سندھ بجٹ اور کراچی کو صوبہ بنانے کے مطالبے پر ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے اراکین الجھ پڑے
یم کیو ایم کے رکن محفوظ یار خان نے کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا جس پر پیپلزپارٹی کے ارکان آپے سے باہر ہوگئے
صوبے میں تعلیم کا شعبہ رقم ہڑپ کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے اور بجٹ میں بھی اس شعبے پر رقم اس لئے بڑھائی گئی، رکن ایم کیوایم سیف الدین خالد. فوٹو:فائل
بجٹ پر بحث کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کا اجلاس ایک مرتبہ پھر مچھلی بازار بنا رہا جس کے دوران ایم کیو ایم کے رکن محفوظ یار خان کی جانب سے کراچی کو نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا تو پیپلزپارٹی کے ارکان آپے سے باہر ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسپیکر آغا سراج درانی کی سربراہی میں شروع ہونے والے سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران بجٹ پر بحث جاری تھی کہ اس موقع پر کراچی کو بجٹ میں یکسر نظرانداز کئے جانے پرایم کیو ایم کے رکن محفوظ یار خان نے کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا جس پر پیپلزپارٹی کے ارکان آپے سے باہر ہوگئے اور انہوں نے شدید احتجاج کیا۔ پیپلزپارٹی کے رکن امداد پتافی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ محفوظ یار خان سب سے بڑا لوٹا ہے جس نے سندھ کو توڑنے کی بات کی، سندھ کی تقسیم کسی صورت نہیں ہونے دیں، ایم کیو ایم اپوزیشن میں ہوتی ہے تو مہاجر اور اقتدارمیں متحدہ بن جاتی ہے،اردو بولنے والے ہمارے لیے قابل احترام ہیں، احساس محرومی تو گاؤں میں رہنے والوں کو ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم کو را کا ایجنٹ قرار دیا ہم نے نہیں، مصطفیٰ کمال کا بدلہ ہم سے نہ لیا جائے اور یہ مصطفیٰ کمال کا بدلہ سندھ سےلینا چاہتے ہیں ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
امداد پتافی کی تقریر کے دوران ایم کیو ایم ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور شیم شیم کے نعرے لگائے۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے رکن وقار شاہ کا کہنا تھا کہ ملیر ندی پر نئے بند کی تعمیر کے نام پر ندی کو کاٹ کراس کی زمین بیچنے کی سازش کی جارہی ہے، یہ ہیں سندھ کے بیٹے جو سندھ کی زمین بیچ رہے ہیں، کراچی کی کئی سڑکیں زبوں حالی کاشکارہیں، آپ بتائیں کیا آپ نے کراچی کو اس کے حقوق دیئے ہیں، اگر حقوق نہیں ملتے تو صوبے بننے میں کوئی قباحت نہیں، ہزارہ، سرائیکی اور کراچی میں بھی صوبہ بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کہتے ہیں 70 فیصد ریوینوسندھ دیتا ہے مگروفاق حق نہیں دیتا، پہلے اپنے لوگوں کو حقوق دیں پھروفاق سے حقوق لینے کی بات کریں۔
پیپلزپارٹی کی رکن شہلا رضا نے ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ وفاق کے اتحادی ہیں کبھی سوال کیا کہ بجٹ سے پہلے این ایف سی اجلاس کیوں نہیں ہوا، نیب دانش اسکول اور سستی روٹی اسکیم کیوں نہیں دیکھتی، اگر ہمارے لوگ پکڑے جائیں گے، فنڈز روکے جائیں گے تو بجٹ کیسے چلے گا، بجٹ تو وہ بھی پاس ہورہا ہے جو وزیراعظم نے اسکائپ پر دیکھا،جو صوبے گیس پیدا کررہے ہیں وہاں فیکٹریاں بند پڑی ہیں ، صوبوں کو بجلی کیوں نہیں بنانے دی جارہی ہے۔ اس موقع پر ایم کیو ایم ارکان نے احتجاج کیا تو شہلا رضا نے کہا کہ میں سندھ کا مسئلہ بیان کررہی ہوں آپ کوے کا گوشت کھانا بند کریں۔
