حصص مارکیٹ39800پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت40.11 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر20 کروڑ 37 لاکھ83 ہزار560 حصص کے سودے ہوئے
کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت40.11 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر20 کروڑ 37 لاکھ83 ہزار560 حصص کے سودے ہوئے فوٹو : اے ایف پی
پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں پیرکو تیزی کی بڑی لہر رونما ہوئی جس سے انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، تیزی کے سبب63.42 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں مزید51 ارب27 کروڑ5 لاکھ26 ہزار 414 روپے کا اضافہ ہوگیا۔
ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود مستحکم رکھنے کے فیصلے سے مقامی بینکنگ سیکٹر میں بھی خریداری سرگرمیاں زوروں پر رہیں، سیمنٹ سیکٹر بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہا، کاروبار کے تمام دورانیے میں نہ تو پرافٹ ٹیکنگ دیکھنے میں آئی اور نہ ہی مندی رونما ہوئی جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 271.82 پوائنٹس کے اضافے سے39800.64 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیاجبکہ کے ایس ای30 انڈیکس103.66 پوائنٹس کے اضافے سے 22846.65 ، کے ایم آئی30 انڈیکس135.09 پوائنٹس کے اضافے سے 70234.12 اور کے ایم آئی آل شیئرانڈیکس 129.14 پوائنٹس کے اضافے سے 18488.09 ہوگیا۔
کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت40.11 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر20 کروڑ 37 لاکھ83 ہزار560 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار380 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں241 کے بھاؤ اضافہ، 118 کے داموں میں کمی اور21 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔کراچی(بزنس رپورٹر) حکومت کی جانب سے گزشتہ 2مالی سال کے دوران مقامی ذرائع سے حاصل شدہ قرضوں کی مالیت میں 25فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گزشتہ روز جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مقامی ذرائع سے حاصل کردہ قرضوں اور واجبات کی مالیت جون 2014کے اختتام پر 11ہزار 176ارب روپے تھی جو جون 2016تک بڑھ کر 14ہزار 2ارب روپے کی سطح تک بڑھ چکی ہے۔
مالی سال 2013-14سے مالی سال 2014-15کے دوران مقامی ذرائع سے حاصل شدہ قرضوں اور واجبات کی مالیت میں 1ہزار 374 ارب روپے جبکہ مالی سال 2014-15سے مالی سال 2015-16کے دوران 1ہزار 470 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہیم اس طرح 2 سال کے دوران مقامی ذرائع سے حاصل شدہ قرضوں کی مالیت میں 2ہزار 844ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2014-15کے دوران حکومت نے 927ارب روپے کے مستقل قرضے حاصل کیے جس کے بعد حکومت کے ذمے مقامی ذرائع سے حاصل کردہ مستقل قرضوں کی مالیت 5ہزار 936 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔
حکومت نے گزشتہ مالی سال کے دوران 803ارب روپے کے قرضے بانڈز کے اجرا سے حاصل کیے جن میں 3 سال کی مدت کے لیے 37.5ارب روپے کے اجارہ سکوک اور 766ارب روپے کے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز شامل ہیں، وفاقی حکومت نے مالی سال 2014-15کے دوران پرائز بانڈز کے ذریعے 124ارب روپے کے قرضے حاصل کیے جس کے بعد پرائز بانڈز کے ذریعے حاصل کردہ قرضوں کی مجموعی مالیت 646.4 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، سال 2014-15کے دوران حکومت کے غیرمستقل (فلوٹنگ) قرضوں میں 392ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
