ایم پی اے ترجیحی پروگرام ٹینڈر جاری کرنے کیخلاف حکم امتناع میں توسیع
بدنیتی کے باعث زیادہ رقم کی پیشکش قبول کرلی گئی جس سے میرٹ پرپورا اترنے والے کنٹریکٹرز کاحق متاثر ہوا
جمعہ کو سماعت کے موقع پر پیپرا اور کے ایم سی کی جانب سے وکالت نامہ داخل کرنے والے وکلا نے جواب داخل کرنے کیلیے مہلت طلب کی. فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے ارکان صوبائی اسمبلی کے ''ترجیحی پروگرام '' کے تحت مختلف ٹائونز میں اربوں روپے کے ترقیاتی پروگراموں کے ٹینڈرزجاری کرنے کے خلاف حکم امتناع میں 7دسمبر تک توسیع کردی ہے۔
جمعہ کو سماعت کے موقع پر پیپرا اور کے ایم سی کی جانب سے وکالت نامہ داخل کرنے والے وکلا نے جواب داخل کرنے کیلیے مہلت طلب کی اور فاضل بینچ نے سماعت ملتوی کردی، شفیق احمد ایڈووکیٹ کے توسط سے کنٹریکٹرز کی تنظیم معمار پاکستان کنٹریکٹرزایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ ایم پی اے ترجیحی پروگرام کے پروجیکٹ ڈائریکٹر شکیب احمداور مختلف ٹائونز کے ایڈمنسٹریٹرزنے پروگرام کے ٹینڈرز کے اجراکے عمل کو غیرشفاف بنادیا ہے اور انجینئرنگ کونسل آف پاکستان کے منظورشدہ کنٹریکٹرز کونظرانداز کرکے قانون کے تقاضوں کو پورا کیے بغیرمن پسند کنٹریکٹرز کوٹینڈرز میں شرکت کی اجازت دی گئی۔
جب متاثرہ کنٹریکٹرز نے پروجیکٹ ڈائریکٹر شکیب احمد اور ایڈمنسٹریٹرز سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ملاقات سے انکار کردیا گیا، درخواست میں پروجیکٹ ڈائریکٹر ایم پی اے ترجیحی پروگرام،شاہ فیصل ٹائون، اورنگی ٹائون، صدر ٹائون ،بلدیہ ٹائون،سائٹ ٹائون،جمشید ٹائون اور لانڈھی ٹائون کے ایڈمنسٹریٹرز کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ درخواست گزارنے مذکورہ پروگرام میں بدعنوانی کے حوالے پروجیکٹ ڈائریکٹر،ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل اور دیگر کو خطوط کے ذریعے آگاہ کردیا ہے کہ ارکان صوبائی اسمبلی کے اربوں روپے کے فنڈز سے ترقیاتی پروگرام جاری ہیں اور ان ٹائونز میں بدنیتی کی بنیاد پر میرٹ پر پورا اترنے والے کنٹریکٹرز کو سارے عمل سے باہر کردیا گیاہے۔
ٹینڈرز جمع کرانے کی آخری تاریخ15نومبر تھی اور 20نومبرکوٹینڈرز دینے کا اعلان کیا جانا تھا، بدنیتی کے باعث زیادہ رقم کی پیشکش قبول کرلی گئی جس سے میرٹ پرپورا اترنے والے کنٹریکٹرز کاحق متاثر ہوا، فاضل بینچ نے 18نومبر کو اس درخواست پر حکم امتناع جاری کردیاتھا، جمعہ کو سماعت کے موقع پر مدعاعلیہان کی جانب سے جواب داخل کرنے کیلیے مہلت طلب کرنے پر عدالت نے سماعت ملتوی کردی، دوسری طرف ٹھکیداروں نے ہائی کورٹ سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ ایم پی اے ترجیحی پروگرام کی تحقیقات نیب سے کرائی جائیں کیونکہ پروجیکٹ ڈائریکٹر شکیب احمد کی طرف سے گلشن اقبال میں قائم نجی بنگلے میں اپنا نجی دفتر قائم کررکھا ہے جہاں سے سارا کام کی نگرانی کی جاتی ہے، نیب اسی دفتر میں اپنا تحقیقاتی مرکز قائم کیا جائے کیونکہ اس دفتر میں سرکاری فائلیں موجود ہیں جس بناہ پر تحقیقات کرنا آسان ہوجائے گا۔
