امریکی کمپنی کا خمیر سے صحت مند دودھ تیار کرنے کا دعویٰ
دودھ میں قدرتی طور پر پائے جانے والے تمام اجزاء موجود ہیں، کمپنی کا دعویٰ
دودھ میں قدرتی طور پر پائے جانے والے تمام اجزاء موجود ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ، فوٹو؛ فائل
برکلے کی فوڈ ٹیکنالوجی کمپنی ''پرفیکٹ ڈے'' نے دودھ کا ایک ایسا متبادل تیار کرلیا ہے جس میں دودھ کے تمام پروٹین موجود ہیں لیکن اسے گائے کے بجائے خمیر سے حاصل کیا جاتا ہے۔
اس میں لیکٹوز اور کولیسٹرول کے سوا دودھ میں قدرتی طور پر پائے جانے والے تمام اجزاء موجود ہیں۔ لیکٹوز ایک قسم کی شکر ہے جو قدرتی دودھ میں پائی جاتی ہے جس سے بعض لوگوں کو الرجی ہوتی ہے۔ اس وقت بھی دودھ کی متبادل غذائیں (فوڈ سپلیمنٹس) دستیاب ہیں مگر انہیں تیار کرنے کے لیے سویابین، بادام اور چاول وغیرہ استعمال کیے جاتے ہیں۔
پرفیکٹ ڈے کا تیار کردہ مصنوعی دودھ اس اعتبار سے مختلف ہے کیونکہ اسے خمیر سے حاصل کیا جاتا ہے۔ البتہ دودھ میں شامل اہم پروٹین (خاص کر کیسین) خارج کرنے اور بنانے کے لیے خمیر کے خلیات کو جینیٹک انجینئرنگ کے ذریعے تبدیل کیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نئے مصنوعی دودھ کی تیاری ماحول دوست بھی ہے کیونکہ اسے بنانے کے لiے کم توانائی، کم پانی اور کم رقبے پر خمیر کاشت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
مصنوعی دودھ کو حتمی شکل دینے کے لیے اس میں وہ دوسرے وٹامن اور معدنیات شامل کیے جاتے ہیں جو قدرتی دودھ میں پائے جاتے ہیں۔ البتہ یہ تمام اجزاء بھی پودوں ہی سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ پرفیکٹ ڈے کا منصوبہ ہے کہ مصنوعی دودھ کی یہی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے مصنوعی دہی اور مصنوعی پنیر بھی تیار کیے جائیں۔
اس میں لیکٹوز اور کولیسٹرول کے سوا دودھ میں قدرتی طور پر پائے جانے والے تمام اجزاء موجود ہیں۔ لیکٹوز ایک قسم کی شکر ہے جو قدرتی دودھ میں پائی جاتی ہے جس سے بعض لوگوں کو الرجی ہوتی ہے۔ اس وقت بھی دودھ کی متبادل غذائیں (فوڈ سپلیمنٹس) دستیاب ہیں مگر انہیں تیار کرنے کے لیے سویابین، بادام اور چاول وغیرہ استعمال کیے جاتے ہیں۔
پرفیکٹ ڈے کا تیار کردہ مصنوعی دودھ اس اعتبار سے مختلف ہے کیونکہ اسے خمیر سے حاصل کیا جاتا ہے۔ البتہ دودھ میں شامل اہم پروٹین (خاص کر کیسین) خارج کرنے اور بنانے کے لیے خمیر کے خلیات کو جینیٹک انجینئرنگ کے ذریعے تبدیل کیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نئے مصنوعی دودھ کی تیاری ماحول دوست بھی ہے کیونکہ اسے بنانے کے لiے کم توانائی، کم پانی اور کم رقبے پر خمیر کاشت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
مصنوعی دودھ کو حتمی شکل دینے کے لیے اس میں وہ دوسرے وٹامن اور معدنیات شامل کیے جاتے ہیں جو قدرتی دودھ میں پائے جاتے ہیں۔ البتہ یہ تمام اجزاء بھی پودوں ہی سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ پرفیکٹ ڈے کا منصوبہ ہے کہ مصنوعی دودھ کی یہی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے مصنوعی دہی اور مصنوعی پنیر بھی تیار کیے جائیں۔