جرائم روکنے کیلیے ایکشن پلان پر عمل کیا جائے گورنر سندھ
ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے، ایسوسی ایشنز کمانڈ اینڈ کنٹرول روم تیار کریں۔
90 دن کے اندرپلان مکمل کرنے کی ہدایت ،سائٹ ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات۔ فوٹو: فائل
گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے تمام صنعتی علاقوں کو ہر قسم کے جرائم سے پاک کرنے کیلیے ایکشن پلان پر فوری عملدرآمدکی ہدایت کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ 90 دن کے اندر اس پلان پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے،یہ بات انھوں نے گورنر ہائوس میں سائٹ ایسوسی ایشن کے ایک وفد سے ملاقات میں کہی،وفد کی قیادت سراج قاسم تیلی کررہے تھے،اس موقع پر زبیر موتی والا،سائٹ ایسوسی ایشن کے چیئر مین ڈاکٹرارشد ووہرہ ،کمشنر کراچی ہاشم رضا زیدی، سی پی ایل سی چیف احمد چنائے اور ایسوسی ایشن کے دیگر اراکین بھی موجود تھے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ جرائم کو ختم کرنے کیلیے لازمی ہے کہ انٹیلی جنس شیئرنگ کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کا بھی بھرپور فائدہ اٹھایا جائے ،انھوں نے کہا کہ تمام ایسوسی ایشنز اپنی نگرانی میں کمانڈ اینڈ کنٹرول روم ایمرجنسی بنیادوں پر تیار کریں،جہاں سے صنعتی ایسوسی ایشن اپنے زیراثر علاقوں کی مکمل نگرانی کرسکے،انھوں نے اس سلسلے میں اپنے ترقیاتی فنڈز سے بھی رقم مہیا کرنے کی یقین دہانی کرائی،انھوں نے کہا کہ سائٹ ایسوسی ایشن کو سیکیورٹی کے علاوہ دیگر مسائل بھی درپیش ہیں جس میں پانی کی فراہمی، سڑکوں کا نیٹ ورک، گیس کی موثر سپلائی اور ترقیاتی فنڈز میں اضافہ شامل ہیں۔
انھوں نے ان تمام مسائل کے حل کیلیے کمشنر کراچی کی سربراہی میں ایسوسی ایشن کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنانے کی ہدایت کی، یہ کمیٹی ان تمام مسائل کو مقررہ مدت کے اندر حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے،انھوں نے صنعتوں کے سروے اور سیکیورٹی تدابیر کے حوالے سے بھی کمشنر کراچی کو ٹاسک جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی، اس سروے کے تحت تمام صنعتوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ ہیلتھ اینڈ سیفٹی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو یقینی بنائیں۔
انھوں نے کہا کہ 90 دن کے اندر اس پلان پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے،یہ بات انھوں نے گورنر ہائوس میں سائٹ ایسوسی ایشن کے ایک وفد سے ملاقات میں کہی،وفد کی قیادت سراج قاسم تیلی کررہے تھے،اس موقع پر زبیر موتی والا،سائٹ ایسوسی ایشن کے چیئر مین ڈاکٹرارشد ووہرہ ،کمشنر کراچی ہاشم رضا زیدی، سی پی ایل سی چیف احمد چنائے اور ایسوسی ایشن کے دیگر اراکین بھی موجود تھے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ جرائم کو ختم کرنے کیلیے لازمی ہے کہ انٹیلی جنس شیئرنگ کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کا بھی بھرپور فائدہ اٹھایا جائے ،انھوں نے کہا کہ تمام ایسوسی ایشنز اپنی نگرانی میں کمانڈ اینڈ کنٹرول روم ایمرجنسی بنیادوں پر تیار کریں،جہاں سے صنعتی ایسوسی ایشن اپنے زیراثر علاقوں کی مکمل نگرانی کرسکے،انھوں نے اس سلسلے میں اپنے ترقیاتی فنڈز سے بھی رقم مہیا کرنے کی یقین دہانی کرائی،انھوں نے کہا کہ سائٹ ایسوسی ایشن کو سیکیورٹی کے علاوہ دیگر مسائل بھی درپیش ہیں جس میں پانی کی فراہمی، سڑکوں کا نیٹ ورک، گیس کی موثر سپلائی اور ترقیاتی فنڈز میں اضافہ شامل ہیں۔
انھوں نے ان تمام مسائل کے حل کیلیے کمشنر کراچی کی سربراہی میں ایسوسی ایشن کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنانے کی ہدایت کی، یہ کمیٹی ان تمام مسائل کو مقررہ مدت کے اندر حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے،انھوں نے صنعتوں کے سروے اور سیکیورٹی تدابیر کے حوالے سے بھی کمشنر کراچی کو ٹاسک جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی، اس سروے کے تحت تمام صنعتوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ ہیلتھ اینڈ سیفٹی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو یقینی بنائیں۔