیشیئر، آبی ذخائر،اور دریاؤں کے مرہون منت ہے جس پر زراعت، صنعت اور ماحولیات کا انحصار ہے جب کہ پانی کے استعمال میں بیداری اور ذمے داری کی کوئی مہم کامیابی سے چلائی نہیں گئی۔ ادھر پاکستان کا آبی گھیراؤ بھارت بھی کررہا ہے ۔
جس کے خلاف ریاستی اور حکومتی سطح پر عالمی قانونی چارہ جوئی جاری ہے تاہم اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ صوبائی حکومتیں وفاق کی رہنمائی میں مستقبل کی آبی منصوبہ بندی سے لے کر روزمرہ کی ضروریات کے لیے پینے کے پانی کی موثر انتظام کاری کی طرف ٹھوس پیش رفت کریں، ورنہ پانی سر سے اونچا ہونے کے بعد واویلا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
پانی زندگی کی بنیادی ضرورت اور نعمت خداوندی ہے ، کئی ممالک اس قلت آب کے پیش نظر ''No water no business کے فارمولا پر عمل کررہے ہیں، بعض ملکون کے آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی نے ثابت کیا ہے کہ پانی نیا تیل ہے۔ یعنی ماہرین اس خطرہ کی نشاندہی کررہے ہیں کہ آیندہ عشروں میں پانی کا بحران تیل کے بحران کی یاد دلائے گا، چنانچہ کئی ملکوں میں پانی کی ری سائیکلنگ کی صنعت عروج پر ہے اور وہاں کاشتکاری ، صنعتی مقاصد اور دیگر روز مرہ کاموں کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹس کام کررہے ہیں۔
امید کی جانی چاہیے کہ ارباب اختیار پانی کے بحران کو عارضی سمجھنے کی سطح سے بلند ہوکر اس کے اربوں انسانوں کی غذائی ضروریات اور زرعی، صنعتی معیشت اور تجارت کے پہیے کو رواں رکھنے کی ٹھوس منصوبہ بندی کریں گے۔ مستقبل کی آبی جنگ کو ٹالنے کی مشترکہ کوششوں کے لیے حکومت کوئی لمحہ ضایع نہ کرے۔