بھارتی سیکریٹری خارجہ کو پاکستان آنے کی دعوت

بھارتی پالیسی سازوں کویہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہیےکہ جب تک کشمیرکا تنازع حل نہیں ہوتااس خطےمیں حالات بہتر نہیں ہو سکتے

اقوام متحدہ اس سلسلے میں فریقین کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ فوٹو: فائل

ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تازہ لہر سے حالات بھارت کے قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں جس کے جواب میں مودی سرکار نے پاکستان کے خلاف جارحانہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے تاہم بھارت کی جارحانہ اور اشتعال انگیز پالیسی کے باوجود پاکستان نے بھارتی سیکریٹری خارجہ کو مسئلہ کشمیر کے حل پر بات چیت کے لیے رواں ماہ کے آخر میں دورے کی دعوت دیدی ہے جب کہ بھارت کی سوئی بنیادی طور پر اٹوٹ انگ کے علاوہ نائن الیون کے بعد سے دہشتگردی پر اٹک کر رہ گئی ہے چنانچہ بھارت کا کہنا ہے ٹھیک ہے بات ہو سکتی ہے مگر صرف اور صرف دہشتگردی پر گویا مقبوضہ وادی میں اپنی جانیں نچھاور کرنیوالے نو عمر نوجوان، کمسن بچے اور معصوم دوشیزائیں بھارت کی بے حس حکومت کے نزدیک سب کے سب دہشتگرد ہیں۔

اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کے کوریائی نژاد سیکریٹری جنرل بان کی مون نے علاقائی امن واستحکام اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کومذاکرات کے ذریعے حل کرانے اور بات چیت کی غرض سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے اپنے بھارتی ہم منصب کے خط کا جواب دیتے ہوئے انھیں کشمیر کے تنازع پر بات چیت کے لیے رواں ماہ کے آخر میں اسلام آباد کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔


سیکریٹری خارجہ نے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنرکو بلا کر بھارتی ہم منصب کے نام جوابی خط ان کے حوالے کیا۔ خط میں بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں بیگناہ عوام کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں فوری روکنے اور زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری کو وزیراعظم نوازشریف نے اسی سلسلے میں خط لکھا تھا جس کے جواب میں بان کی مون نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تمام تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں مگر علاقائی امن کے لیے مسئلہ کشمیرکا حل ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ اس سلسلے میں فریقین کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ دریں اثنا جمعہ کے دن مقبوضہ وادی میں احتجاجی جلوس روکنے کے لیے سڑکوں پر ناکے لگا دیے گئے اور سید گیلانی اور میر واعظ کو دوبارہ نظر بند کر دیا گیا جب کہ چالیس مظاہرین زخمی ہو گئے۔ بھارت کی مسلسل اشتعال انگیزیوں اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے باوجود پاکستان نے نیک نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیکریٹری سطح کے مذاکرات کی بحالی کی پیشکش کی ہے۔

اصولاً بھارت کو یہ پیشکش قبول کر لینی چاہیے تاکہ جنوبی ایشیا میں قیام امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ بھارتی پالیسی سازوں کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ جب تک کشمیر کا تنازع حل نہیں ہوتا اس خطے میں حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ بھارت کو ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے تاکہ متنازعہ معاملات کو پرامن ذرائع سے حل کیا جا سکے۔
Load Next Story