بدنصیب اویس کے ای ایس سی میں فائنل انٹرویو دینے آیا تھا

بی کام میں تیسری پوزیشن کے بعد ایم بی اے کرنا چاہتا تھا، وہ ہر دلعزیز تھا،دوست کے تاثرات


Staff Reporter November 29, 2012
بی کام میں تیسری پوزیشن کے بعد ایم بی اے کرنا چاہتا تھا، وہ ہر دلعزیز تھا،دوست کے تاثرات۔متوفی اویس۔ فوٹو: ایکسپریس

SUKKUR: صدر عبد اﷲ ہارون روڈ پر عمارت میں آگ کے دوران جان بچانے کے لیے آٹھویں منزل سے گر کر جاں بحق ہونے والے نوجوان نے بی کام کے امتحانات میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔

جس وقت عمارت میں آگ بھڑکی، متوفی KESC میں ملازمت کیلیے فائنل انٹرویو دینے آیا تھا۔ اویس بیگ 3 بھائیوں اور3 بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھا جبکہ متوفی کے والد پرائیوٹ فیکٹری میں ملازمت کرتے ہیں جو کہ اکثر بیمار بھی رہتے ہیں۔ متوفی کے دوست کامران نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اویس نے کراچی یونیورسٹی سے بی کام کے امتحانات میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی اور ایم بی اے کرنے کی خواہش تھی۔ ان کا 8 دوستوں کا گروپ ہے جس میں اویس ہر دل عزیز تھا اور اس سے اپنے گروپ میں رونق تھی۔

کامران نے بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ڈھائی بجے تک اویس میرے ساتھ تھا، اس کے بعد گھر چلا گیا۔ ایک دوست کی مدد سے کے ای ایس سی میں نوکری کے لیے ابتدائی انٹرویو کرا دیا گیا تھا اور جمعرات کو اسے فائنل انٹرویو دینے جانا تھا۔ متوفی کے دوست کامران نے زارو قطار روتے ہوئے بتایا کہ انٹر ویو کے لیے 3 لڑکے آئے تھے سب سے پہلا نمبر اویس کا تھا جو کہ عمارت کی آٹھویں منزل پر کھڑکی کے قریب ہی بیٹھا تھا۔

جیسے ہی عمارت میں آگ لگنے کا شور مچا تو پوری عمارت کی بجلی بند کر دی گئی اور عمارت میں ہر جانب دھواں ہی دھواں بھر گیا۔ اویس نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے دیگر لڑکوں کو آواز دی تو وہ وہاں سے جا چکے تھے جس کے باعث وہ خوفزدہ ہوگیا کیونکہ اس کے ذہن میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن تھا۔ جس پر اس نے آٹھویں منزل کی کھڑکی کے روشن دان سے خود کو باہر نکلا اور ہاتھوں کی مدد سے لٹک گیا تاہم زیادہ دیر تک وہ اس پوزیشن میں نہیں رہے سکا اور ہاتھ چھوٹ جانے کے باعث بلندی سے نیچے گر کر شدید زخمی ہو کر خالق حقیقی سے جا ملا ۔