ترکی کا درجنوں میڈیا ادارے بند کرنے کا اعلان 149جنرل اورایڈمرلز معطل
معطل کیے جانے والوں میں 87 فوجی جنرل، 30 ایئرفورس کے جنرل اور32 ایڈمرل شامل ہیں۔
بند کیے جانے والے میڈیا اداروں میں 3 نیوز ایجنسیاں، 16 ٹی وی چینلز جبکہ 15 رسالے شامل ہیں، ترک حکومت. فوٹو: فائل
ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے جب کہ درجنوں میڈیا ادارے بند کرنے کے علاوہ 149 جنرلز اور ایڈمرلز کو معطل کردیا گیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکام کوششوں کے بعد ترک حکومت کی جانب سے ملک بھر میں درجنوں میڈیا ادارے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ترک حکومت کی جانب سے بند کیے جانے والے میڈیا اداروں میں 3 نیوز ایجنسیاں، 16 ٹی وی چینلز جبکہ 15 رسالے شامل ہیں جب کہ فوج کے تقریبا 1700 اہلکارجن میں 149 جنرل اور ایڈمرلز کو ان کے عہدوں سے معطل کیا گیا ہے۔ معطل کیے جانے والوں میں 87 فوجی جنرل، 30 ایئرفورس کے جنرل اور32 ایڈمرل شامل ہیں۔
یہ خبر بھی پڑھیں: ناکام بغاوت میں ملوث 2 ترک جنرلزدبئی ایئرپورٹ سے گرفتار؛ محکمہ مذہبی امورکے 1112 ملازمین برطرف
ترکی میں سرکاری طورپر کسی بھی ایسے میڈیا ادارے کا نام سامنے نہیں آیا جس پرپابندی عائد کردی گئی ہے تاہم مقامی میڈیا کے کے مطابق پابندیوں کا سامنا کرنے والے میڈیا اداروں میں چھوٹے ادارے یا صوبائی سطح پرکام کرنے والے ادارے ہوسکتے ہیں جب کہ بغاوت کے بعد جاری کارروائیوں میں 47 صحافیوں کو حراست میں لینے کے وارنٹ جاری کیے جاچکے ہیں جب کہ اس حکم سے چند دن قبل بھی 42 نامہ نگاروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: ترکی میں 42 صحافیوں کے وارنٹ گرفتاری جاری
واضح رہے کہ کریک ڈاؤن میں اب تک 16 ہزار افراد حراست میں ہیں جبکہ 60 ہزار سرکاری ملازمین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کوبھی معطل کیا جا چکا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکام کوششوں کے بعد ترک حکومت کی جانب سے ملک بھر میں درجنوں میڈیا ادارے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ترک حکومت کی جانب سے بند کیے جانے والے میڈیا اداروں میں 3 نیوز ایجنسیاں، 16 ٹی وی چینلز جبکہ 15 رسالے شامل ہیں جب کہ فوج کے تقریبا 1700 اہلکارجن میں 149 جنرل اور ایڈمرلز کو ان کے عہدوں سے معطل کیا گیا ہے۔ معطل کیے جانے والوں میں 87 فوجی جنرل، 30 ایئرفورس کے جنرل اور32 ایڈمرل شامل ہیں۔
یہ خبر بھی پڑھیں: ناکام بغاوت میں ملوث 2 ترک جنرلزدبئی ایئرپورٹ سے گرفتار؛ محکمہ مذہبی امورکے 1112 ملازمین برطرف
ترکی میں سرکاری طورپر کسی بھی ایسے میڈیا ادارے کا نام سامنے نہیں آیا جس پرپابندی عائد کردی گئی ہے تاہم مقامی میڈیا کے کے مطابق پابندیوں کا سامنا کرنے والے میڈیا اداروں میں چھوٹے ادارے یا صوبائی سطح پرکام کرنے والے ادارے ہوسکتے ہیں جب کہ بغاوت کے بعد جاری کارروائیوں میں 47 صحافیوں کو حراست میں لینے کے وارنٹ جاری کیے جاچکے ہیں جب کہ اس حکم سے چند دن قبل بھی 42 نامہ نگاروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: ترکی میں 42 صحافیوں کے وارنٹ گرفتاری جاری
واضح رہے کہ کریک ڈاؤن میں اب تک 16 ہزار افراد حراست میں ہیں جبکہ 60 ہزار سرکاری ملازمین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کوبھی معطل کیا جا چکا ہے۔