کراچی کی بگڑتی ہوئی صورتحال
حقیقت یہی ہے کہ آج جو حالات پیدا ہوئے ہیں وہ حکمرانوں اور انتظامیہ کی ناقص کارکردگی ہی کا ماحصل ہیں
گڈ گورننس صرف دعوؤں اور بیانات ہی میں نظر نہیں آنی چاہیے بلکہ اس کی عملی صورت بھی دکھائی دینی چاہیے۔ فوٹو: فائل
کراچی میں امن و امان کے حوالے سے بگڑتے حالات اور دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے جہاں شہریوں میں تشویش کی لہر کو مہمیز کیا ہے وہاں وفاقی و صوبائی حکومت اور اداروں کی کارکردگی پر بھی مایوسی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ایک جانب عدلیہ شکوہ کناں ہے کہ کراچی کے حالات آج اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ ججز اور ان کے اہل خانہ بھی عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں جب کہ امجد صابری کے قتل کے بعد فنکار الگ واویلا کر رہے ہیں، لیکن حکمران ان حالات کی ذمے داری قبول کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے، جب کہ حقیقت یہی ہے کہ آج جو حالات پیدا ہوئے ہیں وہ حکمرانوں اور انتظامیہ کی ناقص کارکردگی ہی کا ماحصل ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے صاحبزادے بیرسٹر اویس علی شاہ کے اغوا کے بعد پیدا ہونے والی پریشان کن صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں ہفتے کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، آئی جی سندھ اور شعبہ تفتیش کے دیگر پولیس افسران اور ڈی جی رینجرز کے ساتھ الگ الگ اجلاس کیے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے چشم کشا ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر اویس علی شاہ کے اغوا سے عوام کو منفی پیغام ملا ہے، بالخصوص ججز اور ان کے اہل خانہ میں عدم تحفظ پھیلا ہے۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔ آج کراچی کے جو حالات ہیں وہ ایک دن، چند عشروں یا چند مہینوں کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ قصہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اسٹیبلشمنٹ' عوام کے حقوق اور ان کی فلاح کی دعویدار سیاسی جماعتوں اور انتظامیہ کی نااہلی، ناقص کارکردگی اور پالیسیوں کا کیا دھرا ہے، جو آج ایک خون آشام اور اندوہناک صورت میں سامنے آئے ہیں۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ ان خونچکاں حالات کی ذمے داری کوئی قبول کرنے کو آمادہ نہیں اور اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے دوسرے پر الزام تراشی پر تلا بیٹھا ہے، جب کہ معاشرے کا پرامن طبقہ ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی کا نشانہ بن رہا ہے۔ ادھر حکومتی یا سیاسی سطح پر حالات کو سدھارنے کے لیے سنجیدہ کوششیں نظر نہیں آرہیں۔
کچھ عرصہ پیشتر جب کراچی کے حالات اس مقام تک آ پہنچے کہ بے گناہ عوام کی لاشیں گرنا روزمرہ کا معمول بن گیا اور کوئی بھی اس سے محفوظ نہ رہا تو عدم تحفظ کے اس بڑھتے ہوئے خوں فشاں ماحول کو قابو کرنے کے لیے رینجرز میدان میں آئی اور دہشت گردوں اور قانون شکن عناصر کے خلاف آپریشن شروع کیا تو کچھ قوتوں نے اس پر صدائے احتجاج کا علم بلند کیا اور آپریشن بند کرنے کا مطالبہ شروع کردیا، تاہم اس آپریشن کے عمل میں دہشت گردی کی وارداتوں میں خاطرخواہ کمی آئی اور کراچی میں رونقیں ایک بار پھر بحال ہونے لگیں تو عام شہریوں کے چہرے پر ہویدا خوشی کے آثار نظر آنے لگے لیکن اب یہ خوشیاں ایک بار پھر ماند پڑ رہی ہیں۔ کچھ حلقوں کی جانب سے یہ آوازیں بھی بلند ہوئیں کہ دہشت گردی کے ڈانڈے کچھ سیاسی قوتوں تک جا ملتے ہیں، جب تک بلاامتیاز اور بڑے پیمانے پر آپریشن نہیں کیا جائے گا کراچی کے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔
بعدازاں رونما ہونے والے واقعات نے بھی اس پر مہر تصدیق ثبت کی کہ دہشت گردوں کو بعض بااثر قوتوں کی آشیرباد اور پشت پناہی حاصل ہے، ورنہ دہشت گرد اتنے طاقتور نہیں کہ پورا ریاستی نظام مفلوج کرکے رکھ دیں۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بھی بعض تحفظات سامنے آئے کہ جن مجرموں اور دہشت گردوں کو انھوں نے اپنی جان پر کھیل کر پکڑا وہ عدالتوں میں عدالتی نظام کے سقم اور عدم شہادت کی بنا پر رہا ہوجاتے ہیں، اس لیے دہشت گردی پر قابو پانا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اٹھائے گئے ان نکات پر غور کیا جاتا اور ایسی پالیسیاں تشکیل دی جاتیں کہ دہشت گرد کسی بھی بنا پر رہائی نہ پا سکتے اور انھیں ان کے کیے کی ہر ممکن سزا ملتی، مگر ایسا نہ ہو سکا۔
