استنبول سانحہ الم ناک ہے

ترکی کو داعش سمیت دیگر انتہاپسند ، سیکولر اور دہشت گرد تنظیموں کے غیظ وغضب کا سامنا ہے

تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ یورپ کے ’’مرد بیمار‘‘ نے بحرانوں سے لڑنے کا تاریخی سنگ میل عبور کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے، فوٹو؛ اے ایف پی

منگل کی شب ترکی کا انٹرنیشنل کمال اتاترک ایئر پورٹ دہرے دھماکوں سے لرز اٹھا۔ میڈیا کی اطلاع کے مطابق دو خود کش حملہ آوروں نے پولیس کی مزاحمت سے قبل خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجہ میں کم از کم 36 افراد جاں بحق جب کہ 150 کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔ ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ داعش کی کارروائی ہے جب کہ گورنر استنبول کے مطابق خود کش بمبار ٹیکسی سے آئے، ان کے پاس خود کار رائفلیں بھی تھیں ، پولیس نے انھیں روکنے کے لیے فائرنگ کی جس کے بعد انھوں نے ایئر پورٹ کے بین الاقوامی روانگی کے حصہ میں بم دھماکوں سے خود کو اڑا لیا۔

صدر مملکت ممنون حسین ، وزیراعظم نواز شریف ، سیاسی رہنمائوں سمیت امریکی صدر بارک اوباما اور دیگر عالمی مدبرین اور سیاسی و سماجی حلقوں نے بم دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے، وزیراعظم نواز شریف نے اپنے مذمتی بیان میں ترک عوام سے دکھ کی اس نازک گھڑی میں ترک عوام اور حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا جب کہ ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ ذکریا نفیس نے کہا کہ ہم ہر ممکن طریقے سے دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ترکی کے ساتھ ہے۔

استنبول سانحہ کی ذمے داری چاہے کوئی تنظیم قبول کرے یا نہ کرے ، حالیہ دنوں میں عسکریت پسندوں ، داعش، اور بائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے ترکی کے مختلف شہروں میں دہشتگردی اور تخریب کاری کے متعدد واقعات رونما ہوئے۔ گزشتہ ماہ میں ترکی کا جنوب مشرقی شہر دیار باقر خاص طور پر دہشتگردی کا مرکز رہا جہاں کئی حملے ہوئے، ایئر پورٹ واقعہ کے ساتھ ہی دیار باقر میں بھی ایک کار بم دھماکا ہوا جس میں 18 افراد زخمی ہوئے، مارچ میں یہاں ایک دھماکے میں 7 پولیس اہلکار سمیت 27افراد زخمی ہوئے۔ اپریل کو شہر بورسا میں ایک خاتون خود کش بمبار کے خود کو اڑا دینے سے 13 افراد زخمی ہوئے۔ اسی دیار باقر میں 10 مئی کو ایک کار بم دھماکے میں3 افراد جاں بحق اور45 زخمی ہوئے۔


جہاں تک ترکی کو درپیش دہشت گردی اور مختلف سیاسی گروہوں کی مخالفت کا سامنا ہے وہ بن علی یلدرم کی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، ترکی نے دہشتگردی کا زخم بھی سہا ہے مگر اس نے ترک عوام کی خواہشات کے مطابق دہشتگردی کے خلاف جس جرات مندی اور عوامی حمایت سے جنگ لڑی ہے وہ پاکستان کے سیاسی تناظر میں ایک غیر معمولی مماثلت کی حامل ہے ، ترکی اور پاکستان کے روایتی سیاسی و ثقافتی تعلقات تاریخی اور مذہبی حوالوں سے ہر قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہیں، دونوں برادر ملکوں کے عوام دوستی اور لازوال تاریخی رشتوں میں یوں منسلک ہیں کہ کسی ایک کی تکلیف کو فطری طور پر دوسرا بھائی محسوس کرتا ہے، چنانچہ سانحہ استنبول کی درد انگیزی کو پاکستان کی حکومت اور کروڑوں پاکستانی فراموش نہیں کرسکتے جنہیں دہشتگردی کے مشترکہ عفریت کا سامنا ہے اور انشاء اللہ اس جنگ میں دہشت گردوں کی شکست نوشتہ دیوار ہے ۔

تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ یورپ کے ''مرد بیمار'' نے بحرانوں سے لڑنے کا تاریخی سنگ میل عبور کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے، صدر رجب طیب اردگان اپنے پورے دور حکومت میں جتنے تہہ در تہہ اور اعصاب شکن داخلی بحرانوں سے ستیزہ کار رہے وہ ترکی کے نظام حکمرانی کی استقامت اور اداروں کی مضبوطی کی منہ بولتی تصویر ہے، آئینی طور پر ترکی سیکولر ملک ہے مگر اس کی اساس اپنے مذہب پر استوار ہے اور اسلامی اقدار کے دفاع کی جنگ میں طیب اردگان نے جو کردار ادا کیا ہے اس نے ترکی کو جمہوری ریاست کے طور پر مستحکم کیا ہے اس لیے کہ داخلی انتشار ترکی کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے ۔ آج ترکی کو داخلی سیاسی کشیدگی اور دہشتگردی سے ہونے والی خونریزی سے نمٹنے کے لیے اہداف کا تعین کرنا ہے جس کے لیے بن علی کی حکومت صدر طیب اردگان کے مابین ایک ناقابل شکست مفاہمت اور ذہنی ہم آہنگی کارفرما ہے ، ترکی کی کردوں سے لڑائی اور کئی عالمی ایشوز کے باعث دشمنوں کی تعداد بڑھ گئی ہے اسی لیے ترکی کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جب بھی پاکستان کی مدد کی ضرورت ہوگی اسے کبھی اہل پاکستان مایوس نہیں کریں گے۔

تاہم یورپ کے حسین سنگم پر ہونے کے باوجود ترکی مشرق وسطیٰ کے سیمابیت اور عراق ، شام اور یمن کی جنگوں سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ ترک قوم کے بانی مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ ترکی میں دو مصطفیٰ کمال ہیں، ایک گوشت پوست والا جو تمہارے سامنے کھڑا ہے اور دوسرا مصطفی کمال اس کے عوام ہیں، میں قوم کے خوابوں کی تعبیر پانے کا منتظر ہوں۔ ترکی کو داعش سمیت دیگر انتہاپسند ، سیکولر اور دہشت گرد تنظیموں کے غیظ وغضب کا سامنا ہے اور اس سے گلو خلاصی بھی پانا ہے۔ سیاسی مبصر ایرک برائون کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ہر ملک کا اپنا نقشہ اور روڈ میپ ہے، خطے میں تنگ نظرانہ گروہ پسندی کا دور دورہ ہے، اس کے ساتھ ہی اسے سیکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں جن میں اسلام ازم اور خطے کی رقابتیں عروج پر ہیں۔اب ترکی کے کردار پر تاریخ کی نظر ہے۔
Load Next Story