جامعہ کراچی ریشنلائزیشن کمیٹی کا بھرتیوں کے اشتہار پر تحفظات کا اظہار
30ستمبر کواساتذہ کی بھرتیوں کے حوالے سے جاری اشتہار پر عملدرآمد کمیٹی کی رپورٹ تک موخرکیاجائے، اجلاس میں سفارش۔
30ستمبر کواساتذہ کی بھرتیوں کے حوالے سے جاری اشتہار پر عملدرآمد کمیٹی کی رپورٹ تک موخرکیاجائے، اجلاس میں سفارش۔. فوٹو: فائل
جامعہ کراچی کے اراکین سینڈیکیٹ پرمشتمل''ریشنلائزیشن کمیٹی''نے اساتذہ کی بھرتیوں کے دیے گئے اشتہارپر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس پر عمل درآمد روکنے کی سفارش کردی ہے۔
کمیٹی نے اشتہارپرعمل درآمد کوموخرکرتے ہوئے اسے ریشنلائزیشن رپورٹ سے مشروط کرنے کی قرارداد بھی منظور کی ہے، یہ کمیٹی یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ کی جانب سے جامعہ کراچی میں اساتذہ کی تعداداوردستیاب اسامیوں پرمکمل تحقیق کے بعدڈیٹامرتب کیے جانے کے حوالے سے قائم کی گئی تھی۔
تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے سے قبل ہی جلد بازی میں اساتذہ کی بھرتیوں کے حوالے سے اشتہارجاری کردیاگیا، اس سلسلے میں ایک اجلاس جامعہ کراچی کے رکن سینڈیکیٹ اور سینیٹرعبدالحسیب خان کی زیرصدارت منعقدہوا''ایکسپریس''کوجامعہ کراچی کے ایک رکن سینڈیکیٹ نے بتایاکہ سینیٹرعبدالحسیب خان نے دوران اجلاس کمیٹی کی رپورٹ سامنے آئے بغیر اشتہار جاری کیے جانے کے معاملے پرسخت خفگی کا اظہارکیا، اجلاس میں طے کیاگیاکہ 5 ستمبر اور بعدازاں 30 ستمبر کوجاری کیے گئے اشتہارپرعملدرآمدکمیٹی کی رپورٹ تک موخرکیاجائے۔
جبکہ موجودہ اور نئی اسامیوں کوکمیٹی کی رپورٹ کے اجرا کے بعد مشتہرکیاجائے، کمیٹی نے اپنی منظوری کی گئی قرارداد میں کہاکہ اس اثنا میں سابقہ اشتہارپرجلد از جلد عملدرآمد کیا جائے، اجلاس میں پروفیسرفیاض وید نے 2010میں اساتذہ کی بھرتیوں کے جاری کیے گئے اشتہارکاتذکرہ کرتے ہوئے بتایاکہ اساتذہ کے مفاد میں انجمن اساتذہ نے ایچ ای سی کے ایگزیکٹووڈائریکٹرسہیل نقوی سے طویل بات چیت کے بعدقواعد وضوابط میں منطقی تبدیلیاں کرائی تھی۔
کمیٹی کے رکن اورممبرسینڈیکیٹ پروفیسرماجد ممتازکی جانب سے بعض شعبوں میں خالی اسامیوں کومشتہرنہ کیے جانے کی بھی نشاندہی کی گئی، اجلاس میں موجود کمیٹی کے رکن حارث شعیب نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے دیے گئے اشتہارکودرست قراردیتے ہوئے کہاکہ اشتہارمختلف شعبوں میں ترقی کے منتظراورمطلوبہ اہلیت کے حامل اساتذہ کی موجودگی میں جاری کیاگیاہے۔
کمیٹی نے اشتہارپرعمل درآمد کوموخرکرتے ہوئے اسے ریشنلائزیشن رپورٹ سے مشروط کرنے کی قرارداد بھی منظور کی ہے، یہ کمیٹی یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ کی جانب سے جامعہ کراچی میں اساتذہ کی تعداداوردستیاب اسامیوں پرمکمل تحقیق کے بعدڈیٹامرتب کیے جانے کے حوالے سے قائم کی گئی تھی۔
تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے سے قبل ہی جلد بازی میں اساتذہ کی بھرتیوں کے حوالے سے اشتہارجاری کردیاگیا، اس سلسلے میں ایک اجلاس جامعہ کراچی کے رکن سینڈیکیٹ اور سینیٹرعبدالحسیب خان کی زیرصدارت منعقدہوا''ایکسپریس''کوجامعہ کراچی کے ایک رکن سینڈیکیٹ نے بتایاکہ سینیٹرعبدالحسیب خان نے دوران اجلاس کمیٹی کی رپورٹ سامنے آئے بغیر اشتہار جاری کیے جانے کے معاملے پرسخت خفگی کا اظہارکیا، اجلاس میں طے کیاگیاکہ 5 ستمبر اور بعدازاں 30 ستمبر کوجاری کیے گئے اشتہارپرعملدرآمدکمیٹی کی رپورٹ تک موخرکیاجائے۔
جبکہ موجودہ اور نئی اسامیوں کوکمیٹی کی رپورٹ کے اجرا کے بعد مشتہرکیاجائے، کمیٹی نے اپنی منظوری کی گئی قرارداد میں کہاکہ اس اثنا میں سابقہ اشتہارپرجلد از جلد عملدرآمد کیا جائے، اجلاس میں پروفیسرفیاض وید نے 2010میں اساتذہ کی بھرتیوں کے جاری کیے گئے اشتہارکاتذکرہ کرتے ہوئے بتایاکہ اساتذہ کے مفاد میں انجمن اساتذہ نے ایچ ای سی کے ایگزیکٹووڈائریکٹرسہیل نقوی سے طویل بات چیت کے بعدقواعد وضوابط میں منطقی تبدیلیاں کرائی تھی۔
کمیٹی کے رکن اورممبرسینڈیکیٹ پروفیسرماجد ممتازکی جانب سے بعض شعبوں میں خالی اسامیوں کومشتہرنہ کیے جانے کی بھی نشاندہی کی گئی، اجلاس میں موجود کمیٹی کے رکن حارث شعیب نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے دیے گئے اشتہارکودرست قراردیتے ہوئے کہاکہ اشتہارمختلف شعبوں میں ترقی کے منتظراورمطلوبہ اہلیت کے حامل اساتذہ کی موجودگی میں جاری کیاگیاہے۔