فلوٹنگ قرضوں کی مالیت 5ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکی ہے، وفاقی حکومت نے گزشتہ مالی سال کے دوران مارکیٹ ٹریژری بلز کے ذریعے 622.5ارب روپے کے قرضے حاصل کیے جس کے بعد ٹریژری بلز کے ذریعے حاصل کردہ قرضوں کی مجموعی مالیت بھی 2ہزار 771ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، وفاقی حکومت نے گزشتہ مالی سال کے دوران بچت اسکیموں، پوسٹل لائف انشورنس اور جی پی فنڈ کے ذریعے بھی ان فنڈڈ قرضوں کی مد میں 110ارب روپے سے زائد کے قرضے حاصل کیے جس سے ان فنڈڈ قرضوں کی مالیت 2ہزار 680ارب روپے تک پہنچ گئی۔
ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود مستحکم رکھنے کے فیصلے سے مقامی بینکنگ سیکٹر میں بھی خریداری سرگرمیاں زوروں پر رہیں، سیمنٹ سیکٹر بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہا، کاروبار کے تمام دورانیے میں نہ تو پرافٹ ٹیکنگ دیکھنے میں آئی اور نہ ہی مندی رونما ہوئی جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 271.82 پوائنٹس کے اضافے سے39800.64 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیاجبکہ کے ایس ای30 انڈیکس103.66 پوائنٹس کے اضافے سے 22846.65 ، کے ایم آئی30 انڈیکس135.09 پوائنٹس کے اضافے سے 70234.12 اور کے ایم آئی آل شیئرانڈیکس 129.14 پوائنٹس کے اضافے سے 18488.09 ہوگیا۔
کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت40.11 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر20 کروڑ 37 لاکھ83 ہزار560 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار380 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں241 کے بھاؤ اضافہ، 118 کے داموں میں کمی اور21 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔کراچی(بزنس رپورٹر) حکومت کی جانب سے گزشتہ 2مالی سال کے دوران مقامی ذرائع سے حاصل شدہ قرضوں کی مالیت میں 25فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گزشتہ روز جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مقامی ذرائع سے حاصل کردہ قرضوں اور واجبات کی مالیت جون 2014کے اختتام پر 11ہزار 176ارب روپے تھی جو جون 2016تک بڑھ کر 14ہزار 2ارب روپے کی سطح تک بڑھ چکی ہے۔
مالی سال 2013-14سے مالی سال 2014-15کے دوران مقامی ذرائع سے حاصل شدہ قرضوں اور واجبات کی مالیت میں 1ہزار 374 ارب روپے جبکہ مالی سال 2014-15سے مالی سال 2015-16کے دوران 1ہزار 470 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہیم اس طرح 2 سال کے دوران مقامی ذرائع سے حاصل شدہ قرضوں کی مالیت میں 2ہزار 844ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2014-15کے دوران حکومت نے 927ارب روپے کے مستقل قرضے حاصل کیے جس کے بعد حکومت کے ذمے مقامی ذرائع سے حاصل کردہ مستقل قرضوں کی مالیت 5ہزار 936 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔
حکومت نے گزشتہ مالی سال کے دوران 803ارب روپے کے قرضے بانڈز کے اجرا سے حاصل کیے جن میں 3 سال کی مدت کے لیے 37.5ارب روپے کے اجارہ سکوک اور 766ارب روپے کے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز شامل ہیں، وفاقی حکومت نے مالی سال 2014-15کے دوران پرائز بانڈز کے ذریعے 124ارب روپے کے قرضے حاصل کیے جس کے بعد پرائز بانڈز کے ذریعے حاصل کردہ قرضوں کی مجموعی مالیت 646.4 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، سال 2014-15کے دوران حکومت کے غیرمستقل (فلوٹنگ) قرضوں میں 392ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
فلوٹنگ قرضوں کی مالیت 5ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکی ہے، وفاقی حکومت نے گزشتہ مالی سال کے دوران مارکیٹ ٹریژری بلز کے ذریعے 622.5ارب روپے کے قرضے حاصل کیے جس کے بعد ٹریژری بلز کے ذریعے حاصل کردہ قرضوں کی مجموعی مالیت بھی 2ہزار 771ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، وفاقی حکومت نے گزشتہ مالی سال کے دوران بچت اسکیموں، پوسٹل لائف انشورنس اور جی پی فنڈ کے ذریعے بھی ان فنڈڈ قرضوں کی مد میں 110ارب روپے سے زائد کے قرضے حاصل کیے جس سے ان فنڈڈ قرضوں کی مالیت 2ہزار 680ارب روپے تک پہنچ گئی۔