قائمہ کمیٹی کی پاسپورٹس کیلیے597 ملین جاری کرنیکی ہدایت

دو روز میں پیسے نہ ملے تو شہریوں کو پاسپورٹ کا اجرا رک جائیگا،ڈی جی پاسپورٹ

نیکٹاکی کارکردگی پرقائمہ کمیٹی کااظہارتشویش ، ڈی جی سے کارکردگی رپورٹ مانگ لی فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے وزارت خزانہ کوپاسپورٹس کے اجرا کویقینی بنانے کیلیے 59کروڑ70لاکھ روپے کے فنڈزفوری جاری کرنے اورپرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کوپاسپورٹس کی کاپیوں کی فراہمی بند نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔


کمیٹی کا اجلاس سینیٹرطلحہ محمودکی سربراہی میںہوا۔ اجلاس کووزارت داخلہ کی جانب سے بتایاگیاکہ طے شدہ پالیسی کے مطابق اراکین پارلیمنٹ،سرکاری ملازمین،بیوروکریٹ اور سفارتکاروں کو مختلف اقسام کے آفیشل پاسپورٹ جاری کیے جاتے ہیںجبکہ یہ آفیشل پاسپورٹ اراکین پارلیمنٹ، ان کے اہلخانہ اوروالدین کوبھی جاری کیے جاتے ہیںجس پرقائمہ کمیٹی نے کہاکہ اراکین پارلیمنٹ اورسرکاری افسران کے پاسپورٹ میں فرق ہوناچاہیے۔ وزارت داخلہ حکام نے بتایاکہ حکومت کی طرف سے فنڈزکی عدم فراہمی کی وجہ سے پاسپورٹس کے بروقت اجرا میں تاخیرہوتی ہے،اس وقت2لاکھ پاسپورٹس تاخیرکاشکارہیں۔

جبکہ پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان نے بھی پاسپورٹ کاپیوں کے اجرا کی تعداد میں کمی کرکے 5ہزارماہانہ کردی ہے اوریہ بھی تنبیہ کی ہے کہ 30 نومبرتک بقایاجات ادانہ کیے گئے توپاسپورٹ آفس کومزید کاپیاںفراہم نہیں کی جائیں گی جس پرقائمہ کمیٹی نے وزارت خزانہ کوہدایت کی کہ وہ لوگوں کے پاسپورٹس کے بروقت اجرا کویقینی بنانے کے لیے فنڈزفوری جاری کرے۔ اجلاس کوبتایا گیاکہ نیشنل کاونٹرٹیرارزم اتھارٹی (نیکٹا) کو 52 کروڑروپے کے فنڈزفراہم کیے گئے اورتاحال اس ادارے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں جس پرقائمہ کمیٹی نے نیکٹاکی کارکردگی پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل نیکٹا خواجہ فاروق سے کارکردگی رپورٹ مانگ لی ہے۔
Load Next Story