وفاقی حکومت نے خطرناک کھلونوں کی درآمد پر پابندی لگا دی
حکومت کوامپورٹ پالیسی آرڈر میں ترمیم کی تجویزپیش کردی گئی۔
برآمدی ملکوں کیلیے کھلونوں کے خطرے سے پاک ہونے کا سرٹیفکیٹ لازمی، بلٹ پروف سامان کی درآمد بھی وزارت داخلہ کے این او سی سے مشروط کی جا رہی ہے، حکام فوٹو: نور
وفاقی حکومت کی طرف سے نئی تجارتی پالیسی میں بچوں کیلیے خطرناک کھلونوں کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور کھلونوں کی درآمد کیلیے کھلونے برآمد کرنے والے ممالک سے خطرے سے پاک کھلونوں کے سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ بلٹ پروف خام مال کی در آمد کیلیے وزارت داخلہ سے این او سی کے حصول کو بھی لازمی قرار دے دیا جائے گا۔
اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایات کی گئی ہیں کہ کھلونوں کی درآمد کو سختی سے مانیٹر کیا جائے اور ایسے کھلونے جو خطرناک ہیں ان کی درآمد کو روکا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ شیر خوار بچوں کیلیے صرف وہی کھلونے ملک میں درآمد ہوسکیں جو خطرناک نہ ہوں اور اس سے بچوں کو نقصان نہ پہنچتا ہو جبکہ وزارت تجارت کے حکام کے مطابق وفاقی حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ امپورٹ پالیسی آرڈر میں ترمیم کی جائے اور نئی تجارتی پالیسی میں ترمیمی امپورٹ پالیسی آرڈر کے تحت پاکستان میں بین الاقوامی معیار کے حامل کھلونے درآمد کرنے کی اجازت دی جائے اور جن ممالک کی طرف سے پاکستان کو کھلونے برآمد کیے جاتے ہیں ان ممالک کیلیے کھلونوں کے خطرے سے پاک ہونے کے سرٹیفکیٹس کو لازمی قرار دیا جائے۔
وزارت تجارت کے سینئر حکام نے بتایا کہ بلٹ پروف خام مال کے غلط استعمال کو روکنے کیلیے وفاقی حکومت نے بلٹ پروف گاڑیوں کی طرح بلٹ پروف خام مال کی درآمد کیلیے بھی وزارت داخلہ سے این او سی کو لازمی قرار دینے کی تجویز دی ہے اور اس کیلیے بھی امپورٹ پالیسی آرڈر میں ترمیم تجویز کی گئی ہے، اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلٹ پروف گاڑیوں کی طرح گاڑیوں میں استعمال ہونے والے بلٹ پروف شیشے سمیت دیگر بلٹ پروف سامان کی درآمد کو وزارت داخلہ کے این او سی سے مشروط کیا جائے، بلٹ پروف خام مال کرنے والے درآمد کنندگان کیلیے درآمد سے قبل وزارت داخلہ سے این او سی لینا لازمی قرار دیا جارہا ہے۔
اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایات کی گئی ہیں کہ کھلونوں کی درآمد کو سختی سے مانیٹر کیا جائے اور ایسے کھلونے جو خطرناک ہیں ان کی درآمد کو روکا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ شیر خوار بچوں کیلیے صرف وہی کھلونے ملک میں درآمد ہوسکیں جو خطرناک نہ ہوں اور اس سے بچوں کو نقصان نہ پہنچتا ہو جبکہ وزارت تجارت کے حکام کے مطابق وفاقی حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ امپورٹ پالیسی آرڈر میں ترمیم کی جائے اور نئی تجارتی پالیسی میں ترمیمی امپورٹ پالیسی آرڈر کے تحت پاکستان میں بین الاقوامی معیار کے حامل کھلونے درآمد کرنے کی اجازت دی جائے اور جن ممالک کی طرف سے پاکستان کو کھلونے برآمد کیے جاتے ہیں ان ممالک کیلیے کھلونوں کے خطرے سے پاک ہونے کے سرٹیفکیٹس کو لازمی قرار دیا جائے۔
وزارت تجارت کے سینئر حکام نے بتایا کہ بلٹ پروف خام مال کے غلط استعمال کو روکنے کیلیے وفاقی حکومت نے بلٹ پروف گاڑیوں کی طرح بلٹ پروف خام مال کی درآمد کیلیے بھی وزارت داخلہ سے این او سی کو لازمی قرار دینے کی تجویز دی ہے اور اس کیلیے بھی امپورٹ پالیسی آرڈر میں ترمیم تجویز کی گئی ہے، اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلٹ پروف گاڑیوں کی طرح گاڑیوں میں استعمال ہونے والے بلٹ پروف شیشے سمیت دیگر بلٹ پروف سامان کی درآمد کو وزارت داخلہ کے این او سی سے مشروط کیا جائے، بلٹ پروف خام مال کرنے والے درآمد کنندگان کیلیے درآمد سے قبل وزارت داخلہ سے این او سی لینا لازمی قرار دیا جارہا ہے۔