موبائل فون اور ڈبل سواری پر پابندی شہر بھر میں خوف و ہراس شاہراہیں سنسان

بم دھماکوں نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا یا، وفاقی حکومت نے واقعات کا واویلا کرکے شہریوں کو ذہنی الجھائو کا شکارکردیا

9 محرم الحرام کے جلوس کے موقع پر سیکیورٹی اقدامات کے تحت ایم اے جناح روڈ کو بیریئر لگاکر ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

شہر میں موبائل فون سروس کی بندش ، موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی اور دہشت گردی خدشات کے پیش نظر شہر کی شاہراہیں دن بھر سنسنان رہیں جبکہ ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔

نویں محرم کو عام تعطیل کے باوجود شہریوں نے گھر سے باہر نہ نکلنے میں ہی عافیت سمجھی ، نو محرم کو شہر میں دن بھر نیاز حسین کی تیاری کا شروع ہونے والا سلسلہ دسویں محرم کی صبح تک جاری رہتا تھا جس میں سیکیورٹی خدشات کے باعث بہت حد تک کمی واقع ہوئی ہے، تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے نویں محرم الحرام کو موبائل فون سروس بند رکھنے اور موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی عائد کیے جانے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر شہر میں خوف و ہراس کی فضا پھیلی رہی۔

شہریوں نے ایکسپریس سے بات چیت میں بتایا کہ پولیس کی ناکامی کے باعث محرم الحرام میں موٹر سائیکل بم دھماکوں نے شہر میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی اور وفاقی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے مزید واقعات کا واویلا مچا کر شہریوں کو مزید ذہنی الجھنوں کا شکار بنا دیاگیا ، شہریوں کا کہنا تھا کہ نویں محرم کو عام تعطیل کی وجہ سے علاقوں میں بڑی رونقیں ہوتی تھیں کہیں سبیل پر دودھ کا شربت تقسیم ہوتا تھا تو کہیں دکانداروں کی جانب سے ٹب میں شربت بنا کر لوگوں کو پلایا جاتا تھا۔


جبکہ پرچون کی دکانوں پر حلیم کے سامان اور مصالحہ جات کے ساتھ ساتھ حلیم کے لیے گوشت کے خریداروں کا بھی بڑا ہجوم رہتا تھا جبکہ شہر بھر میں ٹریفک بھی سڑکوں پر رواں دواں دکھائی دیتا تھا تاہم شہریوں نے موبائل فون سروس بند ہونے اور کسی دہشت گردی کے واقعے میں اہلخانہ یا دوستوں سے رابطہ نہ ہونے کے خوف سے گھروں سے باہر نہ آنے پر میں ہی عافیت سمجھی جس کے باعث شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں ویرانی سی چھائی رہی اور ٹریفک نہ ہونے کے برابر رہا۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ نویں محرم کو دن بھر نیاز حسین کی تیاری کے حوالے سے انتظامات کا سلسلہ شروع ہوتا تھا جو رات بھر جاری رہنے کے بعد دسویں محرم کی صبح تک جاری رہتا تھا اور بعدازاں نیاز حسین کی تقسیم اور لنگر کھلانے کا سلسہ شروع ہوتا تھا جس میں سینکڑوں افراد لنگر سے مستفید ہوتے تھے تاہم پولیس اور رینجرز کی ناقص حکمت عملی اور موبائل فون سمیت موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی نے شہریوں کو نیاز و نذر کے انتظامات کرنے میں محدود کر دیا اور اس بار شہر میں خوف و ہراس کے باعث وہ ماحول دکھائی نہیں دیا جیسا کی ماضی میں ہوتا تھا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ محرم الحرام میں جاری بے یقینی کی کیفیت کی وجہ سے شہر بھر میں نوجوان کی جانب سے سبیلیں لگانے اور چندہ جمع کر کے دودھ کا شربت تقسیم کرنے کا سلسلہ نہ ہونے کے برابر رہا جبکہ صاحب حیثیت افراد کی جانب سے بڑے پیمانے پر سڑکوں پر لائنیں لگا کر رات بھر حلیم اور بریانی کی دیگیں پکائی جاتی تھیں اور انھیں پکانے کے لیے باقاعدہ باورچیوں کی خدمات حاصل کی جاتیں تھی تاہم خوف کے سائے اور دہشت گردی کے خطرات کی وجہ سے ان میں نہ صرف بہت حد تک کمی واقع ہوئی بلکہ کئی علاقوں میں پولیس نے بھی سیکیورٹی خدشات کو جواز بنا کر سڑکوں پر دیگیں پکانے اور لنگر تقسیم کرنے سے روک دیا۔
Load Next Story