بجٹ پر بحث کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن سیف الدین خالد نے کہا سندھ اسمبلی میں جس طرح بات کی گئی ایسے لگا کہ شیطان ایوان میں آگیا ہے جس پر اسپیکر نے کہا کہ اگر آپ نے شیطان دیکھ لیا تو اس کی شناخت بھی کرادیں جس پر انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سندھ بھر میں تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کردیا گیا ہے جب کہ صوبے میں تعلیم کا شعبہ رقم ہڑپ کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے اور بجٹ میں تعلیم کے شعبے میں 28 فیصد اس لیے رکھا گیا کہ اسے ہڑپ کر لیا جائے، اسکولوں میں ٹیچرز اور اسپتالوں میں ڈاکٹرز نہیں،صوبے میں اسپتالوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسپیکر آغا سراج درانی کی سربراہی میں شروع ہونے والے سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران بجٹ پر بحث جاری تھی کہ اس موقع پر کراچی کو بجٹ میں یکسر نظرانداز کئے جانے پرایم کیو ایم کے رکن محفوظ یار خان نے کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا جس پر پیپلزپارٹی کے ارکان آپے سے باہر ہوگئے اور انہوں نے شدید احتجاج کیا۔ پیپلزپارٹی کے رکن امداد پتافی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ محفوظ یار خان سب سے بڑا لوٹا ہے جس نے سندھ کو توڑنے کی بات کی، سندھ کی تقسیم کسی صورت نہیں ہونے دیں، ایم کیو ایم اپوزیشن میں ہوتی ہے تو مہاجر اور اقتدارمیں متحدہ بن جاتی ہے،اردو بولنے والے ہمارے لیے قابل احترام ہیں، احساس محرومی تو گاؤں میں رہنے والوں کو ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم کو را کا ایجنٹ قرار دیا ہم نے نہیں، مصطفیٰ کمال کا بدلہ ہم سے نہ لیا جائے اور یہ مصطفیٰ کمال کا بدلہ سندھ سےلینا چاہتے ہیں ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
امداد پتافی کی تقریر کے دوران ایم کیو ایم ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور شیم شیم کے نعرے لگائے۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے رکن وقار شاہ کا کہنا تھا کہ ملیر ندی پر نئے بند کی تعمیر کے نام پر ندی کو کاٹ کراس کی زمین بیچنے کی سازش کی جارہی ہے، یہ ہیں سندھ کے بیٹے جو سندھ کی زمین بیچ رہے ہیں، کراچی کی کئی سڑکیں زبوں حالی کاشکارہیں، آپ بتائیں کیا آپ نے کراچی کو اس کے حقوق دیئے ہیں، اگر حقوق نہیں ملتے تو صوبے بننے میں کوئی قباحت نہیں، ہزارہ، سرائیکی اور کراچی میں بھی صوبہ بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کہتے ہیں 70 فیصد ریوینوسندھ دیتا ہے مگروفاق حق نہیں دیتا، پہلے اپنے لوگوں کو حقوق دیں پھروفاق سے حقوق لینے کی بات کریں۔
پیپلزپارٹی کی رکن شہلا رضا نے ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ وفاق کے اتحادی ہیں کبھی سوال کیا کہ بجٹ سے پہلے این ایف سی اجلاس کیوں نہیں ہوا، نیب دانش اسکول اور سستی روٹی اسکیم کیوں نہیں دیکھتی، اگر ہمارے لوگ پکڑے جائیں گے، فنڈز روکے جائیں گے تو بجٹ کیسے چلے گا، بجٹ تو وہ بھی پاس ہورہا ہے جو وزیراعظم نے اسکائپ پر دیکھا،جو صوبے گیس پیدا کررہے ہیں وہاں فیکٹریاں بند پڑی ہیں ، صوبوں کو بجلی کیوں نہیں بنانے دی جارہی ہے۔ اس موقع پر ایم کیو ایم ارکان نے احتجاج کیا تو شہلا رضا نے کہا کہ میں سندھ کا مسئلہ بیان کررہی ہوں آپ کوے کا گوشت کھانا بند کریں۔
بجٹ پر بحث کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن سیف الدین خالد نے کہا سندھ اسمبلی میں جس طرح بات کی گئی ایسے لگا کہ شیطان ایوان میں آگیا ہے جس پر اسپیکر نے کہا کہ اگر آپ نے شیطان دیکھ لیا تو اس کی شناخت بھی کرادیں جس پر انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سندھ بھر میں تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کردیا گیا ہے جب کہ صوبے میں تعلیم کا شعبہ رقم ہڑپ کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے اور بجٹ میں تعلیم کے شعبے میں 28 فیصد اس لیے رکھا گیا کہ اسے ہڑپ کر لیا جائے، اسکولوں میں ٹیچرز اور اسپتالوں میں ڈاکٹرز نہیں،صوبے میں اسپتالوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