آج اسی کا نتیجہ ہے کہ جہاں عام آدمی کی جان و مال محفوظ نہیں رہی وہاں خاص طبقہ بھی عدم تحفظ کا شکار ہوگیا ہے۔ اگر خاص آدمی کی جان و مال کو محفوظ بنانا ہے تو عام آدمی کے اندر بھی تحفظ کا احساس پیدا کرنا ہوگا۔ ملک کے ماحول کو دہشت گردوں کے لیے جس نے بھی سازگار بنایا ہے حکمرانوں کو اس کی ذمے داری دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی جانب توجہ دینی چاہیے۔ گڈ گورننس صرف دعوؤں اور بیانات ہی میں نظر نہیں آنی چاہیے بلکہ اس کی عملی صورت بھی دکھائی دینی چاہیے۔
سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے صاحبزادے بیرسٹر اویس علی شاہ کے اغوا کے بعد پیدا ہونے والی پریشان کن صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں ہفتے کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، آئی جی سندھ اور شعبہ تفتیش کے دیگر پولیس افسران اور ڈی جی رینجرز کے ساتھ الگ الگ اجلاس کیے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے چشم کشا ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر اویس علی شاہ کے اغوا سے عوام کو منفی پیغام ملا ہے، بالخصوص ججز اور ان کے اہل خانہ میں عدم تحفظ پھیلا ہے۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔ آج کراچی کے جو حالات ہیں وہ ایک دن، چند عشروں یا چند مہینوں کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ قصہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اسٹیبلشمنٹ' عوام کے حقوق اور ان کی فلاح کی دعویدار سیاسی جماعتوں اور انتظامیہ کی نااہلی، ناقص کارکردگی اور پالیسیوں کا کیا دھرا ہے، جو آج ایک خون آشام اور اندوہناک صورت میں سامنے آئے ہیں۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ ان خونچکاں حالات کی ذمے داری کوئی قبول کرنے کو آمادہ نہیں اور اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے دوسرے پر الزام تراشی پر تلا بیٹھا ہے، جب کہ معاشرے کا پرامن طبقہ ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی کا نشانہ بن رہا ہے۔ ادھر حکومتی یا سیاسی سطح پر حالات کو سدھارنے کے لیے سنجیدہ کوششیں نظر نہیں آرہیں۔
کچھ عرصہ پیشتر جب کراچی کے حالات اس مقام تک آ پہنچے کہ بے گناہ عوام کی لاشیں گرنا روزمرہ کا معمول بن گیا اور کوئی بھی اس سے محفوظ نہ رہا تو عدم تحفظ کے اس بڑھتے ہوئے خوں فشاں ماحول کو قابو کرنے کے لیے رینجرز میدان میں آئی اور دہشت گردوں اور قانون شکن عناصر کے خلاف آپریشن شروع کیا تو کچھ قوتوں نے اس پر صدائے احتجاج کا علم بلند کیا اور آپریشن بند کرنے کا مطالبہ شروع کردیا، تاہم اس آپریشن کے عمل میں دہشت گردی کی وارداتوں میں خاطرخواہ کمی آئی اور کراچی میں رونقیں ایک بار پھر بحال ہونے لگیں تو عام شہریوں کے چہرے پر ہویدا خوشی کے آثار نظر آنے لگے لیکن اب یہ خوشیاں ایک بار پھر ماند پڑ رہی ہیں۔ کچھ حلقوں کی جانب سے یہ آوازیں بھی بلند ہوئیں کہ دہشت گردی کے ڈانڈے کچھ سیاسی قوتوں تک جا ملتے ہیں، جب تک بلاامتیاز اور بڑے پیمانے پر آپریشن نہیں کیا جائے گا کراچی کے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔
بعدازاں رونما ہونے والے واقعات نے بھی اس پر مہر تصدیق ثبت کی کہ دہشت گردوں کو بعض بااثر قوتوں کی آشیرباد اور پشت پناہی حاصل ہے، ورنہ دہشت گرد اتنے طاقتور نہیں کہ پورا ریاستی نظام مفلوج کرکے رکھ دیں۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بھی بعض تحفظات سامنے آئے کہ جن مجرموں اور دہشت گردوں کو انھوں نے اپنی جان پر کھیل کر پکڑا وہ عدالتوں میں عدالتی نظام کے سقم اور عدم شہادت کی بنا پر رہا ہوجاتے ہیں، اس لیے دہشت گردی پر قابو پانا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اٹھائے گئے ان نکات پر غور کیا جاتا اور ایسی پالیسیاں تشکیل دی جاتیں کہ دہشت گرد کسی بھی بنا پر رہائی نہ پا سکتے اور انھیں ان کے کیے کی ہر ممکن سزا ملتی، مگر ایسا نہ ہو سکا۔
آج اسی کا نتیجہ ہے کہ جہاں عام آدمی کی جان و مال محفوظ نہیں رہی وہاں خاص طبقہ بھی عدم تحفظ کا شکار ہوگیا ہے۔ اگر خاص آدمی کی جان و مال کو محفوظ بنانا ہے تو عام آدمی کے اندر بھی تحفظ کا احساس پیدا کرنا ہوگا۔ ملک کے ماحول کو دہشت گردوں کے لیے جس نے بھی سازگار بنایا ہے حکمرانوں کو اس کی ذمے داری دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی جانب توجہ دینی چاہیے۔ گڈ گورننس صرف دعوؤں اور بیانات ہی میں نظر نہیں آنی چاہیے بلکہ اس کی عملی صورت بھی دکھائی دینی چاہیے۔