جمعہ کو سماعت کے موقع پر پیپرا اور کے ایم سی کی جانب سے وکالت نامہ داخل کرنے والے وکلا نے جواب داخل کرنے کیلیے مہلت طلب کی اور فاضل بینچ نے سماعت ملتوی کردی، شفیق احمد ایڈووکیٹ کے توسط سے کنٹریکٹرز کی تنظیم معمار پاکستان کنٹریکٹرزایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ ایم پی اے ترجیحی پروگرام کے پروجیکٹ ڈائریکٹر شکیب احمداور مختلف ٹائونز کے ایڈمنسٹریٹرزنے پروگرام کے ٹینڈرز کے اجراکے عمل کو غیرشفاف بنادیا ہے اور انجینئرنگ کونسل آف پاکستان کے منظورشدہ کنٹریکٹرز کونظرانداز کرکے قانون کے تقاضوں کو پورا کیے بغیرمن پسند کنٹریکٹرز کوٹینڈرز میں شرکت کی اجازت دی گئی۔
جب متاثرہ کنٹریکٹرز نے پروجیکٹ ڈائریکٹر شکیب احمد اور ایڈمنسٹریٹرز سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ملاقات سے انکار کردیا گیا، درخواست میں پروجیکٹ ڈائریکٹر ایم پی اے ترجیحی پروگرام،شاہ فیصل ٹائون، اورنگی ٹائون، صدر ٹائون ،بلدیہ ٹائون،سائٹ ٹائون،جمشید ٹائون اور لانڈھی ٹائون کے ایڈمنسٹریٹرز کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ درخواست گزارنے مذکورہ پروگرام میں بدعنوانی کے حوالے پروجیکٹ ڈائریکٹر،ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل اور دیگر کو خطوط کے ذریعے آگاہ کردیا ہے کہ ارکان صوبائی اسمبلی کے اربوں روپے کے فنڈز سے ترقیاتی پروگرام جاری ہیں اور ان ٹائونز میں بدنیتی کی بنیاد پر میرٹ پر پورا اترنے والے کنٹریکٹرز کو سارے عمل سے باہر کردیا گیاہے۔
ٹینڈرز جمع کرانے کی آخری تاریخ15نومبر تھی اور 20نومبرکوٹینڈرز دینے کا اعلان کیا جانا تھا، بدنیتی کے باعث زیادہ رقم کی پیشکش قبول کرلی گئی جس سے میرٹ پرپورا اترنے والے کنٹریکٹرز کاحق متاثر ہوا، فاضل بینچ نے 18نومبر کو اس درخواست پر حکم امتناع جاری کردیاتھا، جمعہ کو سماعت کے موقع پر مدعاعلیہان کی جانب سے جواب داخل کرنے کیلیے مہلت طلب کرنے پر عدالت نے سماعت ملتوی کردی، دوسری طرف ٹھکیداروں نے ہائی کورٹ سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ ایم پی اے ترجیحی پروگرام کی تحقیقات نیب سے کرائی جائیں کیونکہ پروجیکٹ ڈائریکٹر شکیب احمد کی طرف سے گلشن اقبال میں قائم نجی بنگلے میں اپنا نجی دفتر قائم کررکھا ہے جہاں سے سارا کام کی نگرانی کی جاتی ہے، نیب اسی دفتر میں اپنا تحقیقاتی مرکز قائم کیا جائے کیونکہ اس دفتر میں سرکاری فائلیں موجود ہیں جس بناہ پر تحقیقات کرنا آسان ہوجائے گا۔