ابو ظہبی ڈیٹ ایکسپو میں شرکت کا فیصلہ کھجور کی ویلیو ایڈیشن کیلئے جامع منصوبہ تیار

معیار کا بین الاقوامی سرٹیفکیٹ حاصل، پروسیسنگ وپیکیجنگ پلانٹس قائم، مارکیٹنگ اور دیگر اقدامات کیے جائینگے۔

7 گنا زائد قیمت ملے گی، نمائش میں پہلی شرکت، وفد آج روانہ ہوگا، کاشتکاروں کے عالمی خریداروں سے روابط قائم ہونگے، زبیر موتی والا فوٹو: اے ایف پی

پاکستانی کھجوریں پہلی بار ابوظبی کی بین الاقوامی ڈیٹ نمائش میں متعارف کرائی جائیں گی۔ کھجوروں کے سرفہرست کاشتکاروں کا وفد منگل کو ابوظبی روانہ ہوجائے گا۔

10 رکنی وفد کی قیادت سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین زبیرموتی والا کررہے ہیں، بین الاقوامی ڈیٹ نمائش میں پاکستان پویلین قائم کیا گیا ہے جس میں 9 پاکستانی اسٹالز لگائے جارہے ہیں اور نمائش میں 50 سے زائد اقسام کی کھجوریں متعارف کی جائیں گی۔ اس ضمن میں زبیرموتی والا نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ پاکستان سے کھجوروں کی مجموعی پیداوار کا 60 فیصد حصہ اگرچہ امریکا، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب ودیگر ممالک کو برآمد کیا جارہا ہے لیکن کاشتکاروں کو اس کے عوض انتہائی کم قیمت حاصل ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں مختلف اقسام کی کھجور کی پیداوار سالانہ 4 لاکھ ٹن ہے جبکہ خیر پور کھجور کی پیداوار میں سرفہرست ہے جہاں سالانہ 2.5 لاکھ ٹن پیداوار ہوتی ہے، پاکستان میں چونکہ کھجوروں کی باقاعدہ پروسیسنگ وپیکیجنگ انڈسٹری قائم نہیں ہے اس لیے خیرپور میں 1.5 لاکھ ٹن کھجور کو چھوارے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جسے بعد ازاں بھارت ودیگر ممالک کوسستے داموں اسمگل کردیا جاتا ہے۔


سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ نے ملکی برآمدات میں کھجوروں کے حصے کو بڑھانے کی غرض سے ایک جامع ایکشن پلان ترتیب دیا ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں بین الاقوامی سرٹیفکیشن ادارے ''ایس جی ایس'' سے پاکستانی کھجوروں کے معیار کی جانچ پڑتال کے بعد سرٹیفکیٹ حاصل کرلیا ہے۔

بورڈ نے کھجور کے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کیلیے بارٹرسسٹم کی بنیاد پر پروسیسنگ وپیکیجنگ پلانٹس کے قیام، مارکیٹنگ، درجہ بندی، پیداواری تکنیک کو جدید بنانے، حفظان صحت کے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق کھجوروں کے اسٹاک کو محفوظ رکھنے سمیت دیگر اقدامات بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ زبیرموتی والا نے بتایا کہ پاکستان سے اب تک جو کھجوریں یورپ امریکا ودیگر ممالک کو برآمد کی جارہی ہیں وہ صرف الکوحل بنانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں تاہم سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کی نئی حکمت عملی کی بدولت پاکستان سے جب باقاعدہ پروسیسنگ اور پیکجنگ کے ساتھ کھجوروں کی برآمدات کا آغاز ہوگا تو کاشتکاروں کو 7 گنا زائد قیمت حاصل ہو سکے گی جبکہ ملک کی بھی قیمتی زرمبادلہ کی صورت میں آمدنی بڑھے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ابوظبی کی دو روزہ بین الاقوامی ڈیٹ نمائش میں پاکستانی کاشتکاروں کو جدید ڈیٹ پروسیسنگ میشنوں، پیکیجنگ کے طریقہ کار اور مشینری کے علاوہ عالمی سطح پر مارکیٹنگ سے متعلق آگہی ملے گی جبکہ کھجوروں کے بین الاقوامی خریداروں سے براہ راست روابط پیدا ہوں گے، فی الوقت کھجور کی عالمی منڈی میں عراق، ایران پاکستان کے حریف ممالک ثابت ہوں گے جن سے مسابقت کے لیے سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کاشتکاروں اور بیوپاریوں کے اشتراک سے مکینزم مرتب کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کھجور کی انڈسٹری میں ابوظبی کی نمائش بنیادی اہمیت کی حامل ہے جہاں سالانہ بنیادوں پر کھجوروں کے برآمدی معاہدے طے پاتے ہیں۔
Load Next Story