فکری افراتفری

ہماری حکومت ہماری مسلح افواج کی طرف سے بار بار یہ باور کرایا جا رہا ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

ہماری حکومت ہماری مسلح افواج کی طرف سے بار بار یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے، شمالی وزیرستان سے دہشت گردوں کو نکال دیا گیا، اور یہ بات بڑی حد تک درست بھی ہے کہ دہشت گردوں کے سب سے بڑے اڈے شمالی وزیرستان سے دہشت گرد پسپا ہو رہے ہیں لیکن اس دوران انھوں نے ملک کے مختلف حصوں میں اپنی جڑیں مضبوط کرلیں اور ان علاقوں میں موجود دہشت گرد اکا دکا وارداتیں کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ختم نہیں ہوئے بلکہ اب بھی فعال ہیں ۔کراچی میں چند دن کے اندر جو دو بڑی وارداتیں کی گئیں۔

ایک واردات میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب سجاد علی شاہ کے صاحبزادے اویس شاہ کو اغوا کرلیا گیا دوسری واردات میں ملک کے معروف قوال امجد صابری کو قتل کردیا گیا۔ ان دہلا دینے والی وارداتوں سے کراچی کے باسیوں کا سکون ایک بار پھر درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔ کراچی میں کور ہیڈ کوارٹر کے دورے کے دوران ہمارے آرمی چیف نے فرمایا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہم نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں انھیں ہرگز ضایع نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اس حوالے سے اس بات پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے کہ ہماری حکومتوں پر یہ الزام مسلسل لگایا جا رہا ہے کہ وہ مذہبی انتہا پسندوں کی کسی نہ کسی حوالے سے سرپرستی کرتی رہی ہیں ۔ دہشت گردی کی وارداتوں میں طالبان کا نام سر فہرست رہا ہے بھارت، افغانستان اور امریکا اس حوالے سے پاکستان پر یہ الزام مسلسل لگاتے آرہے ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے یہ ملک اپنے الزام کو سچ ثابت کرنے کے لیے بن لادون کی ایبٹ آباد میں موجودگی اور اس کے گھر پر آپریشن اور اسامہ کی ہلاکت کے علاوہ بلوچستان میں طالبان رہنما پر ڈرون حملے میں ہلاکت کو ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں، ان الزامات میں صداقت ہو نہ ہو اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے پاکستان کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔

چیف جسٹس کے صاحبزادے کے اغوا اور امجد صابری کے بہیمانہ قتل کے بعد 26 جون کو کراچی میں ایک اعلیٰ سطح کانفرنس منعقد ہوئی جس میں آرمی چیف کے علاوہ وزیر اعلیٰ سندھ، گورنر سندھ سمیت اہم فوجی افسروں، ڈی جی رینجرز وغیرہ نے شرکت کی ۔ اس کانفرنس میں کور کمانڈر کراچی جنرل بلال نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ''سیاسی جماعتیں کالعدم تنظیموں سے مل کر کام کر رہی ہیں یہ الزامات پہلے بھی لگتے رہے ہیں کہ کالعدم دہشت گرد تنظیمیں مختلف ناموں سے کھل کر کام کر رہی ہیں۔ بلکہ حکمرانوں پر یہ الزام لگتے رہے ہیں کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کی خاطر مذہبی انتہا پسندوں کی نہ صرف پشت پناہی کر رہے ہیں بلکہ ان سے سیاسی امداد بھی لی جا رہی ہے۔


امریکی حکومت اور امریکا کے فوجی جنرلز بار بار یہ الزامات لگاتے رہے ہیں کہ پاکستان کی حکومت حقانی گروپ کی سرپرستی کر رہی ہے اس دوران بدقسمتی سے دہشت گردی اور افغانستان میں دہشت گردوں کی مدد کے حوالے سے امریکا اور پاکستان میں اختلافات اس قدر شدید ہوگئے ہیں کہ F-16 کی پاکستان کو معاہدے کے مطابق ترسیل منسوخ کردی گئی اور امریکا کے قانون ساز اداروں میں پاکستان کی امداد روکنے کے مطالبے ہونے لگے۔ امریکا اور پاکستان کے 69 سالہ تعلقات میں پہلی بار اتنی کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔

اگرچہ اس کشیدگی کا ایک اہم فیکٹر چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کا معاہدہ ہے۔ امریکا اور بھارت اس معاہدے کو خطے میں اپنے مفادات کے لیے نقصان رساں سمجھتے ہیں اور ان کی بھرپور کوشش ہے کہ اس معاہدے کو سبوتاژ کیا جائے۔ حال ہی میں ایران میں چاہ بہار کی ترقی کے حوالے سے بھارت ایران اور افغانستان کے رہنماؤں کی جو ملاقات ہوئی اہل سیاست اسے بھی امریکا کی ایک سازش قرار دے رہے ہیں۔ ہماری حکومتوں ہی نہیں بلکہ عوام کی بھی یہ نفسیاتی کمزوری رہی ہے کہ وہ مسلم ملکوں کے درمیان مذہبی رشتے کو حرف آخر سمجھتے آ رہے ہیں ۔

ان مہاشوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی ہے کہ آج کی دنیا میں ملکوں کے درمیان دوستی اور دشمنی کا محور اقتصادی مفادات ہوتے ہیں۔ ایران کچھ ہی عرصہ پہلے تک امریکا کا دشمن تھا اور ایرانی رہنما امریکا کے سب سے بڑے مخالف سمجھے جاتے تھے آج اسی ایران میں بھارت ایران اور افغانستان کے سربراہوں کی کانفرنس ہو رہی ہے۔ آج کل بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدہ صورتحال کا عالم یہ ہے کہ بھارت کے وزیر خارجہ راج ناتھ سنگھ فرما رہے ہیں ''پاکستان نے فائر کیا تو ہم اپنی گولیوں کا حساب نہیں رکھیں گے۔''

ایسی گمبھیر اور خطرناک صورتحال میں قومی یکجہتی اور اہم قومی مسائل پر اہل سیاست میں اتفاق رائے کی کتنی شدید ضرورت ہے اس کا اندازہ مشکل نہیں لیکن ہماری فکری افراتفری کا عالم یہ ہے کہ ہمارے ملک کے سابق صدر آصف علی زرداری فرما رہے ہیں کہ طالبان حامی حقانی مدرسے کو 30 کروڑ روپوں کی امداد دے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کیا گیا ہے۔

زرداری کا کہنا ہے کہ دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ نہ صرف طالبان کے ہمدرد کی شہرت رکھتے ہیں بلکہ یہ حضرت طالبان کے غیر اعلانیہ ترجمان بھی ہیں ۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان فرما رہے ہیں کہ ''دارالعلوم حقانیہ کو 30 کروڑ روپوں کی گرانٹ مدارس میں اصلاحات کا آغاز ہے۔'' ہمارے محترم وزیر اعظم لندن میں بیٹھے ہیں ملک کا کوئی وزیر خارجہ نہیں، ان حالات میں یقینا مذہبی انتہا پسند تیزی سے فعال ہوسکتے ہیں۔ کیا کراچی میں سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے صاحبزادے کے اغوا اور امجد صابری کے بہیمانہ قتل کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے؟
Load Next Story