لاپتاافرادکیس میں فوج ودیگراداروں پرشک کیا جا رہا ہے عدالت

آرمی چیف کوآگاہ کیا جائے، اداروںمیں رابطوں کے فقدان پر سندھ ہائی کورٹ کا اظہار برہمی

رینجرزسنگین مقدمات کی ایف آئی آر،کارروائی کامیمو بھی تیارکریگی،دو رکنی بینچ کی ہدایت فوٹو : فائل

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم نے کہا ہے کہ لاپتاافرادکے حوالے سے فوج اوروفاقی تحقیقاتی اداروں کی جانب انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ کراچی میں بڑی تعدادمیں لاپتاافرادکے مقدمات سامنے آرہے ہیں اورلاپتا ہونیوالوں کے اہل خانہ وفاقی اداروں پر شک کررہے ہیں۔


جمعرات کولاپتا افرادکے مقدمات کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اور جسٹس شفیع صدیقی پر مشتملدورکنی بینچ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی ہے کہ اس بارے میں چیف آف آرمی اسٹاف کو آگاہ کیا جائے،رینجرزسنگین مقدمات کی ایف آئی آردرج کرنے اورچالان پیش کرنے پررضامندہو گئی ہے،کارروائی میں گرفتار ملزمان، برآمد ہونے والی اشیااور اسلحہ کا میمو بھی رینجرزخودتیارکریگی۔بینچ نے کچھ مقدمات کی سماعت 13 دسمبر اور کچھ کی 17جنوری2013تک کیلیے ملتوی کردی۔فاضل بینچ نے ہدایت کی کہ وفاقی وزارت داخلہ اوروزارت دفاع کے ماتحت اداروں کی تحویل میںموجودشہریوں کوانکے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دیجائے۔

عدالت نے قانون نافذکرنے والے اداروںمیںرابطوں کے فقدان پربرہمی کااظہارکرتے ہوئے اپنے ریمارکس دیے کہ عدالت اداروں میںرابطے کیلیے ڈاکخانہ نہیں ہے۔جب موبائل فون کالزڈیٹاکے حصول کیلیے مکینزم تیارکرلیاگیاہے تواستفادے کیلیے عدالتی حکم کاانتظارکیوں کیاجاتاہے۔پولیس کے اعلیٰ حکام کی مایوس کن کارکردگیپربرہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ تفتیشی افسران بنیادی ضابطوں سے بھی آگاہ نہیں،ہربار سکھاناپڑتاہے کہ کن خطوط پرتفتیش کیجائے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سرورخان نے عدالت کوبتایاکہ سرکاری وکلانے اعلیٰ پولیس افسران کو تربیت کیلیے پیشکش کی ہے۔
Load Next Story