بے نظیر یونیورسٹی انٹری ٹیسٹ میں منظور نظر امیدواروں کیلئے خصوصی انتظامات
داخلوں کے ٹیسٹ میں 4سو افراد کی شرکت، بااثر اور سفارشی امیدوار الگ پورشن میں بٹھائے گئے ، اساتذہ جوابات بتاتے رہے
یونیورسٹی انتظامیہ نے بااثر سیاسی شخصیات کے فرزندگان، اثر رسوخ رکھنے والوں اور من پسند امیدواروں کے لیے ایک علیحدہ پورشن مخصوص کرکے ان سے وہاں ٹیسٹ لیا. فوٹو: ایکسپریس
شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں داخلوں کیلیے انٹری ٹیسٹ کا انعقاد، منظور نظر اور سفارشی امیدواروں کیلیے یونیورسٹی انتظامیہ نے علیحدہ انتظامات کیے۔
اساتذہ ان امیدواران کو انٹری ٹیسٹ میں جوابات بھی بتاتے رہے۔ وائس چانسلر میڈیا کو دیکھ کر برس پڑے، کیمرہ مینوں اور صحافیوں کو دھمکیاں دیں اور انٹری ٹیسٹ کے حال اور یونیورسٹی سے باہر نکلوا دیا۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کی صبح شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی میں بی بی اے، بی ایس انگلش، بی ایس کیمسٹری، بی ایس ایجوکیشن کے ریگیولر پروگرامز اور ایم بی اے ایوننگ پروگرام میں داخلے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنی نگرانی میں انٹری ٹیسٹ منعقد کرائے جس میں 400امیدواران نے شرکت کی۔
ٹیسٹ دینے کے لیے آئے امیدواران کی سہولت کے لیے کوئی انتظامات نہیں تھے، امیدواران کی رہنمائی کے لیے نہ ہی ہیلپ ڈیسک قائم کی گئی اور نہ ہی ان کے لیے پینے کے پانی کا انتظام تھا۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے بااثر سیاسی شخصیات کے فرزندگان، اثر رسوخ رکھنے والوں اور من پسند امیدواروں کے لیے ایک علیحدہ پورشن مخصوص کرکے ان سے وہاں ٹیسٹ لیا جہاں ان امیدواران کی رہنمائی کے لیے یونیورسٹی کے اساتذہ موجود تھے جو ان امیدواران کی انٹری ٹیسٹ میں دیے گئے سوالات کے جوابات بتاتے رہے۔
انتہائی وی آئی پی امیدواروں کی اطلاعات پر جب میڈیا نمائندے یونیورسٹی پہنچے اور خصوصی ہال میںجانے لگے تو وائس چانسلر ارشد سلیم میڈیا پر برس پڑے اور یونیورسٹی ملازمین کو سختی سے ڈانٹ پلائی اور پوچھا کہ میڈیا کو کیسے جانے دیا گیا وائس چانسلر کے حکم پر کیمرہ مینوں اور صحافیوں کو یونیورسٹی سے باہر نکال دیا گیا، صحافیوں نے جب احتجاج کیا تو وائس چانسلر نے توہین آمیز رویہاختیار کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر کسی نے یونیورسٹی میں داخل ہونے کی کوشش کی تو سیکیورٹی گارڈز کے ذریعے دھکے دے کر نکال دیا جائے گا۔ دوسری جانب اس سلسلے میں جب یونیورسٹی کے پی آر او کاشف نورانی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے خصوصی امیدواران کے لیے علیحدہ ہال منعقد کرنے کی تردید کی اور اسے محض الزام قرار دیا۔
اساتذہ ان امیدواران کو انٹری ٹیسٹ میں جوابات بھی بتاتے رہے۔ وائس چانسلر میڈیا کو دیکھ کر برس پڑے، کیمرہ مینوں اور صحافیوں کو دھمکیاں دیں اور انٹری ٹیسٹ کے حال اور یونیورسٹی سے باہر نکلوا دیا۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کی صبح شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی میں بی بی اے، بی ایس انگلش، بی ایس کیمسٹری، بی ایس ایجوکیشن کے ریگیولر پروگرامز اور ایم بی اے ایوننگ پروگرام میں داخلے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنی نگرانی میں انٹری ٹیسٹ منعقد کرائے جس میں 400امیدواران نے شرکت کی۔
ٹیسٹ دینے کے لیے آئے امیدواران کی سہولت کے لیے کوئی انتظامات نہیں تھے، امیدواران کی رہنمائی کے لیے نہ ہی ہیلپ ڈیسک قائم کی گئی اور نہ ہی ان کے لیے پینے کے پانی کا انتظام تھا۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے بااثر سیاسی شخصیات کے فرزندگان، اثر رسوخ رکھنے والوں اور من پسند امیدواروں کے لیے ایک علیحدہ پورشن مخصوص کرکے ان سے وہاں ٹیسٹ لیا جہاں ان امیدواران کی رہنمائی کے لیے یونیورسٹی کے اساتذہ موجود تھے جو ان امیدواران کی انٹری ٹیسٹ میں دیے گئے سوالات کے جوابات بتاتے رہے۔
انتہائی وی آئی پی امیدواروں کی اطلاعات پر جب میڈیا نمائندے یونیورسٹی پہنچے اور خصوصی ہال میںجانے لگے تو وائس چانسلر ارشد سلیم میڈیا پر برس پڑے اور یونیورسٹی ملازمین کو سختی سے ڈانٹ پلائی اور پوچھا کہ میڈیا کو کیسے جانے دیا گیا وائس چانسلر کے حکم پر کیمرہ مینوں اور صحافیوں کو یونیورسٹی سے باہر نکال دیا گیا، صحافیوں نے جب احتجاج کیا تو وائس چانسلر نے توہین آمیز رویہاختیار کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر کسی نے یونیورسٹی میں داخل ہونے کی کوشش کی تو سیکیورٹی گارڈز کے ذریعے دھکے دے کر نکال دیا جائے گا۔ دوسری جانب اس سلسلے میں جب یونیورسٹی کے پی آر او کاشف نورانی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے خصوصی امیدواران کے لیے علیحدہ ہال منعقد کرنے کی تردید کی اور اسے محض الزام قرار دیا۔